Pular para o conteúdo
Publicidade

Casamento

Por Bíblia Online

O casamento é aliança sagrada instituída por Deus. Ele une marido e mulher em uma só carne — pacto de amor, fidelidade e companheirismo que reflete o amor de Cristo pela Igreja.

Fundamento divino

Não é bom que o homem esteja só. Deus criou o casamento como aliança de companheirismo, amor e fecundidade.

رب خدا نے کہا، "اچھا نہیں کہ آدمی اکیلا رہے۔ مَیں اُس کے لئے ایک مناسب مددگار بناتا ہوں۔"

تب رب خدا نے اُسے سُلا دیا۔ جب وہ گہری نیند سو رہا تھا تو اُس نے اُس کی پسلیوں میں سے ایک نکال کر اُس کی جگہ گوشت بھر دیا۔ پسلی سے اُس نے عورت بنائی اور اُسے آدمی کے پاس لے آیا۔ اُسے دیکھ کر وہ پکار اُٹھا، "واہ! یہ تو مجھ جیسی ہی ہے، میری ہڈیوں میں سے ہڈی اور میرے گوشت میں سے گوشت ہے۔ اِس کا نام ناری رکھا جائے کیونکہ وہ نر سے نکالی گئی ہے۔" اِس لئے مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر اپنی بیوی کے ساتھ پیوست ہو جاتا ہے، اور وہ دونوں ایک ہو جاتے ہیں۔

اِس لئے مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر اپنی بیوی کے ساتھ پیوست ہو جاتا ہے، اور وہ دونوں ایک ہو جاتے ہیں۔ دونوں، آدمی اور عورت ننگے تھے، لیکن یہ اُن کے لئے شرم کا باعث نہیں تھا۔

اِس لئے مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر اپنی بیوی کے ساتھ پیوست ہو جاتا ہے، اور وہ دونوں ایک ہو جاتے ہیں۔

پسلی سے اُس نے عورت بنائی اور اُسے آدمی کے پاس لے آیا۔ اُسے دیکھ کر وہ پکار اُٹھا، "واہ! یہ تو مجھ جیسی ہی ہے، میری ہڈیوں میں سے ہڈی اور میرے گوشت میں سے گوشت ہے۔ اِس کا نام ناری رکھا جائے کیونکہ وہ نر سے نکالی گئی ہے۔" اِس لئے مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر اپنی بیوی کے ساتھ پیوست ہو جاتا ہے، اور وہ دونوں ایک ہو جاتے ہیں۔

اللہ نے کہا، "آؤ اب ہم انسان کو اپنی صورت پر بنائیں، وہ ہم سے مشابہت رکھے۔ وہ تمام جانوروں پر حکومت کرے، سمندر کی مچھلیوں پر، ہَوا کے پرندوں پر، مویشیوں پر، جنگلی جانوروں پر اور زمین پر کے تمام رینگنے والے جانداروں پر۔" یوں اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر بنایا، اللہ کی صورت پر۔ اُس نے اُنہیں مرد اور عورت بنایا۔ اللہ نے اُنہیں برکت دی اور کہا، "پھلو پھولو اور تعداد میں بڑھتے جاؤ۔ دنیا تم سے بھر جائے اور تم اُس پر اختیار رکھو۔ سمندر کی مچھلیوں، ہَوا کے پرندوں اور زمین پر کے تمام رینگنے والے جانداروں پر حکومت کرو۔"

قابیل اور ہابیل

آدم حوا سے ہم بستر ہوا تو اُن کا پہلا بیٹا قابیل پیدا ہوا۔ حوا نے کہا، "رب کی مدد سے مَیں نے ایک مرد حاصل کیا ہے۔"

سیت اور انوس

آدم اور حوا کا ایک اَور بیٹا پیدا ہوا۔ حوا نے اُس کا نام سیت رکھ کر کہا، "اللہ نے مجھے ہابیل کی جگہ جسے قابیل نے قتل کیا ایک اَور بیٹا بخشا ہے۔"

Fidelidade conjugal

O que Deus ajuntou não separe o homem. O casamento deve ser honrado e o leito matrimonial preservado sem impureza.

یوں وہ کلامِ مُقدّس کے مطابق دو نہیں رہتے بلکہ ایک ہو جاتے ہیں۔ جسے اللہ نے جوڑا ہے اُسے انسان جدا نہ کرے۔"

عیسیٰ نے جواب دیا، "کیا تم نے کلامِ مُقدّس میں نہیں پڑھا کہ ابتدا میں خالق نے اُنہیں مرد اور عورت بنایا؟ اور اُس نے فرمایا، اِس لئے مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر اپنی بیوی کے ساتھ پیوست ہو جاتا ہے۔ وہ دونوں ایک ہو جاتے ہیں۔یوں وہ کلامِ مُقدّس کے مطابق دو نہیں رہتے بلکہ ایک ہو جاتے ہیں۔ جسے اللہ نے جوڑا ہے اُسے انسان جدا نہ کرے۔"

اور اُس نے فرمایا، اِس لئے مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر اپنی بیوی کے ساتھ پیوست ہو جاتا ہے۔ وہ دونوں ایک ہو جاتے ہیں۔یوں وہ کلامِ مُقدّس کے مطابق دو نہیں رہتے بلکہ ایک ہو جاتے ہیں۔ جسے اللہ نے جوڑا ہے اُسے انسان جدا نہ کرے۔"

طلاق

یہ بھی فرمایا گیا ہے، جو بھی اپنی بیوی کو طلاق دے وہ اُسے طلاق نامہ لکھ دے۔لیکن مَیں تم کو بتاتا ہوں کہ اگر کسی کی بیوی نے زنا نہ کیا ہو توبھی شوہر اُسے طلاق دے تو وہ اُس سے زنا کراتا ہے۔ اور جو طلاق شدہ عورت سے شادی کرے وہ زنا کرتا ہے۔

زناکاری

تم نے یہ حکم سن لیا ہے کہ زنا نہ کرنا۔لیکن مَیں تمہیں بتاتا ہوں، جو کسی عورت کو بُری خواہش سے دیکھتا ہے وہ اپنے دل میں اُس کے ساتھ زنا کر چکا ہے۔

اُنہوں نے کہا، "اُس نے اجازت دی ہے کہ آدمی طلاق نامہ لکھ کر بیوی کو رُخصت کر دے۔"

عیسیٰ نے جواب دیا، "موسیٰ نے تمہاری سخت دلی کی وجہ سے تمہارے لئے یہ حکم لکھا تھا۔ لیکن ابتدا میں ایسا نہیں تھا۔ دنیا کی تخلیق کے وقت اللہ نے اُنہیں مرد اور عورت بنایا۔ اِس لئے مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر اپنی بیوی کے ساتھ پیوست ہو جاتا ہے۔ وہ دونوں ایک ہو جاتے ہیں۔یوں وہ کلامِ مُقدّس کے مطابق دو نہیں رہتے بلکہ ایک ہو جاتے ہیں۔ تو جسے اللہ نے خود جوڑا ہے اُسے انسان جدا نہ کرے۔"

اور جو عورت اپنے خاوند کو طلاق دے کر کسی اَور سے شادی کرے وہ بھی زنا کرتی ہے۔"

لازم ہے کہ سب کے سب ازدواجی زندگی کا احترام کریں۔ شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے وفادار رہیں، کیونکہ اللہ زناکاروں اور شادی کا بندھن توڑنے والوں کی عدالت کرے گا۔

لازم ہے کہ سب کے سب ازدواجی زندگی کا احترام کریں۔ شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے وفادار رہیں، کیونکہ اللہ زناکاروں اور شادی کا بندھن توڑنے والوں کی عدالت کرے گا۔

لازم ہے کہ سب کے سب ازدواجی زندگی کا احترام کریں۔ شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے وفادار رہیں، کیونکہ اللہ زناکاروں اور شادی کا بندھن توڑنے والوں کی عدالت کرے گا۔

Amor como Cristo

Maridos, amai vossas mulheres como Cristo amou a igreja. O amor conjugal reflete o evangelho em ação.

شوہرو، اپنی بیویوں سے محبت رکھیں، بالکل اُسی طرح جس طرح مسیح نے اپنی جماعت سے محبت رکھ کر اپنے آپ کو اُس کے لئے قربان کیا تاکہ اُسے اللہ کے لئے مخصوص و مُقدّس کرے۔ اُس نے اُسے کلامِ پاک سے دھو کر پاک صاف کر دیا

شوہرو، اپنی بیویوں سے محبت رکھیں، بالکل اُسی طرح جس طرح مسیح نے اپنی جماعت سے محبت رکھ کر اپنے آپ کو اُس کے لئے قربان کیا تاکہ اُسے اللہ کے لئے مخصوص و مُقدّس کرے۔ اُس نے اُسے کلامِ پاک سے دھو کر پاک صاف کر دیا تاکہ اپنے آپ کو ایک ایسی جماعت پیش کرے جو جلالی، مُقدّس اور بےالزام ہو، جس میں نہ کوئی داغ ہو، نہ کوئی جھری، نہ کسی اَور قسم کا نقص۔

شوہرو، اپنی بیویوں سے محبت رکھیں، بالکل اُسی طرح جس طرح مسیح نے اپنی جماعت سے محبت رکھ کر اپنے آپ کو اُس کے لئے قربان کیا تاکہ اُسے اللہ کے لئے مخصوص و مُقدّس کرے۔ اُس نے اُسے کلامِ پاک سے دھو کر پاک صاف کر دیا تاکہ اپنے آپ کو ایک ایسی جماعت پیش کرے جو جلالی، مُقدّس اور بےالزام ہو، جس میں نہ کوئی داغ ہو، نہ کوئی جھری، نہ کسی اَور قسم کا نقص۔ شوہروں کا فرض ہے کہ وہ اپنی بیویوں سے ایسی ہی محبت رکھیں۔ ہاں، وہ اُن سے ویسی محبت رکھیں جیسی اپنے جسم سے رکھتے ہیں۔ کیونکہ جو اپنی بیوی سے محبت رکھتا ہے وہ اپنے آپ سے ہی محبت رکھتا ہے۔ آخر کوئی بھی اپنے جسم سے نفرت نہیں کرتا بلکہ اُسے خوراک مہیا کرتا اور پالتا ہے۔ مسیح بھی اپنی جماعت کے لئے یہی کچھ کرتا ہے۔ کیونکہ ہم اُس کے بدن کے اعضا ہیں۔

شوہروں کا فرض ہے کہ وہ اپنی بیویوں سے ایسی ہی محبت رکھیں۔ ہاں، وہ اُن سے ویسی محبت رکھیں جیسی اپنے جسم سے رکھتے ہیں۔ کیونکہ جو اپنی بیوی سے محبت رکھتا ہے وہ اپنے آپ سے ہی محبت رکھتا ہے۔

شوہروں کا فرض ہے کہ وہ اپنی بیویوں سے ایسی ہی محبت رکھیں۔ ہاں، وہ اُن سے ویسی محبت رکھیں جیسی اپنے جسم سے رکھتے ہیں۔ کیونکہ جو اپنی بیوی سے محبت رکھتا ہے وہ اپنے آپ سے ہی محبت رکھتا ہے۔ آخر کوئی بھی اپنے جسم سے نفرت نہیں کرتا بلکہ اُسے خوراک مہیا کرتا اور پالتا ہے۔ مسیح بھی اپنی جماعت کے لئے یہی کچھ کرتا ہے۔ کیونکہ ہم اُس کے بدن کے اعضا ہیں۔

بیویو، جس طرح آپ خداوند کے تابع ہیں اُسی طرح اپنے شوہر کے تابع بھی رہیں۔ کیونکہ شوہر ویسے ہی اپنی بیوی کا سر ہے جیسے مسیح اپنی جماعت کا۔ ہاں، جماعت مسیح کا بدن ہے جسے اُس نے نجات دی ہے۔ اب جس طرح جماعت مسیح کے تابع ہے اُسی طرح بیویاں بھی اپنے شوہروں کے تابع رہیں۔

بیویو، جس طرح آپ خداوند کے تابع ہیں اُسی طرح اپنے شوہر کے تابع بھی رہیں۔ کیونکہ شوہر ویسے ہی اپنی بیوی کا سر ہے جیسے مسیح اپنی جماعت کا۔ ہاں، جماعت مسیح کا بدن ہے جسے اُس نے نجات دی ہے۔

بیویو، جس طرح آپ خداوند کے تابع ہیں اُسی طرح اپنے شوہر کے تابع بھی رہیں۔ کیونکہ شوہر ویسے ہی اپنی بیوی کا سر ہے جیسے مسیح اپنی جماعت کا۔ ہاں، جماعت مسیح کا بدن ہے جسے اُس نے نجات دی ہے۔ اب جس طرح جماعت مسیح کے تابع ہے اُسی طرح بیویاں بھی اپنے شوہروں کے تابع رہیں۔

شوہرو، اپنی بیویوں سے محبت رکھیں، بالکل اُسی طرح جس طرح مسیح نے اپنی جماعت سے محبت رکھ کر اپنے آپ کو اُس کے لئے قربان کیا تاکہ اُسے اللہ کے لئے مخصوص و مُقدّس کرے۔ اُس نے اُسے کلامِ پاک سے دھو کر پاک صاف کر دیا تاکہ اپنے آپ کو ایک ایسی جماعت پیش کرے جو جلالی، مُقدّس اور بےالزام ہو، جس میں نہ کوئی داغ ہو، نہ کوئی جھری، نہ کسی اَور قسم کا نقص۔ شوہروں کا فرض ہے کہ وہ اپنی بیویوں سے ایسی ہی محبت رکھیں۔ ہاں، وہ اُن سے ویسی محبت رکھیں جیسی اپنے جسم سے رکھتے ہیں۔ کیونکہ جو اپنی بیوی سے محبت رکھتا ہے وہ اپنے آپ سے ہی محبت رکھتا ہے۔ آخر کوئی بھی اپنے جسم سے نفرت نہیں کرتا بلکہ اُسے خوراک مہیا کرتا اور پالتا ہے۔ مسیح بھی اپنی جماعت کے لئے یہی کچھ کرتا ہے۔ کیونکہ ہم اُس کے بدن کے اعضا ہیں۔ کلامِ مُقدّس میں بھی لکھا ہے، "اِس لئے مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر اپنی بیوی کے ساتھ پیوست ہو جاتا ہے۔ وہ دونوں ایک ہو جاتے ہیں۔" یہ راز بہت گہرا ہے۔ مَیں تو اِس کا اطلاق مسیح اور اُس کی جماعت پر کرتا ہوں۔ لیکن اِس کا اطلاق آپ پر بھی ہے۔ ہر شوہر اپنی بیوی سے اِس طرح محبت رکھے جس طرح وہ اپنے آپ سے رکھتا ہے۔ اور ہر بیوی اپنے شوہر کی عزت کرے۔

کلامِ مُقدّس میں بھی لکھا ہے، "اِس لئے مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر اپنی بیوی کے ساتھ پیوست ہو جاتا ہے۔ وہ دونوں ایک ہو جاتے ہیں۔"

لیکن اِس کا اطلاق آپ پر بھی ہے۔ ہر شوہر اپنی بیوی سے اِس طرح محبت رکھے جس طرح وہ اپنے آپ سے رکھتا ہے۔ اور ہر بیوی اپنے شوہر کی عزت کرے۔

لیکن اِس کا اطلاق آپ پر بھی ہے۔ ہر شوہر اپنی بیوی سے اِس طرح محبت رکھے جس طرح وہ اپنے آپ سے رکھتا ہے۔ اور ہر بیوی اپنے شوہر کی عزت کرے۔

آپ کے درمیان زناکاری، ہر طرح کی ناپاکی یا لالچ کا ذکر تک نہ ہو، کیونکہ یہ اللہ کے مُقدّسین کے لئے مناسب نہیں ہے۔

Submissão e respeito

Mulheres, sujeitem-se aos próprios maridos. Maridos, convivam com as esposas com conhecimento e honra.

نئی زندگی میں تعلقات کیسے ہوں

بیویو، اپنے شوہر کے تابع رہیں، کیونکہ جو خداوند میں ہے اُس کے لئے یہی مناسب ہے۔

شوہرو، اپنی بیویوں سے محبت رکھیں۔ اُن سے تلخ مزاجی سے پیش نہ آئیں۔

اِن کے علاوہ محبت بھی پہن لیں جو سب کچھ باندھ کر کاملیت کی طرف لے جاتی ہے۔ مسیح کی سلامتی آپ کے دلوں میں حکومت کرے۔ کیونکہ اللہ نے آپ کو اِسی سلامتی کی زندگی گزارنے کے لئے بُلا کر ایک بدن میں شامل کر دیا ہے۔ شکرگزار بھی رہیں۔ آپ کی زندگی میں مسیح کے کلام کی پوری دولت گھر کر جائے۔ ایک دوسرے کو ہر طرح کی حکمت سے تعلیم دیتے اور سمجھاتے رہیں۔ ساتھ ساتھ اپنے دلوں میں اللہ کے لئے شکرگزاری کے ساتھ زبور، حمد و ثنا اور روحانی گیت گاتے رہیں۔ اور جو کچھ بھی آپ کریں خواہ زبانی ہو یا عملی وہ خداوند عیسیٰ کا نام لے کر کریں۔ ہر کام میں اُسی کے وسیلے سے خدا باپ کا شکر کریں۔

اِن کے علاوہ محبت بھی پہن لیں جو سب کچھ باندھ کر کاملیت کی طرف لے جاتی ہے۔

پرانی اور نئی زندگی

چنانچہ اُن دنیاوی چیزوں کو مار ڈالیں جو آپ کے اندر کام کر رہی ہیں: زناکاری، ناپاکی، شہوت پرستی، بُری خواہشات اور لالچ (لالچ تو ایک قسم کی بُت پرستی ہے)۔

اِس طرح لازم ہے کہ آپ جو شوہر ہیں سمجھ کے ساتھ اپنی بیویوں کے ساتھ زندگی گزاریں، یہ جان کر کہ یہ آپ کی نسبت کمزور ہیں۔ اُن کی عزت کریں، کیونکہ یہ بھی آپ کے ساتھ زندگی کے فضل کی وارث ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ اِس میں بےپروائی کرنے سے آپ کی دعائیہ زندگی میں رکاوٹ پیدا ہو جائے۔

اِس طرح لازم ہے کہ آپ جو شوہر ہیں سمجھ کے ساتھ اپنی بیویوں کے ساتھ زندگی گزاریں، یہ جان کر کہ یہ آپ کی نسبت کمزور ہیں۔ اُن کی عزت کریں، کیونکہ یہ بھی آپ کے ساتھ زندگی کے فضل کی وارث ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ اِس میں بےپروائی کرنے سے آپ کی دعائیہ زندگی میں رکاوٹ پیدا ہو جائے۔

Pureza no casamento

Não adulterarás. A impureza sexual destrói alianças e famílias. Deus chama à santidade no matrimônio.

زنا نہ کرنا۔

اپنے پڑوسی کے گھر کا لالچ نہ کرنا۔ نہ اُس کی بیوی کا، نہ اُس کے نوکر کا، نہ اُس کی نوکرانی کا، نہ اُس کے بَیل اور نہ اُس کے گدھے کا بلکہ اُس کی کسی بھی چیز کا لالچ نہ کرنا۔"

لیکن زناکاری سے بچنے کی خاطر ہر مرد کی اپنی بیوی اور ہر عورت کا اپنا شوہر ہو۔

شوہر اپنی بیوی کا حق ادا کرے اور اِسی طرح بیوی اپنے شوہر کا۔ بیوی اپنے جسم پر اختیار نہیں رکھتی بلکہ اُس کا شوہر۔ اِسی طرح شوہر بھی اپنے جسم پر اختیار نہیں رکھتا بلکہ اُس کی بیوی۔

شوہر اپنی بیوی کا حق ادا کرے اور اِسی طرح بیوی اپنے شوہر کا۔ بیوی اپنے جسم پر اختیار نہیں رکھتی بلکہ اُس کا شوہر۔ اِسی طرح شوہر بھی اپنے جسم پر اختیار نہیں رکھتا بلکہ اُس کی بیوی۔ چنانچہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں سوائے اِس کے کہ آپ دونوں باہمی رضامندی سے ایک وقت مقرر کر لیں تاکہ دعا کے لئے زیادہ فرصت مل سکے۔ لیکن اِس کے بعد آپ دوبارہ اکٹھے ہو جائیں تاکہ ابلیس آپ کے بےضبط نفس سے فائدہ اُٹھا کر آپ کو آزمائش میں نہ ڈالے۔

شوہر اپنی بیوی کا حق ادا کرے اور اِسی طرح بیوی اپنے شوہر کا۔ بیوی اپنے جسم پر اختیار نہیں رکھتی بلکہ اُس کا شوہر۔ اِسی طرح شوہر بھی اپنے جسم پر اختیار نہیں رکھتا بلکہ اُس کی بیوی۔ چنانچہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں سوائے اِس کے کہ آپ دونوں باہمی رضامندی سے ایک وقت مقرر کر لیں تاکہ دعا کے لئے زیادہ فرصت مل سکے۔ لیکن اِس کے بعد آپ دوبارہ اکٹھے ہو جائیں تاکہ ابلیس آپ کے بےضبط نفس سے فائدہ اُٹھا کر آپ کو آزمائش میں نہ ڈالے۔

طلاق اور غیرایمان دار سے شادی

مَیں غیرشادی شدہ افراد اور بیواؤں سے یہ کہتا ہوں کہ اچھا ہو اگر آپ میری طرح غیرشادی شدہ رہیں۔ لیکن اگر آپ اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکیں تو شادی کر لیں۔ کیونکہ اِس سے پیشتر کہ آپ کے شہوانی جذبات بےلگام ہونے لگیں بہتر یہ ہے کہ آپ شادی کر لیں۔

شادی شدہ جوڑوں کو مَیں نہیں بلکہ خداوند حکم دیتا ہے کہ بیوی اپنے شوہر سے تعلق منقطع نہ کرے۔ اگر وہ ایسا کر چکی ہو تو دوسری شادی نہ کرے یا اپنے شوہر سے صلح کر لے۔ اِسی طرح شوہر بھی اپنی بیوی کو طلاق نہ دے۔

کیونکہ جو شوہر ایمان نہیں لایا اُسے اُس کی ایمان دار بیوی کی معرفت مُقدّس ٹھہرایا گیا ہے اور جو بیوی ایمان نہیں لائی اُسے اُس کے ایمان دار شوہر کی معرفت مُقدّس قرار دیا گیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آپ کے بچے ناپاک ہوتے، مگر اب وہ مُقدّس ہیں۔

مَیں تو چاہتا ہوں کہ آپ فکروں سے آزاد رہیں۔ غیرشادی شدہ شخص خداوند کے معاملوں کی فکر میں رہتا ہے کہ کس طرح اُسے خوش کرے۔ اِس کے برعکس شادی شدہ شخص دنیاوی فکر میں رہتا ہے کہ کس طرح اپنی بیوی کو خوش کرے۔ یوں وہ بڑی کش مکش میں مبتلا رہتا ہے۔ اِسی طرح غیرشادی شدہ خاتون اور کنواری خداوند کی فکر میں رہتی ہے کہ وہ جسمانی اور روحانی طور پر اُس کے لئے مخصوص و مُقدّس ہو۔ اِس کے مقابلے میں شادی شدہ خاتون دنیاوی فکر میں رہتی ہے کہ اپنے خاوند کو کس طرح خوش کرے۔

جب تک خاوند زندہ ہے بیوی کو اُس سے رشتہ توڑنے کی اجازت نہیں۔ خاوند کی وفات کے بعد وہ آزاد ہے کہ جس سے چاہے شادی کر لے، مگر صرف خداوند میں۔

ازدواجی زندگی

اب مَیں آپ کے سوالات کا جواب دیتا ہوں۔ بےشک اچھا ہے کہ مرد شادی نہ کرے۔ لیکن زناکاری سے بچنے کی خاطر ہر مرد کی اپنی بیوی اور ہر عورت کا اپنا شوہر ہو۔

زناکاری سے بھاگیں! انسان سے سرزد ہونے والا ہر گناہ اُس کے جسم سے باہر ہوتا ہے سوائے زنا کے۔ زناکار تو اپنے ہی جسم کا گناہ کرتا ہے۔ کیا آپ نہیں جانتے کہ آپ کا بدن روح القدس کا گھر ہے جو آپ کے اندر سکونت کرتا ہے اور جو آپ کو اللہ کی طرف سے ملا ہے؟ آپ اپنے مالک نہیں ہیں کیونکہ آپ کو قیمت ادا کر کے خریدا گیا ہے۔ اب اپنے بدن سے اللہ کو جلال دیں۔

بےشک خوراک پیٹ کے لئے اور پیٹ خوراک کے لئے ہے، مگر اللہ دونوں کو نیست کر دے گا۔ لیکن ہم اِس سے یہ نتیجہ نہیں نکال سکتے کہ جسم زناکاری کے لئے ہے۔ ہرگز نہیں! جسم خداوند کے لئے ہے اور خداوند جسم کے لئے۔ اللہ نے اپنی قدرت سے خداوند عیسیٰ کو زندہ کیا اور اِسی طرح وہ ہمیں بھی زندہ کرے گا۔

کیا آپ نہیں جانتے کہ ناانصاف اللہ کی بادشاہی میراث میں نہیں پائیں گے؟ فریب نہ کھائیں! حرام کار، بُت پرست، زناکار، ہم جنس پرست، لونڈے باز، چور، لالچی، شرابی، بدزبان، لٹیرے، یہ سب اللہ کی بادشاہی میراث میں نہیں پائیں گے۔

محبت صبر سے کام لیتی ہے، محبت مہربان ہے۔ نہ یہ حسد کرتی ہے نہ ڈینگیں مارتی ہے۔ یہ پھولتی بھی نہیں۔ محبت بدتمیزی نہیں کرتی نہ اپنے ہی فائدے کی تلاش میں رہتی ہے۔ یہ جلدی سے غصے میں نہیں آ جاتی اور دوسروں کی غلطیوں کا ریکارڈ نہیں رکھتی۔ یہ ناانصافی دیکھ کر خوش نہیں ہوتی بلکہ سچائی کے غالب آنے پر ہی خوشی مناتی ہے۔ یہ ہمیشہ دوسروں کی کمزوریاں برداشت کرتی ہے، ہمیشہ اعتماد کرتی ہے، ہمیشہ اُمید رکھتی ہے، ہمیشہ ثابت قدم رہتی ہے۔

کیا مسیح بٹ گیا؟ کیا آپ کی خاطر پولس کو صلیب پر چڑھایا گیا؟ یا کیا آپ کو پولس کے نام سے بپتسمہ دیا گیا؟

خدا کا شکر ہے کہ مَیں نے آپ میں سے کسی کو بپتسمہ نہیں دیا سوائے کرسپُس اور گیُس کے۔ اِس لئے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ مَیں نے پولس کے نام سے بپتسمہ پایا ہے۔ ہاں مَیں نے ستفناس کے گھرانے کو بھی بپتسمہ دیا۔ لیکن جہاں تک میرا خیال ہے اِس کے علاوہ کسی اَور کو بپتسمہ نہیں دیا۔ مسیح نے مجھے بپتسمہ دینے کے لئے رسول بنا کر نہیں بھیجا بلکہ اِس لئے کہ اللہ کی خوش خبری سناؤں۔ اور یہ کام مجھے دنیاوی حکمت سے آراستہ تقریر سے نہیں کرنا ہے تاکہ مسیح کی صلیب کی طاقت بےاثر نہ ہو جائے۔

زناکاری

یہ بات ہمارے کانوں تک پہنچی ہے کہ آپ کے درمیان زناکاری ہو رہی ہے، بلکہ ایسی زناکاری جسے غیریہودی بھی روا نہیں سمجھتے۔ کہتے ہیں کہ آپ میں سے کسی نے اپنی سوتیلی ماں سے شادی کر رکھی ہے۔ کمال ہے کہ آپ اِس فعل پر نادم نہیں بلکہ پھولے پھر رہے ہیں! کیا مناسب نہ ہوتا کہ آپ دُکھ محسوس کر کے اِس بدی کے مرتکب کو اپنے درمیان سے خارج کر دیتے؟

Sabedoria conjugal

Acha esposa, acha o bem. Bebe água da tua própria cisterna. A fidelidade conjugal é fonte de bênção permanente.

جسے بیوی ملی اُسے اچھی نعمت ملی، اور اُسے رب کی منظوری حاصل ہوئی۔

جسے بیوی ملی اُسے اچھی نعمت ملی، اور اُسے رب کی منظوری حاصل ہوئی۔

جسے بیوی ملی اُسے اچھی نعمت ملی، اور اُسے رب کی منظوری حاصل ہوئی۔

موروثی گھر اور ملکیت باپ دادا کی طرف سے ملتی ہے، لیکن سمجھ دار بیوی رب کی طرف سے ہے۔

تیرا چشمہ مبارک ہو۔ ہاں، اپنی بیوی سے خوش رہ۔ وہی تیری من موہن ہرنی اور دل رُبا غزال ہے۔ اُسی کا پیار تجھے تر و تازہ کرے، اُسی کی محبت تجھے ہمیشہ مست رکھے۔

کیونکہ زناکار عورت کے ہونٹوں سے شہد ٹپکتا ہے، اُس کی باتیں تیل کی طرح چِکنی چپڑی ہوتی ہیں۔ لیکن انجام میں وہ زہر جیسی کڑوی اور دو دھاری تلوار جیسی تیز ثابت ہوتی ہے۔ اُس کے پاؤں موت کی طرف اُترتے، اُس کے قدم پاتال کی جانب بڑھتے جاتے ہیں۔ اُس کے راستے کبھی اِدھر کبھی اُدھر پھرتے ہیں تاکہ تُو زندگی کی راہ پر توجہ نہ دے اور اُس کی آوارگی کو جان نہ لے۔

چنانچہ میرے بیٹو، میری سنو اور میرے منہ کی باتوں سے دُور نہ ہو جاؤ۔ اپنے راستے اُس سے دُور رکھ، اُس کے گھر کے دروازے کے قریب بھی نہ جا۔ ایسا نہ ہو کہ تُو اپنی طاقت کسی اَور کے لئے صَرف کرے اور اپنے سال ظالم کے لئے ضائع کرے۔

کیونکہ زناکار عورت کے ہونٹوں سے شہد ٹپکتا ہے، اُس کی باتیں تیل کی طرح چِکنی چپڑی ہوتی ہیں۔ لیکن انجام میں وہ زہر جیسی کڑوی اور دو دھاری تلوار جیسی تیز ثابت ہوتی ہے۔ اُس کے پاؤں موت کی طرف اُترتے، اُس کے قدم پاتال کی جانب بڑھتے جاتے ہیں۔ اُس کے راستے کبھی اِدھر کبھی اُدھر پھرتے ہیں تاکہ تُو زندگی کی راہ پر توجہ نہ دے اور اُس کی آوارگی کو جان نہ لے۔

اپنے راستے اُس سے دُور رکھ، اُس کے گھر کے دروازے کے قریب بھی نہ جا۔ ایسا نہ ہو کہ تُو اپنی طاقت کسی اَور کے لئے صَرف کرے اور اپنے سال ظالم کے لئے ضائع کرے۔ ایسا نہ ہو کہ پردیسی تیری ملکیت سے سیر ہو جائیں، کہ جو کچھ تُو نے محنت مشقت سے حاصل کیا وہ کسی اَور کے گھر میں آئے۔ تب آخرکار تیرا بدن اور گوشت گھل جائیں گے، اور تُو آہیں بھر بھر کر کہے گا، "ہائے، مَیں نے کیوں تربیت سے نفرت کی، میرے دل نے کیوں سرزنش کو حقیر جانا؟ ہدایت کرنے والوں کی مَیں نے نہ سنی، اپنے اُستادوں کی باتوں پر کان نہ دھرا۔ جماعت کے درمیان ہی رہتے ہوئے مجھ پر ایسی آفت آئی کہ مَیں تباہی کے دہانے تک پہنچ گیا ہوں۔"

وہی تیری من موہن ہرنی اور دل رُبا غزال ہے۔ اُسی کا پیار تجھے تر و تازہ کرے، اُسی کی محبت تجھے ہمیشہ مست رکھے۔

میرے بیٹے، تُو اجنبی عورت سے کیوں مست ہو جائے، کسی دوسرے کی بیوی سے کیوں لپٹ جائے؟

اِسی طرح جو کسی دوسرے کی بیوی سے ہم بستر ہو جائے اُس کا انجام بُرا ہے، جو بھی دوسرے کی بیوی کو چھیڑے اُسے سزا ملے گی۔

لیکن جو کسی دوسرے کی بیوی کے ساتھ زنا کرے وہ بےعقل ہے۔ جو اپنی جان کو تباہ کرنا چاہے وہی ایسا کرتا ہے۔

لیکن جو کسی دوسرے کی بیوی کے ساتھ زنا کرے وہ بےعقل ہے۔ جو اپنی جان کو تباہ کرنا چاہے وہی ایسا کرتا ہے۔ اُس کی پٹائی اور بےعزتی کی جائے گی، اور اُس کی شرمندگی کبھی نہیں مٹے گی۔ کیونکہ شوہر غیرت کھا کر اور طیش میں آ کر بےرحمی سے بدلہ لے گا۔ نہ وہ کوئی معاوضہ قبول کرے گا، نہ رشوت لے گا، خواہ کتنی زیادہ کیوں نہ ہو۔

سُگھڑ بیوی اپنے شوہر کا تاج ہے، لیکن جو شوہر کی رُسوائی کا باعث ہے وہ اُس کی ہڈیوں میں سڑاہٹ کی مانند ہے۔

انسان اپنے دل میں منصوبے باندھتا رہتا ہے، لیکن رب ہی مقرر کرتا ہے کہ وہ آخرکار کس راہ پر چل پڑے۔

جھگڑالو بیوی کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہنے کی نسبت چھت کے کسی کونے میں گزارہ کرنا بہتر ہے۔

سُگھڑ بیوی کی تعریف

سُگھڑ بیوی کون پا سکتا ہے؟ ایسی عورت موتیوں سے کہیں زیادہ بیش قیمت ہے۔

Bíblia e casamento

Deus abomina o divórcio. A aliança matrimonial é reflexo da aliança de Deus com seu povo — sagrada e eterna.

کیا رب نے شوہر اور بیوی کو ایک نہیں بنایا، ایک جسم جس میں روح ہے؟ اور یہ ایک جسم کیا چاہتا ہے؟ اللہ کی طرف سے اولاد۔ چنانچہ اپنی روح میں خبردار رہو! اپنی بیوی سے بےوفا نہ ہو جا! کیونکہ رب الافواج جو اسرائیل کا خدا ہے فرماتا ہے، "مَیں طلاق سے نفرت کرتا ہوں اور اُس سے متنفر ہوں جو ظلم سے ملبّس ہوتا ہے۔ چنانچہ اپنی روح میں خبردار رہ کر اِس طرح کا بےوفا رویہ اختیار نہ کرو!"

غیرمسیحی اثرات سے خبردار

غیرایمان داروں کے ساتھ مل کر ایک جوئے تلے زندگی نہ گزاریں، کیونکہ راستی کا ناراستی سے کیا واسطہ ہے؟ یا روشنی تاریکی کے ساتھ کیا تعلق رکھ سکتی ہے؟

کیونکہ اللہ کی مرضی ہے کہ آپ اُس کے لئے مخصوص و مُقدّس ہوں، کہ آپ زناکاری سے باز رہیں۔ ہر ایک اپنے بدن پر یوں قابو پانا سیکھ لے کہ وہ مُقدّس اور شریف زندگی گزار سکے۔ وہ غیرایمان داروں کی طرح جو اللہ سے ناواقف ہیں شہوت پرستی کا شکار نہ ہو۔

اِس پر دھیان دیں کہ کوئی کسی سے بُرائی کے بدلے بُرائی نہ کرے بلکہ آپ ہر وقت ایک دوسرے اور تمام لوگوں کے ساتھ نیک کام کرنے میں لگے رہیں۔

زناکار، ہم جنس پرست اور غلاموں کے تاجر ہیں، جو جھوٹ بولتے، جھوٹی قَسم کھاتے اور مزید بہت کچھ کرتے ہیں جو صحت بخش تعلیم کے خلاف ہے۔

لازم ہے کہ نگران بےالزام ہو۔ اُس کی ایک ہی بیوی ہو۔ وہ ہوش مند، سمجھ دار، شریف، مہمان نواز اور تعلیم دینے کے قابل ہو۔

مددگار کی ایک ہی بیوی ہو۔ لازم ہے کہ وہ اپنے بچوں اور خاندان کو اچھی طرح سنبھال سکے۔

بزرگ بےالزام ہو۔ اُس کی صرف ایک بیوی ہو۔ اُس کے بچے ایمان دار ہوں اور لوگ اُن پر عیاش یا سرکش ہونے کا الزام نہ لگا سکیں۔

مزید ہدایات

اگر کسی آدمی نے ابھی ابھی شادی کی ہو تو تُو اُسے بھرتی کر کے جنگ کرنے کے لئے نہیں بھیج سکتا۔ تُو اُسے کوئی بھی ایسی ذمہ داری نہیں دے سکتا، جس سے وہ گھر سے دُور رہنے پر مجبور ہو جائے۔ ایک سال تک وہ ایسی ذمہ داریوں سے بَری رہے تاکہ گھر میں رہ کر اپنی بیوی کو خوش کر سکے۔

طلاق اور دوبارہ شادی

ہو سکتا ہے کوئی آدمی کسی عورت سے شادی کرے لیکن بعد میں اُسے پسند نہ کرے، کیونکہ اُسے بیوی کے بارے میں کسی شرم ناک بات کا پتا چل گیا ہے۔ وہ طلاق نامہ لکھ کر اُسے عورت کو دیتا اور پھر اُسے گھر سے واپس بھیج دیتا ہے۔

ازدواجی زندگی کی حفاظت

اگر کوئی آدمی شادی کرنے کے تھوڑی دیر بعد اپنی بیوی کو پسند نہ کرے اور پھر اُس کی بدنامی کر کے کہے، "اِس عورت سے شادی کرنے کے بعد مجھے پتا چلا کہ وہ کنواری نہیں ہے" تو جواب میں بیوی کے والدین شہر کے دروازے پر جمع ہونے والے بزرگوں کے پاس ثبوت لے آئیں کہ بیٹی شادی سے پہلے کنواری تھی۔ بیوی کا باپ بزرگوں سے کہے، "مَیں نے اپنی بیٹی کی شادی اِس آدمی سے کی ہے، لیکن یہ اُس سے نفرت کرتا ہے۔ اب اِس نے اُس کی بدنامی کر کے کہا ہے، مجھے پتا چلا کہ تمہاری بیٹی کنواری نہیں ہے۔لیکن یہاں ثبوت ہے کہ میری بیٹی کنواری تھی۔" پھر والدین شہر کے بزرگوں کو مذکورہ کپڑا دکھائیں۔

اپنے باپ کی کسی بھی بیوی سے ہم بستر نہ ہونا، ورنہ تیرے باپ کی بےحرمتی ہو جائے گی۔

کسی دوسرے مرد کی بیوی سے ہم بستر نہ ہونا، ورنہ تُو اپنے آپ کو ناپاک کرے گا۔

اگر کسی مرد نے کسی کی بیوی کے ساتھ زنا کیا ہے تو دونوں کو سزائے موت دینی ہے۔

اگر کوئی مرد کسی دوسرے مرد سے جنسی تعلقات رکھے تو دونوں کو اِس گھناؤنی حرکت کے باعث سزائے موت دینی ہے۔ وہ اپنی موت کے خود ذمہ دار ہیں۔

امام زناکار عورت، مندر کی کسبی یا طلاق یافتہ عورت سے شادی نہ کریں، کیونکہ وہ اپنے رب کے لئے مخصوص و مُقدّس ہیں۔

امامِ اعظم کو صرف کنواری سے شادی کی اجازت ہے۔ وہ بیوہ، طلاق یافتہ عورت، مندر کی کسبی یا زناکار عورت سے شادی نہ کرے بلکہ صرف اپنے قبیلے کی کنواری سے،

Exemplos bíblicos

O Cântico dos Cânticos celebra o amor conjugal. A Bíblia honra o casamento em toda a sua beleza e profundidade.

مجھے مُہر کی طرح اپنے دل پر، اپنے بازو پر لگائے رکھ! کیونکہ محبت موت جیسی طاقت ور، اور اُس کی سرگرمی پاتال جیسی بےلچک ہے۔ وہ دہکتی آگ، رب کا بھڑکتا شعلہ ہے۔

پانی کا بڑا سیلاب بھی محبت کو بجھا نہیں سکتا، بڑے دریا بھی اُسے بہا کر لے جا نہیں سکتے۔ اور اگر کوئی محبت کو پانے کے لئے اپنے گھر کی تمام دولت پیش بھی کرے توبھی اُسے جواب میں حقیر ہی جانا جائے گا۔

پانی کا بڑا سیلاب بھی محبت کو بجھا نہیں سکتا، بڑے دریا بھی اُسے بہا کر لے جا نہیں سکتے۔ اور اگر کوئی محبت کو پانے کے لئے اپنے گھر کی تمام دولت پیش بھی کرے توبھی اُسے جواب میں حقیر ہی جانا جائے گا۔

میری محبوبہ، تیرا حُسن کامل ہے، تجھ میں کوئی نقص نہیں ہے۔

تیری چھاتیاں سوسنوں میں چرنے والے غزال کے جُڑواں بچوں کی مانند ہیں۔

میری بہن، میری دُلھن، تُو نے میرا دل چُرا لیا ہے، اپنی آنکھوں کی ایک ہی نظر سے، اپنے گلوبند کے ایک ہی جوہر سے تُو نے میرا دل چُرا لیا ہے۔

اُس کا بایاں بازو میرے سر کے نیچے ہوتا اور دہنا بازو مجھے گلے لگاتا ہے۔

وہ مجھے اپنے منہ سے بوسے دے، کیونکہ تیری محبت مَے سے کہیں زیادہ راحت بخش ہے۔

اپنے جیون ساتھی کے ساتھ جو تجھے پیارا ہے زندگی کے مزے لیتا رہ۔ سورج تلے کی باطل زندگی کے جتنے دن اللہ نے تجھے بخش دیئے ہیں اُنہیں اِسی طرح گزار! کیونکہ زندگی میں اور سورج تلے تیری محنت مشقت میں یہی کچھ تیرے نصیب میں ہے۔

اپنے جیون ساتھی کے ساتھ جو تجھے پیارا ہے زندگی کے مزے لیتا رہ۔ سورج تلے کی باطل زندگی کے جتنے دن اللہ نے تجھے بخش دیئے ہیں اُنہیں اِسی طرح گزار! کیونکہ زندگی میں اور سورج تلے تیری محنت مشقت میں یہی کچھ تیرے نصیب میں ہے۔

دو ایک سے بہتر ہیں، کیونکہ اُنہیں اپنے کام کاج کا اچھا اجر ملے گا۔ اگر ایک گر جائے تو اُس کا ساتھی اُسے دوبارہ کھڑا کرے گا۔ لیکن اُس پر افسوس جو گر جائے اور کوئی ساتھی نہ ہو جو اُسے دوبارہ کھڑا کرے۔ نیز، جب دو سردیوں کے موسم میں مل کر بستر پر لیٹ جائیں تو وہ گرم رہتے ہیں۔ جو تنہا ہے وہ کس طرح گرم ہو جائے گا؟ ایک شخص پر قابو پایا جا سکتا ہے جبکہ دو مل کر اپنا دفاع کر سکتے ہیں۔ تین لڑیوں والی رسّی جلدی سے نہیں ٹوٹتی۔

Juízo e restauração

O Senhor é testemunha do pacto conjugal. Casamentos quebrados podem ser restaurados pelo poder e graça de Deus.

رب فرماتا ہے، "اے بےوفا بچو، واپس آؤ، کیونکہ مَیں تمہارا مالک ہوں۔ مَیں تمہیں ہر جگہ سے نکال کر صیون میں واپس لاؤں گا۔ کسی شہر سے مَیں ایک کو نکال لاؤں گا، اور کسی خاندان سے دو افراد کو۔

جب رب پہلی بار ہوسیع سے ہم کلام ہوا تو اُس نے حکم دیا، "جا، زناکار عورت سے شادی کر اور زناکار بچے پیدا کر، کیونکہ ملک رب کی پیروی چھوڑ کر مسلسل زنا کرتا رہتا ہے۔"

اسرائیل بےوفا جُمر کی مانند ہے

اپنی ماں اسرائیل پر الزام لگاؤ، ہاں اُس پر الزام لگاؤ! کیونکہ نہ وہ میری بیوی ہے، نہ مَیں اُس کا شوہر ہوں۔ وہ اپنے چہرے سے اور اپنی چھاتیوں کے درمیان سے زناکاری کے نشان دُور کرے،

رب قادرِ مطلق فرماتا ہے، تُو نے اپنے عاشقوں کو اپنی برہنگی دکھا کر اپنی عصمت فروشی کی، تُو نے مکروہ بُت بنا کر اُن کی پوجا کی، تُو نے اُنہیں اپنے بچوں کا خون قربان کیا ہے۔ اِس لئے مَیں تیرے تمام عاشقوں کو اکٹھا کروں گا، اُن سب کو جنہیں تُو پسند آئی، اُنہیں بھی جو تجھے پیارے تھے اور اُنہیں بھی جن سے تُو نے نفرت کی۔ مَیں اُنہیں چاروں طرف سے جمع کر کے تیرے خلاف بھیجوں گا۔ تب مَیں اُن کے سامنے ہی تیرے تمام کپڑے اُتاروں گا تاکہ وہ تیری پوری برہنگی دیکھیں۔

لیکن رب نے سارئی کے سبب سے فرعون اور اُس کے گھرانے میں سخت قسم کے امراض پھیلائے۔ آخرکار فرعون نے ابرام کو بُلا کر کہا، "تُو نے میرے ساتھ کیا کِیا؟ تُو نے مجھے کیوں نہیں بتایا کہ سارئی تیری بیوی ہے؟

ہاجرہ اور اسمٰعیل

اب تک ابرام کی بیوی سارئی کے کوئی بچہ نہیں ہوا تھا۔ لیکن اُنہوں نے ایک مصری لونڈی رکھی تھی جس کا نام ہاجرہ تھا، اور ایک دن سارئی نے ابرام سے کہا، "رب نے مجھے بچے پیدا کرنے سے محروم رکھا ہے، اِس لئے میری لونڈی کے ساتھ ہم بستر ہوں۔ شاید مجھے اُس کی معرفت بچہ مل جائے۔"

ابرام نے سارئی کی بات مان لی۔ چنانچہ سارئی نے اپنی مصری لونڈی ہاجرہ کو اپنے شوہر ابرام کو دے دیا تاکہ وہ اُس کی بیوی بن جائے۔ اُس وقت ابرام کو کنعان میں بستے ہوئے دس سال ہو گئے تھے۔

رب نے کہا، "عین ایک سال کے بعد مَیں واپس آؤں گا تو تیری بیوی سارہ کے بیٹا ہو گا۔"

سارہ یہ باتیں سن رہی تھی، کیونکہ وہ اُس کے پیچھے خیمے کے دروازے کے پاس تھی۔ دونوں میاں بیوی بوڑھے ہو چکے تھے اور سارہ اُس عمر سے گزر چکی تھی جس میں عورتوں کے بچے پیدا ہوتے ہیں۔ اِس لئے سارہ اندر ہی اندر ہنس پڑی اور سوچا، "یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ کیا جب مَیں بُڑھاپے کے باعث گھسے پھٹے لباس کی مانند ہوں تو جوانی کے جوبن کا لطف اُٹھاؤں؟ اور میرا شوہر بھی بوڑھا ہے۔"

اونان نے ایسا کیا، لیکن وہ جانتا تھا کہ جو بھی بچے پیدا ہوں گے وہ قانون کے مطابق میرے بڑے بھائی کے ہوں گے۔ اِس لئے جب بھی وہ تمر سے ہم بستر ہوتا تو نطفہ کو زمین پر گرا دیتا، کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ میری معرفت میرے بھائی کے بچے پیدا ہوں۔ یہ بات رب کو بُری لگی، اور اُس نے اُسے بھی سزائے موت دی۔

پھر داؤد نے اپنی بیوی بت سبع کے پاس جا کر اُسے تسلی دی اور اُس سے ہم بستر ہوا۔ تب اُس کے ایک اَور بیٹا پیدا ہوا۔ داؤد نے اُس کا نام سلیمان یعنی امن پسند رکھا۔ یہ بچہ رب کو پیارا تھا،

اُس کے مقابلے میں ابیاہ کی طاقت بڑھتی گئی۔ اُس کی 14 بیویوں کے 22 بیٹے اور 16 بیٹیاں پیدا ہوئیں۔

چنانچہ ایسا ہی کرنا ہے جب شوہر غیرت کھائے اور اُسے اپنی بیوی پر زنا کا شک ہو۔ بیوی کو قربان گاہ کے سامنے کھڑا کیا جائے اور امام یہ سب کچھ کرے۔

رب نے یروشلم کو دوبارہ قبول کر لیا ہے

رب فرماتا ہے، "خوشی کے نعرے لگا، تُو جو بےاولاد ہے، جو بچے کو جنم ہی نہیں دے سکتی۔ بلند آواز سے شادیانہ بجا، تُو جسے پیدائش کا درد نہ ہوا۔ کیونکہ اب ترک کی ہوئی عورت کے بچے شادی شدہ عورت کے بچوں سے زیادہ ہیں۔

مَیں رب سے نہایت ہی شادمان ہوں، میری جان اپنے خدا کی تعریف میں خوشی کے گیت گاتی ہے۔ کیونکہ جس طرح دُولھا اپنا سر امام کی سی پگڑی سے سجاتا اور دُلھن اپنے آپ کو اپنے زیورات سے آراستہ کرتی ہے اُسی طرح اللہ نے مجھے نجات کا لباس پہنا کر راستی کی چادر میں لپیٹا ہے۔

وہاں بیت المُقدّس میں ایک عمر رسیدہ نبیہ بھی تھی جس کا نام حناہ تھا۔ وہ فنوایل کی بیٹی اور آشر کے قبیلے سے تھی۔ شادی کے سات سال بعد اُس کا شوہر مر گیا تھا۔

"جب تجھے کسی شادی کی ضیافت میں شریک ہونے کی دعوت دی جائے تو وہاں جا کر عزت کی کرسی پر نہ بیٹھنا۔ ایسا نہ ہو کہ کسی اَور کو بھی دعوت دی گئی ہو جو تجھ سے زیادہ عزت دار ہے۔

چنانچہ جو آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے کر کسی اَور سے شادی کرے وہ زنا کرتا ہے۔ اِسی طرح جو کسی طلاق شدہ عورت سے شادی کرے وہ بھی زنا کرتا ہے۔

لوگ اُس دن تک کھانے پینے اور شادی کرنے کروانے میں لگے رہے جب تک نوح کشتی میں داخل نہ ہو گیا۔ پھر سیلاب نے آ کر اُن سب کو تباہ کر دیا۔

پھر اُس نے کھڑے ہو کر کہا، "اے عورت، وہ سب کہاں گئے؟ کیا کسی نے تجھ پر فتویٰ نہیں لگایا؟"

عورت نے جواب دیا، "نہیں خداوند۔"

عیسیٰ نے کہا، "مَیں بھی تجھ پر فتویٰ نہیں لگاتا۔ جا، آئندہ گناہ نہ کرنا۔"

اور جس نے بھی میری خاطر اپنے گھروں، بھائیوں، بہنوں، باپ، ماں، بچوں یا کھیتوں کو چھوڑ دیا ہے اُسے سَو گُنا زیادہ مل جائے گا اور میراث میں ابدی زندگی پائے گا۔

"اُستاد، موسیٰ نے ہمیں حکم دیا کہ اگر کوئی شادی شدہ آدمی بےاولاد مر جائے اور اُس کا بھائی ہو تو بھائی کا فرض ہے کہ وہ بیوہ سے شادی کر کے اپنے بھائی کے لئے اولاد پیدا کرے۔

کیونکہ قیامت کے دن لوگ نہ شادی کریں گے نہ اُن کی شادی کرائی جائے گی بلکہ وہ آسمان پر فرشتوں کی مانند ہوں گے۔

دل ہی سے بُرے خیالات، قتل و غارت، زناکاری، حرام کاری، چوری، جھوٹی گواہی اور بہتان نکلتے ہیں۔

جو کام پرانی فطرت کرتی ہے وہ صاف ظاہر ہوتا ہے۔ مثلاً زناکاری، ناپاکی، عیاشی، بُت پرستی، جادوگری، دشمنی، جھگڑا، حسد، غصہ، خود غرضی، اَن بن، پارٹی بازی، جلن، نشہ بازی، رنگ رلیاں وغیرہ۔ مَیں پہلے بھی آپ کو آگاہ کر چکا ہوں، لیکن اب ایک بار پھر کہتا ہوں کہ جو اِس طرح کی زندگی گزارتے ہیں وہ اللہ کی بادشاہی میراث میں نہیں پائیں گے۔

گھر میں تیری بیوی انگور کی پھل دار بیل کی مانند ہو گی، اور تیرے بیٹے میز کے ارد گرد بیٹھ کر زیتون کی تازہ شاخوں کی مانند ہوں گے۔

شادی کی مثال لیں۔ جب کسی عورت کی شادی ہوتی ہے تو شریعت اُس کا شوہر کے ساتھ بندھن اُس وقت تک قائم رکھتی ہے جب تک شوہر زندہ ہے۔ اگر شوہر مر جائے تو پھر وہ اِس بندھن سے آزاد ہو گئی۔ چنانچہ اگر وہ اپنے خاوند کے جیتے جی کسی اَور مرد کی بیوی بن جائے تو اُسے زناکار قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن اگر اُس کا شوہر مر جائے تو وہ شریعت سے آزاد ہوئی۔ اب وہ کسی دوسرے مرد کی بیوی بنے تو زناکار نہیں ٹھہرتی۔

لیکن مجھے تجھ سے یہ شکایت ہے، تُو اُس عورت ایزبل کو جو اپنے آپ کو نبیہ کہتی ہے کام کرنے دیتا ہے، حالانکہ یہ اپنی تعلیم سے میرے خادموں کو صحیح راہ سے دُور کر کے اُنہیں زنا کرنے اور بُتوں کو پیش کی گئی قربانیاں کھانے پر اُکساتی ہے۔

وہ قتل و غارت، جادوگری، زناکاری اور چوریوں سے بھی توبہ کر کے باز نہ آئے۔

کیونکہ اُس کی عدالتیں سچی اور راست ہیں۔ اُس نے اُس بڑی کسبی کو مجرم ٹھہرایا ہے جس نے زمین کو اپنی زناکاری سے بگاڑ دیا۔ اُس نے اُس سے اپنے خادموں کی قتل و غارت کا بدلہ لے لیا ہے۔"

Seja o primeiro