Amor de casal
O amor de casal é celebrado na Bíblia como dom sagrado. O Cântico dos Cânticos exalta a beleza do amor conjugal — íntimo, exclusivo e forte como a morte.
مجھے مُہر کی طرح اپنے دل پر، اپنے بازو پر لگائے رکھ! کیونکہ محبت موت جیسی طاقت ور، اور اُس کی سرگرمی پاتال جیسی بےلچک ہے۔ وہ دہکتی آگ، رب کا بھڑکتا شعلہ ہے۔
پانی کا بڑا سیلاب بھی محبت کو بجھا نہیں سکتا، بڑے دریا بھی اُسے بہا کر لے جا نہیں سکتے۔ اور اگر کوئی محبت کو پانے کے لئے اپنے گھر کی تمام دولت پیش بھی کرے توبھی اُسے جواب میں حقیر ہی جانا جائے گا۔
میری بہن، میری دُلھن، تُو نے میرا دل چُرا لیا ہے، اپنی آنکھوں کی ایک ہی نظر سے، اپنے گلوبند کے ایک ہی جوہر سے تُو نے میرا دل چُرا لیا ہے۔
وہ مجھے اپنے منہ سے بوسے دے، کیونکہ تیری محبت مَے سے کہیں زیادہ راحت بخش ہے۔
تیری عطر کی خوشبو کتنی من موہن ہے، تیرا نام چھڑکا گیا مہک دار تیل ہی ہے۔ اِس لئے کنواریاں تجھے پیار کرتی ہیں۔
میری محبوبہ، تُو کتنی خوب صورت ہے، کتنی حسین! تیری آنکھیں کبوتر ہی ہیں۔
میرے محبوب، تُو کتنا خوب صورت ہے، کتنا دل رُبا! سایہ دار ہریالی ہمارا بستر
رب خدا نے کہا، "اچھا نہیں کہ آدمی اکیلا رہے۔ مَیں اُس کے لئے ایک مناسب مددگار بناتا ہوں۔"
پسلی سے اُس نے عورت بنائی اور اُسے آدمی کے پاس لے آیا۔ اُسے دیکھ کر وہ پکار اُٹھا، "واہ! یہ تو مجھ جیسی ہی ہے، میری ہڈیوں میں سے ہڈی اور میرے گوشت میں سے گوشت ہے۔ اِس کا نام ناری رکھا جائے کیونکہ وہ نر سے نکالی گئی ہے۔" اِس لئے مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر اپنی بیوی کے ساتھ پیوست ہو جاتا ہے، اور وہ دونوں ایک ہو جاتے ہیں۔
جسے بیوی ملی اُسے اچھی نعمت ملی، اور اُسے رب کی منظوری حاصل ہوئی۔
تیرا چشمہ مبارک ہو۔ ہاں، اپنی بیوی سے خوش رہ۔ وہی تیری من موہن ہرنی اور دل رُبا غزال ہے۔ اُسی کا پیار تجھے تر و تازہ کرے، اُسی کی محبت تجھے ہمیشہ مست رکھے۔
میرے بیٹے، تُو اجنبی عورت سے کیوں مست ہو جائے، کسی دوسرے کی بیوی سے کیوں لپٹ جائے؟
یوں وہ کلامِ مُقدّس کے مطابق دو نہیں رہتے بلکہ ایک ہو جاتے ہیں۔ جسے اللہ نے جوڑا ہے اُسے انسان جدا نہ کرے۔"
محبت صبر سے کام لیتی ہے، محبت مہربان ہے۔ نہ یہ حسد کرتی ہے نہ ڈینگیں مارتی ہے۔ یہ پھولتی بھی نہیں۔ محبت بدتمیزی نہیں کرتی نہ اپنے ہی فائدے کی تلاش میں رہتی ہے۔ یہ جلدی سے غصے میں نہیں آ جاتی اور دوسروں کی غلطیوں کا ریکارڈ نہیں رکھتی۔ یہ ناانصافی دیکھ کر خوش نہیں ہوتی بلکہ سچائی کے غالب آنے پر ہی خوشی مناتی ہے۔ یہ ہمیشہ دوسروں کی کمزوریاں برداشت کرتی ہے، ہمیشہ اعتماد کرتی ہے، ہمیشہ اُمید رکھتی ہے، ہمیشہ ثابت قدم رہتی ہے۔
شوہروں کا فرض ہے کہ وہ اپنی بیویوں سے ایسی ہی محبت رکھیں۔ ہاں، وہ اُن سے ویسی محبت رکھیں جیسی اپنے جسم سے رکھتے ہیں۔ کیونکہ جو اپنی بیوی سے محبت رکھتا ہے وہ اپنے آپ سے ہی محبت رکھتا ہے۔ آخر کوئی بھی اپنے جسم سے نفرت نہیں کرتا بلکہ اُسے خوراک مہیا کرتا اور پالتا ہے۔ مسیح بھی اپنی جماعت کے لئے یہی کچھ کرتا ہے۔
لیکن اِس کا اطلاق آپ پر بھی ہے۔ ہر شوہر اپنی بیوی سے اِس طرح محبت رکھے جس طرح وہ اپنے آپ سے رکھتا ہے۔ اور ہر بیوی اپنے شوہر کی عزت کرے۔
اِن کے علاوہ محبت بھی پہن لیں جو سب کچھ باندھ کر کاملیت کی طرف لے جاتی ہے۔
دو ایک سے بہتر ہیں، کیونکہ اُنہیں اپنے کام کاج کا اچھا اجر ملے گا۔ اگر ایک گر جائے تو اُس کا ساتھی اُسے دوبارہ کھڑا کرے گا۔ لیکن اُس پر افسوس جو گر جائے اور کوئی ساتھی نہ ہو جو اُسے دوبارہ کھڑا کرے۔ نیز، جب دو سردیوں کے موسم میں مل کر بستر پر لیٹ جائیں تو وہ گرم رہتے ہیں۔ جو تنہا ہے وہ کس طرح گرم ہو جائے گا؟ ایک شخص پر قابو پایا جا سکتا ہے جبکہ دو مل کر اپنا دفاع کر سکتے ہیں۔ تین لڑیوں والی رسّی جلدی سے نہیں ٹوٹتی۔
کیا رب نے شوہر اور بیوی کو ایک نہیں بنایا، ایک جسم جس میں روح ہے؟ اور یہ ایک جسم کیا چاہتا ہے؟ اللہ کی طرف سے اولاد۔ چنانچہ اپنی روح میں خبردار رہو! اپنی بیوی سے بےوفا نہ ہو جا!
مزید ہدایات
اگر کسی آدمی نے ابھی ابھی شادی کی ہو تو تُو اُسے بھرتی کر کے جنگ کرنے کے لئے نہیں بھیج سکتا۔ تُو اُسے کوئی بھی ایسی ذمہ داری نہیں دے سکتا، جس سے وہ گھر سے دُور رہنے پر مجبور ہو جائے۔ ایک سال تک وہ ایسی ذمہ داریوں سے بَری رہے تاکہ گھر میں رہ کر اپنی بیوی کو خوش کر سکے۔