Amor verdadeiro
O amor verdadeiro vem de Deus. Não é emoção passageira — é decisão, sacrifício e compromisso eterno. O perfeito amor lança fora o medo e nunca deixará de existir.
کیونکہ اللہ نے دنیا سے اِتنی محبت رکھی کہ اُس نے اپنے اکلوتے فرزند کو بخش دیا، تاکہ جو بھی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ابدی زندگی پائے۔
مَیں تم کو ایک نیا حکم دیتا ہوں، یہ کہ ایک دوسرے سے محبت رکھو۔ جس طرح مَیں نے تم سے محبت رکھی اُسی طرح تم بھی ایک دوسرے سے محبت کرو۔ اگر تم ایک دوسرے سے محبت رکھو گے تو سب جان لیں گے کہ تم میرے شاگرد ہو۔"
لیکن اللہ نے ہم سے اپنی محبت کا اظہار یوں کیا کہ مسیح نے اُس وقت ہماری خاطر اپنی جان دی جب ہم گناہ گار ہی تھے۔
کیونکہ مجھے یقین ہے کہ ہمیں اُس کی محبت سے کوئی چیز جدا نہیں کر سکتی: نہ موت اور نہ زندگی، نہ فرشتے اور نہ حکمران، نہ حال اور نہ مستقبل، نہ طاقتیں، نہ نشیب اور نہ فراز، نہ کوئی اَور مخلوق ہمیں اللہ کی اُس محبت سے جدا کر سکے گی جو ہمیں ہمارے خداوند مسیح عیسیٰ میں حاصل ہے۔
جو کسی سے محبت رکھتا ہے وہ اُس سے غلط سلوک نہیں کرتا۔ یوں محبت شریعت کے تمام تقاضے پورے کرتی ہے۔
محبت صبر سے کام لیتی ہے، محبت مہربان ہے۔ نہ یہ حسد کرتی ہے نہ ڈینگیں مارتی ہے۔ یہ پھولتی بھی نہیں۔ محبت بدتمیزی نہیں کرتی نہ اپنے ہی فائدے کی تلاش میں رہتی ہے۔ یہ جلدی سے غصے میں نہیں آ جاتی اور دوسروں کی غلطیوں کا ریکارڈ نہیں رکھتی۔ یہ ناانصافی دیکھ کر خوش نہیں ہوتی بلکہ سچائی کے غالب آنے پر ہی خوشی مناتی ہے۔ یہ ہمیشہ دوسروں کی کمزوریاں برداشت کرتی ہے، ہمیشہ اعتماد کرتی ہے، ہمیشہ اُمید رکھتی ہے، ہمیشہ ثابت قدم رہتی ہے۔
محبت کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اِس کے مقابلے میں نبوّتیں ختم ہو جائیں گی، غیرزبانیں جاتی رہیں گی، علم مٹ جائے گا۔
جو محبت نہیں رکھتا وہ اللہ کو نہیں جانتا، کیونکہ اللہ محبت ہے۔
محبت میں خوف نہیں ہوتا بلکہ کامل محبت خوف کو بھگا دیتی ہے، کیونکہ خوف کے پیچھے سزا کا ڈر ہے۔ جو ڈرتا ہے اُس کی محبت تکمیل تک نہیں پہنچی۔
کیونکہ اللہ سے محبت سے مراد یہ ہے کہ ہم اُس کے احکام پر عمل کریں۔ اور اُس کے احکام ہمارے لئے بوجھ کا باعث نہیں ہیں،
روح القدس کا پھل فرق ہے۔ وہ محبت، خوشی، صلح سلامتی، صبر، مہربانی، نیکی، وفاداری،