Ensinar
Ensinar é mandamento e dom. A Bíblia exorta pais, líderes e mestres a transmitir a verdade divina com fidelidade, paciência e sabedoria para as próximas gerações.
Ensinar a Palavra
Toda Escritura é útil para ensinar. Quem ouve as palavras de Jesus e as pratica é como o homem sábio que construiu sobre a rocha.
کیونکہ ہر پاک نوشتہ اللہ کے روح سے وجود میں آیا ہے اور تعلیم دینے، ملامت کرنے، اصلاح کرنے اور راست باز زندگی گزارنے کی تربیت دینے کے لئے مفید ہے۔ کلامِ مُقدّس کا مقصد یہی ہے کہ اللہ کا بندہ ہر لحاظ سے قابل اور ہر نیک کام کے لئے تیار ہو۔
لہٰذا جو بھی میری یہ باتیں سن کر اُن پر عمل کرتا ہے وہ اُس سمجھ دار آدمی کی مانند ہے جس نے اپنے مکان کی بنیاد چٹان پر رکھی۔
آپ کی زندگی میں مسیح کے کلام کی پوری دولت گھر کر جائے۔ ایک دوسرے کو ہر طرح کی حکمت سے تعلیم دیتے اور سمجھاتے رہیں۔ ساتھ ساتھ اپنے دلوں میں اللہ کے لئے شکرگزاری کے ساتھ زبور، حمد و ثنا اور روحانی گیت گاتے رہیں۔
یہ سب کچھ ہمیں ہماری نصیحت کے لئے لکھا گیا تاکہ ہم ثابت قدمی اور کلامِ مُقدّس کی حوصلہ افزا باتوں سے اُمید پائیں۔
ذیل میں اسرائیل کے بادشاہ سلیمان بن داؤد کی امثال قلم بند ہیں۔
اِن سے تُو حکمت اور تربیت حاصل کرے گا، بصیرت کے الفاظ سمجھنے کے قابل ہو جائے گا، اور دانائی دلانے والی تربیت، راستی، انصاف اور دیانت داری اپنائے گا۔ یہ امثال سادہ لوح کو ہوشیاری اور نوجوان کو علم اور تمیز سکھاتی ہیں۔ جو دانا ہے وہ سن کر اپنے علم میں اضافہ کرے، جو سمجھ دار ہے وہ راہنمائی کرنے کا فن سیکھ لے۔ تب وہ امثال اور تمثیلیں، دانش مندوں کی باتیں اور اُن کے معمے سمجھ لے گا۔
حکمت اِس سے شروع ہوتی ہے کہ ہم رب کا خوف مانیں۔ صرف احمق حکمت اور تربیت کو حقیر جانتے ہیں۔
Instruir as gerações
Ensina a criança nos caminhos de Deus. A geração que não conhece o Senhor perde a herança espiritual da fé.
رب اپنے خدا سے اپنے پورے دل، اپنی پوری جان اور اپنی پوری طاقت سے پیار کرنا۔ جو احکام مَیں تجھے آج بتا رہا ہوں اُنہیں اپنے دل پر نقش کر۔ اُنہیں اپنے بچوں کے ذہن نشین کرا۔ یہی باتیں ہر وقت اور ہر جگہ تیرے لبوں پر ہوں خواہ تُو گھر میں بیٹھا یا راستے پر چلتا ہو، لیٹا ہو یا کھڑا ہو۔
میرے بیٹے، اپنے باپ کی تربیت کے تابع رہ، اور اپنی ماں کی ہدایت مسترد نہ کر۔ کیونکہ یہ تیرے سر پر دل کش سہرا اور تیرے گلے میں گلوبند ہیں۔
میرے بیٹے، اپنے باپ کے حکم سے لپٹا رہ، اور اپنی ماں کی ہدایت نظرانداز نہ کر۔ اُنہیں یوں اپنے دل کے ساتھ باندھے رکھ کہ کبھی دُور نہ ہو جائیں۔ اُنہیں ہار کی طرح اپنے گلے میں ڈال لے۔ چلتے وقت وہ تیری راہنمائی کریں، آرام کرتے وقت تیری پہرا داری کریں، جاگتے وقت تجھ سے ہم کلام ہوں۔ کیونکہ باپ کا حکم چراغ اور ماں کی ہدایت روشنی ہے، تربیت کی ڈانٹ ڈپٹ زندگی بخش راہ ہے۔
حکمت حاصل کر، سمجھ اپنا لے! یہ چیزیں مت بھولنا، میرے منہ کے الفاظ سے دُور نہ ہونا۔ حکمت ترک نہ کر تو وہ تجھے محفوظ رکھے گی۔ اُس سے محبت رکھ تو وہ تیری دیکھ بھال کرے گی۔ حکمت اِس سے شروع ہوتی ہے کہ تُو حکمت اپنا لے۔ سمجھ حاصل کرنے کے لئے باقی تمام ملکیت قربان کرنے کے لئے تیار ہو۔ اُسے عزیز رکھ تو وہ تجھے سرفراز کرے گی، اُسے گلے لگا تو وہ تجھے عزت بخشے گی۔
تربیت کا دامن تھامے رہ! اُسے نہ چھوڑ بلکہ محفوظ رکھ، کیونکہ وہ تیری زندگی ہے۔
بےدینوں کی راہ پر قدم نہ رکھ، شریروں کے راستے پر مت جا۔
تمام چیزوں سے پہلے اپنے دل کی حفاظت کر، کیونکہ یہی زندگی کا سرچشمہ ہے۔ اپنے منہ سے جھوٹ اور اپنے ہونٹوں سے کج گوئی دُور کر۔ دھیان دے کہ تیری آنکھیں سیدھا آگے کی طرف دیکھیں، کہ تیری نظر اُس راستے پر لگی رہے جو سیدھا ہے۔ اپنے پاؤں کا راستہ چلنے کے قابل بنا دے، دھیان دے کہ تیری راہیں مضبوط ہیں۔ نہ دائیں، نہ بائیں طرف مُڑ بلکہ اپنے پاؤں کو غلط قدم اُٹھانے سے باز رکھ۔
دانش مند کی ہدایت زندگی کا سرچشمہ ہے جو انسان کو مہلک پھندوں سے بچائے رکھتی ہے۔
رب کا خوف ماننے سے ہی حکمت شروع ہوتی ہے، قدوس خدا کو جاننے سے ہی سمجھ حاصل ہوتی ہے۔
آسف کا زبور۔ حکمت کا گیت۔
اے میری قوم، میری ہدایت پر دھیان دے، میرے منہ کی باتوں پر کان لگا۔
مَیں تمثیلوں میں بات کروں گا، قدیم زمانے کے معمے بیان کروں گا۔
جو کچھ ہم نے سن لیا اور ہمیں معلوم ہوا ہے، جو کچھ ہمارے باپ دادا نے ہمیں سنایا ہے
اُسے ہم اُن کی اولاد سے نہیں چھپائیں گے۔ ہم آنے والی پشت کو رب کے قابلِ تعریف کام بتائیں گے، اُس کی قدرت اور معجزات بیان کریں گے۔
جب ہم عصر اسرائیلی سب مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملے تو نئی نسل اُبھر آئی جو نہ تو رب کو جانتی، نہ اُن کاموں سے واقف تھی جو رب نے اسرائیل کے لئے کئے تھے۔
Fidelidade no ensino
Quem ensina com fidelidade merece dupla honra. Cuidado com doutrinas falsas — permaneçam na doutrina de Cristo.
جو بزرگ جماعت کو اچھی طرح سنبھالتے ہیں اُنہیں دُگنی عزت کے لائق سمجھا جائے۔ مَیں خاص کر اُن کی بات کر رہا ہوں جو پاک کلام سنانے اور تعلیم دینے میں محنت مشقت کرتے ہیں۔ کیونکہ کلامِ مُقدّس فرماتا ہے، "جب تُو فصل گاہنے کے لئے اُس پر بَیل چلنے دیتا ہے تو اُس کا منہ باندھ کر نہ رکھنا۔" یہ بھی لکھا ہے، "مزدور اپنی مزدوری کا حق دار ہے۔"
دنیاوی بکواس سے باز رہیں۔ کیونکہ جتنا یہ لوگ اِس میں پھنس جائیں گے اُتنا ہی بےدینی کا اثر بڑھے گا اور اُن کی تعلیم کینسر کی طرح پھیل جائے گی۔ اِن لوگوں میں ہمنیُس اور فلیتس بھی شامل ہیں
جو بھی مسیح کی تعلیم پر قائم نہیں رہتا بلکہ اِس سے آگے نکل جاتا ہے اُس کے پاس اللہ نہیں۔ جو مسیح کی تعلیم پر قائم رہتا ہے اُس کے پاس باپ بھی ہے اور فرزند بھی۔
عید کا آدھا حصہ گزر چکا تھا جب عیسیٰ بیت المُقدّس میں جا کر تعلیم دینے لگا۔ اُسے سن کر یہودی حیرت زدہ ہوئے اور کہا، "یہ آدمی کس طرح اِتنا علم رکھتا ہے حالانکہ اِس نے کہیں سے بھی تعلیم حاصل نہیں کی!"
عیسیٰ نے جواب دیا، "جو تعلیم مَیں دیتا ہوں وہ میری اپنی نہیں بلکہ اُس کی ہے جس نے مجھے بھیجا۔ جو اُس کی مرضی پوری کرنے کے لئے تیار ہے وہ جان لے گا کہ میری تعلیم اللہ کی طرف سے ہے یا کہ میری اپنی طرف سے۔ جو اپنی طرف سے بولتا ہے وہ اپنی ہی عزت چاہتا ہے۔ لیکن جو اپنے بھیجنے والے کی عزت و جلال بڑھانے کی کوشش کرتا ہے وہ سچا ہے اور اُس میں ناراستی نہیں ہے۔