Fim do mundo
A Bíblia fala sobre o fim do mundo como evento certo e definitivo. Céus e terra passarão, mas as palavras de Jesus jamais passarão. A questão não é se, mas quando.
Os céus passarão
Os céus e a terra passarão, mas as palavras de Jesus permanecerão para sempre. O mundo presente é temporário.
آسمان و زمین تو جاتے رہیں گے، لیکن میری باتیں ہمیشہ تک قائم رہیں گی۔
ابنِ آدم کی آمد
مصیبت کے اُن دنوں کے عین بعد سورج تاریک ہو جائے گا اور چاند کی روشنی ختم ہو جائے گی۔ ستارے آسمان پر سے گر پڑیں گے اور آسمان کی قوتیں ہلائی جائیں گی۔
کسی کو بھی اُس کی آمد کا وقت معلوم نہیں
لیکن کسی کو بھی علم نہیں کہ یہ کس دن یا کون سی گھڑی رونما ہو گا۔ آسمان کے فرشتوں اور فرزند کو بھی علم نہیں بلکہ صرف باپ کو۔
کسی کو بھی اُس کی آمد کا وقت معلوم نہیں
لیکن کسی کو بھی علم نہیں کہ یہ کس دن یا کون سی گھڑی رونما ہو گا۔ آسمان کے فرشتوں اور فرزند کو بھی علم نہیں بلکہ صرف باپ کو۔
O dia do Senhor
O dia do Senhor virá como ladrão. Os céus passarão com grande estrondo, e os elementos se dissolverão no fogo.
لیکن خداوند کا دن چور کی طرح آئے گا۔ آسمان بڑے شور کے ساتھ ختم ہو جائیں گے، اجرامِ فلکی آگ میں پگھل جائیں گے اور زمین اُس کے کاموں سمیت ظاہر ہو کر عدالت میں پیش کی جائے گی۔
اور اللہ کے اِسی حکم نے موجودہ آسمان اور زمین کو آگ کے لئے محفوظ کر رکھا ہے، اُس دن کے لئے جب بےدین لوگوں کی عدالت کی جائے گی اور وہ ہلاک ہو جائیں گے۔
اب سوچیں، اگر سب کچھ اِس طرح ختم ہو جائے گا تو پھر آپ کس قسم کے لوگ ہونے چاہئیں؟ آپ کو مُقدّس اور خدا ترس زندگی گزارتے ہوئے اللہ کے دن کی راہ دیکھنی چاہئے۔ ہاں، آپ کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ وہ دن جلدی آئے جب آسمان جل جائیں گے اور اجرامِ فلکی آگ میں پگھل جائیں گے۔
خداوند کی آمد کے لئے تیار رہنا
بھائیو، اِس کی ضرورت نہیں کہ ہم آپ کو لکھیں کہ یہ سب کچھ کب اور کس موقع پر ہو گا۔ کیونکہ آپ خود خوب جانتے ہیں کہ خداوند کا دن یوں آئے گا جس طرح چور رات کے وقت گھر میں گھس آتا ہے۔ جب لوگ کہیں گے، "اب امن و امان ہے،" تو ہلاکت اچانک ہی اُن پر آن پڑے گی۔ وہ اِس طرح مصیبت میں پڑ جائیں گے جس طرح وہ عورت جس کا بچہ پیدا ہو رہا ہے۔ وہ ہرگز نہیں بچ سکیں گے۔ لیکن آپ بھائیو تاریکی کی گرفت میں نہیں ہیں، اِس لئے یہ دن چور کی طرح آپ پر غالب نہیں آنا چاہئے۔ کیونکہ آپ سب روشنی اور دن کے فرزند ہیں۔ ہمارا رات یا تاریکی سے کوئی واسطہ نہیں۔
لیکن آپ بھائیو تاریکی کی گرفت میں نہیں ہیں، اِس لئے یہ دن چور کی طرح آپ پر غالب نہیں آنا چاہئے۔ کیونکہ آپ سب روشنی اور دن کے فرزند ہیں۔ ہمارا رات یا تاریکی سے کوئی واسطہ نہیں۔ غرض آئیں، ہم دوسروں کی مانند نہ ہوں جو سوئے ہوئے ہیں بلکہ جاگتے رہیں، ہوش مند رہیں۔ کیونکہ رات کے وقت ہی لوگ سو جاتے ہیں، رات کے وقت ہی لوگ نشے میں دُھت ہو جاتے ہیں۔ لیکن چونکہ ہم دن کے ہیں اِس لئے آئیں ہم ہوش میں رہیں۔ لازم ہے کہ ہم ایمان اور محبت کو زرہ بکتر کے طور پر اور نجات کی اُمید کو خود کے طور پر پہن لیں۔ کیونکہ اللہ نے ہمیں اِس لئے نہیں چنا کہ ہم پر اپنا غضب نازل کرے بلکہ اِس لئے کہ ہم اپنے خداوند عیسیٰ مسیح کے وسیلے سے نجات پائیں۔
Destruição e renovação
O Dia do Senhor trará juízo sobre os ímpios, mas também novos céus e nova terra onde habita a justiça.
رب کا عظیم دن قریب ہی ہے، وہ بڑی تیزی سے ہم پر نازل ہو رہا ہے۔ سنو! وہ دن تلخ ہو گا۔ حالات ایسے ہوں گے کہ بہادر فوجی بھی چیخ کر مدد کے لئے پکاریں گے۔ رب کا پورا غضب نازل ہو گا، اور لوگ پریشانی اور مصیبت میں مبتلا رہیں گے۔ ہر طرف تباہی و بربادی، ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا، ہر طرف گھنے بادل چھائے رہیں گے۔ اُس دن دشمن نرسنگا پھونک کر اور جنگ کے نعرے لگا کر قلعہ بند شہروں اور بُرجوں پر ٹوٹ پڑے گا۔ رب فرماتا ہے، "چونکہ لوگوں نے میرا گناہ کیا ہے اِس لئے مَیں اُن کو بڑی مصیبت میں اُلجھا دوں گا۔ وہ اندھوں کی طرح ٹٹول ٹٹول کر اِدھر اُدھر پھریں گے، اُن کا خون خاک کی طرح گرایا جائے گا اور اُن کی نعشیں گوبر کی طرح زمین پر پھینکی جائیں گی۔" جب رب کا غضب نازل ہو گا تو نہ اُن کا سونا، نہ چاندی اُنہیں بچا سکے گی۔ اُس کی غیرت پورے ملک کو آگ کی طرح بھسم کر دے گی۔ وہ ملک کے تمام باشندوں کو ہلاک کرے گا، ہاں اُن کا انجام ہول ناک ہو گا۔
دیکھو، رب کا بےرحم دن آ رہا ہے جب اُس کا قہر اور شدید غضب نازل ہو گا۔ اُس وقت ملک تباہ ہو جائے گا اور گناہ گار کو اُس میں سے مٹا دیا جائے گا۔
لیلے نے چھٹی مُہر کھولی تو مَیں نے ایک شدید زلزلہ دیکھا۔ سورج بکری کے بالوں سے بنے ٹاٹ کی مانند کالا ہو گیا، پورا چاند خون جیسا نظر آنے لگا اور آسمان کے ستارے زمین پر یوں گر گئے جس طرح انجیر کے درخت پر لگے آخری انجیر تیز ہَوا کے جھونکوں سے گر جاتے ہیں۔
بڑے اژدہے کو نکال دیا گیا، اُس قدیم اژدہے کو جو ابلیس یا شیطان کہلاتا ہے اور جو پوری دنیا کو گم راہ کر دیتا ہے۔ اُسے اُس کے فرشتوں سمیت زمین پر پھینکا گیا۔
ابنِ آدم کی آمد
سورج، چاند اور ستاروں میں عجیب و غریب نشان ظاہر ہوں گے۔ قومیں سمندر کے شور اور ٹھاٹھیں مارنے سے حیران و پریشان ہوں گی۔ لوگ اِس اندیشے سے کہ کیا کیا مصیبت دنیا پر آئے گی اِس قدر خوف کھائیں گے کہ اُن کی جان میں جان نہ رہے گی، کیونکہ آسمان کی قوتیں ہلائی جائیں گی۔
ہر وقت چوکس رہو اور دعا کرتے رہو کہ تم کو آنے والی اِن سب باتوں سے بچ نکلنے کی توفیق مل جائے اور تم ابنِ آدم کے سامنے کھڑے ہو سکو۔"
نیا آسمان اور نئی زمین
پھر مَیں نے ایک نیا آسمان اور ایک نئی زمین دیکھی۔ کیونکہ پہلا آسمان اور پہلی زمین ختم ہو گئے تھے اور سمندر بھی نیست تھا۔ مَیں نے نئے یروشلم کو بھی دیکھا۔ یہ مُقدّس شہر دُلھن کی صورت میں اللہ کے پاس سے آسمان پر سے اُتر رہا تھا۔ اور یہ دُلھن اپنے دُولھے کے لئے تیار اور سجی ہوئی تھی۔ مَیں نے ایک آواز سنی جس نے تخت پر سے کہا، "اب اللہ کی سکونت گاہ انسانوں کے درمیان ہے۔ وہ اُن کے ساتھ سکونت کرے گا اور وہ اُس کی قوم ہوں گے۔ اللہ خود اُن کا خدا ہو گا۔ وہ اُن کی آنکھوں سے تمام آنسو پونچھ ڈالے گا۔ اب سے نہ موت ہو گی نہ ماتم، نہ رونا ہو گا نہ درد، کیونکہ جو بھی پہلے تھا وہ جاتا رہا ہے۔"
جو تخت پر بیٹھا تھا اُس نے کہا، "مَیں سب کچھ نئے سرے سے بنا رہا ہوں۔" اُس نے یہ بھی کہا، "یہ لکھ دے، کیونکہ یہ الفاظ قابلِ اعتماد اور سچے ہیں۔"