A carne
A carne representa a natureza pecaminosa que milita contra o Espírito. A Bíblia ensina que os que pertencem a Cristo crucificaram a carne com suas paixões e desejos.
Carne versus Espírito
Os que são segundo a carne inclinam-se para as coisas da carne. O nascido da carne é carne; o nascido do Espírito é Espírito.
جو پرانی فطرت کے اختیار میں ہیں وہ پرانی سوچ رکھتے ہیں جبکہ جو روح کے اختیار میں ہیں وہ روحانی سوچ رکھتے ہیں۔ پرانی فطرت کی سوچ کا انجام موت ہے جبکہ روح کی سوچ زندگی اور سلامتی پیدا کرتی ہے۔ پرانی فطرت کی سوچ اللہ سے دشمنی رکھتی ہے۔ یہ اپنے آپ کو اللہ کی شریعت کے تابع نہیں رکھتی، نہ ہی ایسا کر سکتی ہے۔ اِس لئے وہ لوگ اللہ کو پسند نہیں آ سکتے جو پرانی فطرت کے اختیار میں ہیں۔
لیکن آپ پرانی فطرت کے اختیار میں نہیں بلکہ روح کے اختیار میں ہیں۔ شرط یہ ہے کہ روح القدس آپ میں بسا ہوا ہو۔ اگر کسی میں مسیح کا روح نہیں تو وہ مسیح کا نہیں۔
اب جو مسیح عیسیٰ میں ہیں اُنہیں مجرم نہیں ٹھہرایا جاتا۔ کیونکہ روح کی شریعت نے جو ہمیں مسیح میں زندگی عطا کرتی ہے تجھے گناہ اور موت کی شریعت سے آزاد کر دیا ہے۔ موسوی شریعت ہماری پرانی فطرت کی کمزور حالت کی وجہ سے ہمیں نہ بچا سکی۔ اِس لئے اللہ نے وہ کچھ کیا جو شریعت کے بس میں نہ تھا۔ اُس نے اپنا فرزند بھیج دیا تاکہ وہ گناہ گار کا سا جسم اختیار کر کے ہمارے گناہوں کا کفارہ دے۔ اِس طرح اللہ نے پرانی فطرت میں موجود گناہ کو مجرم ٹھہرایا تاکہ ہم میں شریعت کا تقاضا پورا ہو جائے، ہم جو پرانی فطرت کے مطابق نہیں بلکہ روح کے مطابق چلتے ہیں۔
کیونکہ اگر آپ اپنی پرانی فطرت کے مطابق زندگی گزاریں تو آپ ہلاک ہو جائیں گے۔ لیکن اگر آپ روح القدس کی قوت سے اپنی پرانی فطرت کے غلط کاموں کو نیست و نابود کریں تو پھر آپ زندہ رہیں گے۔ جس کی بھی راہنمائی روح القدس کرتا ہے وہ اللہ کا فرزند ہے۔
چنانچہ مجھے ایک اَور طرح کی شریعت کام کرتی ہوئی نظر آتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ جب مَیں نیک کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں تو بُرائی آ موجود ہوتی ہے۔ ہاں، اپنے باطن میں تو مَیں خوشی سے اللہ کی شریعت کو مانتا ہوں۔ لیکن مجھے اپنے اعضا میں ایک اَور طرح کی شریعت دکھائی دیتی ہے، ایسی شریعت جو میری سمجھ کی شریعت کے خلاف لڑ کر مجھے گناہ کی شریعت کا قیدی بنا دیتی ہے، اُس شریعت کا جو میرے اعضا میں موجود ہے۔
کیونکہ جب ہم اپنی پرانی فطرت کے تحت زندگی گزارتے تھے تو شریعت ہماری گناہ آلودہ رغبتوں کو اُکساتی تھی۔ پھر یہی رغبتیں ہمارے اعضا پر اثرانداز ہوتی تھیں اور نتیجے میں ہم ایسا پھل لاتے تھے جس کا انجام موت ہے۔
جو کچھ جسم سے پیدا ہوتا ہے وہ جسمانی ہے، لیکن جو روح سے پیدا ہوتا ہے وہ روحانی ہے۔
اللہ کا روح ہی زندہ کرتا ہے جبکہ جسمانی طاقت کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جو باتیں مَیں نے تم کو بتائی ہیں وہ روح اور زندگی ہیں۔
Vencer a carne
Andai no Espírito e não cumprireis os desejos da carne. Os que são de Cristo crucificaram a carne com suas paixões.
مَیں تو یہ کہتا ہوں کہ روح القدس میں زندگی گزاریں۔ پھر آپ اپنی پرانی فطرت کی خواہشات پوری نہیں کریں گے۔
جو کام پرانی فطرت کرتی ہے وہ صاف ظاہر ہوتا ہے۔ مثلاً زناکاری، ناپاکی، عیاشی، بُت پرستی، جادوگری، دشمنی، جھگڑا، حسد، غصہ، خود غرضی، اَن بن، پارٹی بازی، جلن، نشہ بازی، رنگ رلیاں وغیرہ۔ مَیں پہلے بھی آپ کو آگاہ کر چکا ہوں، لیکن اب ایک بار پھر کہتا ہوں کہ جو اِس طرح کی زندگی گزارتے ہیں وہ اللہ کی بادشاہی میراث میں نہیں پائیں گے۔
اور جو مسیح عیسیٰ کے ہیں اُنہوں نے اپنی پرانی فطرت کو اُس کی رغبتوں اور بُری خواہشوں سمیت مصلوب کر دیا ہے۔
بھائیو، آپ کو آزاد ہونے کے لئے بُلایا گیا ہے۔ لیکن خبردار رہیں کہ اِس آزادی سے آپ کی گناہ آلودہ فطرت کو عمل میں آنے کا موقع نہ ملے۔ اِس کے بجائے محبت کی روح میں ایک دوسرے کی خدمت کریں۔
جو اپنی پرانی فطرت کے کھیت میں بیج بوئے وہ ہلاکت کی فصل کاٹے گا۔ اور جو روح القدس کے کھیت میں بیج بوئے وہ ابدی زندگی کی فصل کاٹے گا۔
کیونکہ جو بھی چیز دنیا میں ہے وہ باپ کی طرف سے نہیں بلکہ دنیا کی طرف سے ہے، خواہ وہ جسم کی بُری خواہشات، آنکھوں کا لالچ یا اپنی ملکیت پر فخر ہو۔
اُس میں آتے وقت آپ کا ختنہ بھی کروایا گیا۔ لیکن یہ ختنہ انسانی ہاتھوں سے نہیں کیا گیا بلکہ مسیح کے وسیلے سے۔ اُس وقت آپ کی پرانی فطرت اُتار دی گئی،
جاگتے اور دعا کرتے رہو تاکہ آزمائش میں نہ پڑو۔ کیونکہ روح تو تیار ہے لیکن جسم کمزور۔"
بھائیو، مَیں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خاکی انسان کا موجودہ جسم اللہ کی بادشاہی کو میراث میں نہیں پا سکتا۔ جو کچھ فانی ہے وہ لافانی چیزوں کو میراث میں نہیں پا سکتا۔