Arca de noé
A arca de Noé é história de salvação e fidelidade. Deus instruiu Noé a construir a arca para salvar sua família e os animais do dilúvio — exemplo supremo de obediência e fé.
تب اللہ نے نوح سے کہا، "مَیں نے تمام جانداروں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ اُن کے سبب سے پوری دنیا ظلم و تشدد سے بھر گئی ہے۔ چنانچہ مَیں اُن کو زمین سمیت تباہ کر دوں گا۔ اب اپنے لئے سرو کی لکڑی کی کشتی بنا لے۔ اُس میں کمرے ہوں اور اُسے اندر اور باہر تارکول لگا۔ اُس کی لمبائی 450 فٹ، چوڑائی 75 فٹ اور اونچائی 45 فٹ ہو۔ کشتی کی چھت کو یوں بنانا کہ اُس کے نیچے 18 انچ کھلا رہے۔ ایک طرف دروازہ ہو، اور اُس کی تین منزلیں ہوں۔
پھر رب نے نوح سے کہا، "اپنے گھرانے سمیت کشتی میں داخل ہو جا، کیونکہ اِس دور کے لوگوں میں سے مَیں نے صرف تجھے راست باز پایا ہے۔
طوفانی سیلاب سے بچنے کے لئے نوح اپنے بیٹوں، اپنی بیوی اور بہوؤں کے ساتھ کشتی میں سوار ہوا۔ زمین پر پھرنے والے پاک اور ناپاک جانور، پَر رکھنے والے اور تمام رینگنے والے جانور بھی آئے۔ نر و مادہ کی صورت میں دو دو ہو کر وہ نوح کے پاس آ کر کشتی میں سوار ہوئے۔ سب کچھ ویسا ہی ہوا جیسا اللہ نے نوح کو حکم دیا تھا۔ ایک ہفتے کے بعد طوفانی سیلاب زمین پر آ گیا۔
نر و مادہ آئے تھے۔ سب کچھ ویسا ہی ہوا تھا جیسا اللہ نے نوح کو حکم دیا تھا۔ پھر رب نے دروازے کو بند کر دیا۔
چالیس دن تک طوفانی سیلاب جاری رہا۔ پانی چڑھا تو اُس نے کشتی کو زمین پر سے اُٹھا لیا۔ پانی زور پکڑ کر بہت بڑھ گیا، اور کشتی اُس پر تیرنے لگی۔
یوں ہر مخلوق کو رُوئے زمین پر سے مٹا دیا گیا۔ انسان، زمین پر پھرنے اور رینگنے والے جانور اور پرندے، سب کچھ ختم کر دیا گیا۔ صرف نوح اور کشتی میں سوار اُس کے ساتھی بچ گئے۔
پانی گھٹتا گیا۔ 150 دن کے بعد وہ کافی کم ہو گیا تھا۔ ساتویں مہینے کے 17 ویں دن کشتی اراراط کے ایک پہاڑ پر ٹک گئی۔
چالیس دن کے بعد نوح نے کشتی کی کھڑکی کھول کر ایک کوّا چھوڑ دیا، اور وہ اُڑ کر چلا گیا۔ لیکن جب تک زمین پر پانی تھا وہ آتا جاتا رہا۔ پھر نوح نے ایک کبوتر چھوڑ دیا تاکہ پتا چلے کہ زمین پانی سے نکل آئی ہے یا نہیں۔ لیکن کبوتر کو کہیں بھی بیٹھنے کی جگہ نہ ملی، کیونکہ اب تک پوری زمین پر پانی ہی پانی تھا۔ وہ کشتی اور نوح کے پاس واپس آ گیا، اور نوح نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور کبوتر کو پکڑ کر اپنے پاس کشتی میں رکھ لیا۔
اُس نے ایک ہفتہ اَور انتظار کر کے کبوتر کو دوبارہ چھوڑ دیا۔ شام کے وقت وہ لوٹ آیا۔ اِس دفعہ اُس کی چونچ میں زیتون کا تازہ پتا تھا۔ تب نوح کو معلوم ہوا کہ زمین پانی سے نکل آئی ہے۔
اُس نے مزید ایک ہفتے کے بعد کبوتر کو چھوڑ دیا۔ اِس دفعہ وہ واپس نہ آیا۔
جب نوح 601 سال کا تھا تو پہلے مہینے کے پہلے دن زمین کی سطح پر پانی ختم ہو گیا۔ تب نوح نے کشتی کی چھت کھول دی اور دیکھا کہ زمین کی سطح پر پانی نہیں ہے۔
پھر اللہ نے نوح سے کہا، "اپنی بیوی، بیٹوں اور بہوؤں کے ساتھ کشتی سے نکل آ۔ جتنے بھی جانور ساتھ ہیں اُنہیں نکال دے، خواہ پرندے ہوں، خواہ زمین پر پھرنے یا رینگنے والے جانور۔ وہ دنیا میں پھیل جائیں، نسل بڑھائیں اور تعداد میں بڑھتے جائیں۔"
تب اللہ نے نوح اور اُس کے بیٹوں سے کہا، "اب مَیں تمہارے اور تمہاری اولاد کے ساتھ عہد قائم کرتا ہوں۔ یہ عہد اُن تمام جانوروں کے ساتھ بھی ہو گا جو کشتی میں سے نکلے ہیں یعنی پرندوں، مویشیوں اور زمین پر کے تمام جانوروں کے ساتھ۔ مَیں تمہارے ساتھ عہد باندھ کر وعدہ کرتا ہوں کہ اب سے ایسا کبھی نہیں ہو گا کہ زمین کی تمام زندگی سیلاب سے ختم کر دی جائے گی۔ اب سے ایسا سیلاب کبھی نہیں آئے گا جو پوری زمین کو تباہ کر دے۔
مَیں اپنی کمان بادلوں میں رکھتا ہوں۔ وہ میرے دنیا کے ساتھ عہد کا نشان ہو گا۔
یہ ایمان کا کام تھا کہ نوح نے اللہ کی سنی جب اُس نے اُسے آنے والی باتوں کے بارے میں آگاہ کیا، ایسی باتوں کے بارے میں جو ابھی دیکھنے میں نہیں آئی تھیں۔ نوح نے خدا کا خوف مان کر ایک کشتی بنائی تاکہ اُس کا خاندان بچ جائے۔ یوں اُس نے اپنے ایمان کے ذریعے دنیا کو مجرم قرار دیا اور اُس راست بازی کا وارث بن گیا جو ایمان سے حاصل ہوتی ہے۔
یہ اُن کی روحیں تھیں جو اُن دنوں میں نافرمان تھے جب نوح اپنی کشتی بنا رہا تھا۔ اُس وقت اللہ صبر سے انتظار کرتا رہا، لیکن آخرکار صرف چند ایک لوگ یعنی آٹھ افراد پانی میں سے گزر کر بچ نکلے۔ یہ پانی اُس بپتسمے کی طرف اشارہ ہے جو اِس وقت آپ کو نجات دلاتا ہے۔ اِس سے جسم کی گندگی دُور نہیں کی جاتی بلکہ بپتسمہ لیتے وقت ہم اللہ سے عرض کرتے ہیں کہ وہ ہمارا ضمیر پاک صاف کر دے۔ پھر یہ آپ کو عیسیٰ مسیح کے جی اُٹھنے سے نجات دلاتا ہے۔ اب مسیح آسمان پر جا کر اللہ کے دہنے ہاتھ بیٹھ گیا ہے جہاں فرشتے، اختیار والے اور قوتیں اُس کے تابع ہیں۔
جب ابنِ آدم آئے گا تو حالات نوح کے دنوں جیسے ہوں گے۔ کیونکہ سیلاب سے پہلے کے دنوں میں لوگ اُس وقت تک کھاتے پیتے اور شادیاں کرتے کراتے رہے جب تک نوح کشتی میں داخل نہ ہو گیا۔ وہ اُس وقت تک آنے والی مصیبت کے بارے میں لا علم رہے جب تک سیلاب آ کر اُن سب کو بہا نہ لے گیا۔ جب ابنِ آدم آئے گا تو اِسی قسم کے حالات ہوں گے۔ اُس وقت دو افراد کھیت میں ہوں گے، ایک کو ساتھ لے لیا جائے گا جبکہ دوسرے کو پیچھے چھوڑ دیا جائے گا۔ دو خواتین چکّی پر گندم پیس رہی ہوں گی، ایک کو ساتھ لے لیا جائے گا جبکہ دوسری کو پیچھے چھوڑ دیا جائے گا۔