Jesus Cristo
Jesus Cristo é o centro de toda a Escritura — Deus encarnado, Salvador do mundo, Senhor dos senhores. Nele habita corporalmente toda a plenitude da divindade.
A divindade de Cristo
No princípio era o Verbo, e o Verbo estava com Deus, e o Verbo era Deus. Jesus é Deus revelado em carne humana.
ابتدا میں کلام تھا۔ کلام اللہ کے ساتھ تھا اور کلام اللہ تھا۔
ابتدا میں کلام تھا۔ کلام اللہ کے ساتھ تھا اور کلام اللہ تھا۔ یہی ابتدا میں اللہ کے ساتھ تھا۔ سب کچھ کلام کے وسیلے سے پیدا ہوا۔ مخلوقات کی ایک بھی چیز اُس کے بغیر پیدا نہیں ہوئی۔
کلام انسان بن کر ہمارے درمیان رہائش پذیر ہوا اور ہم نے اُس کے جلال کا مشاہدہ کیا۔ وہ فضل اور سچائی سے معمور تھا اور اُس کا جلال باپ کے اکلوتے فرزند کا سا تھا۔
کیونکہ مسیح میں الوہیت کی ساری معموری مجسم ہو کر سکونت کرتی ہے۔
کیونکہ مسیح میں الوہیت کی ساری معموری مجسم ہو کر سکونت کرتی ہے۔ اور آپ کو جو مسیح میں ہیں اُس کی معموری میں شریک کر دیا گیا ہے۔ وہی ہر حکمران اور اختیار والے کا سر ہے۔
وہی سوچ رکھیں جو مسیح عیسیٰ کی بھی تھی۔
وہ جو اللہ کی صورت پر تھا
نہیں سمجھتا تھا کہ میرا اللہ کے برابر ہونا
کوئی ایسی چیز ہے
جس کے ساتھ زبردستی چمٹے رہنے کی ضرورت ہے۔
نہیں، اُس نے اپنے آپ کو اِس سے محروم کر کے
غلام کی صورت اپنائی
اور انسانوں کی مانند بن گیا۔
شکل و صورت میں وہ انسان پایا گیا۔
وہی سوچ رکھیں جو مسیح عیسیٰ کی بھی تھی۔
Jesus, o Filho de Deus
Tu és o Cristo, o Filho do Deus vivo! Jesus revelou o Pai e demonstrou sua autoridade divina por palavras e obras.
اُس نے پوچھا، "لیکن تمہارے نزدیک مَیں کون ہوں؟"
پطرس نے جواب دیا، "آپ زندہ خدا کے فرزند مسیح ہیں۔"
عیسیٰ نے کہا، "شمعون بن یونس، تُو مبارک ہے، کیونکہ کسی انسان نے تجھ پر یہ ظاہر نہیں کیا بلکہ میرے آسمانی باپ نے۔
"دیکھو ایک کنواری حاملہ ہو گی۔ اُس سے بیٹا پیدا ہو گا اور وہ اُس کا نام عمانوایل رکھیں گے۔" (عمانوایل کا مطلب ’خدا ہمارے ساتھ‘ ہے۔)
جب پاس کھڑے رومی افسر اور عیسیٰ کی پہرا داری کرنے والے فوجیوں نے زلزلہ اور یہ تمام واقعات دیکھے تو وہ نہایت دہشت زدہ ہو گئے۔ اُنہوں نے کہا، "یہ واقعی اللہ کا فرزند تھا۔"
لیکن عیسیٰ خاموش رہا۔ اُس نے کوئی جواب نہ دیا۔ امامِ اعظم نے اُس سے ایک اَور سوال کیا، "کیا تُو الحمید کا فرزند مسیح ہے؟"
عیسیٰ نے کہا، "جی، مَیں ہوں۔ اور آئندہ تم ابنِ آدم کو قادرِ مطلق کے دہنے ہاتھ بیٹھے اور آسمان کے بادلوں پر آتے ہوئے دیکھو گے۔"
اُس نے کہا، "مت گھبراؤ۔ تم عیسیٰ ناصری کو ڈھونڈ رہی ہو جو مصلوب ہوا تھا۔ وہ جی اُٹھا ہے، وہ یہاں نہیں ہے۔ اُس جگہ کو خود دیکھ لو جہاں اُسے رکھا گیا تھا۔
ایک دن جب بہت سے لوگوں کو بپتسمہ دیا جا رہا تھا تو عیسیٰ نے بھی بپتسمہ لیا۔ جب وہ دعا کر رہا تھا تو آسمان کھل گیا اور روح القدس جسمانی صورت میں کبوتر کی طرح اُس پر اُتر آیا۔ ساتھ ساتھ آسمان سے ایک آواز سنائی دی، "تُو میرا پیارا فرزند ہے، تجھ سے مَیں خوش ہوں۔"
Eu Sou
Jesus disse: antes que Abraão existisse, Eu Sou. Ele se identificou com o nome divino revelado a Moisés na sarça ardente.
عیسیٰ نے اُن سے کہا، "مَیں تم کو سچ بتاتا ہوں، ابراہیم کی پیدائش سے پیشتر ’مَیں ہوں‘۔"
لیکن موسیٰ نے اعتراض کیا، "اگر مَیں اسرائیلیوں کے پاس جا کر اُنہیں بتاؤں کہ تمہارے باپ دادا کے خدا نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے تو وہ پوچھیں گے، ’اُس کا نام کیا ہے؟‘ پھر مَیں اُن کو کیا جواب دوں؟"
اللہ نے کہا، "مَیں جو ہوں سو مَیں ہوں۔ اُن سے کہنا، ’مَیں ہوں نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے۔
مَیں اور باپ ایک ہیں۔"
لیکن عیسیٰ نے اُنہیں جواب دیا، "میرا باپ آج تک کام کرتا آیا ہے، اور مَیں بھی ایسا کرتا ہوں۔"
یہ سن کر یہودی اُسے قتل کرنے کی مزید کوشش کرنے لگے، کیونکہ اُس نے نہ صرف سبت کے دن کو منسوخ قرار دیا تھا بلکہ اللہ کو اپنا باپ کہہ کر اپنے آپ کو اللہ کے برابر ٹھہرایا تھا۔
یہ سن کر یہودی اُسے قتل کرنے کی مزید کوشش کرنے لگے، کیونکہ اُس نے نہ صرف سبت کے دن کو منسوخ قرار دیا تھا بلکہ اللہ کو اپنا باپ کہہ کر اپنے آپ کو اللہ کے برابر ٹھہرایا تھا۔
کیونکہ جس طرح باپ مُردوں کو زندہ کرتا ہے اُسی طرح فرزند بھی جنہیں چاہتا ہے زندہ کر دیتا ہے۔ اور باپ کسی کی بھی عدالت نہیں کرتا بلکہ اُس نے عدالت کا پورا انتظام فرزند کے سپرد کر دیا ہے تاکہ سب اُسی طرح فرزند کی عزت کریں جس طرح وہ باپ کی عزت کرتے ہیں۔ جو فرزند کی عزت نہیں کرتا وہ باپ کی بھی عزت نہیں کرتا جس نے اُسے بھیجا ہے۔
مَیں تم کو سچ بتاتا ہوں کہ ایک وقت آنے والا ہے بلکہ آ چکا ہے جب مُردے اللہ کے فرزند کی آواز سنیں گے۔ اور جتنے سنیں گے وہ زندہ ہو جائیں گے۔
O Salvador e Senhor
Jesus é o caminho, a verdade e a vida. Não há outro nome dado entre os homens pelo qual devamos ser salvos.
عیسیٰ نے جواب دیا، "راہ اور حق اور زندگی مَیں ہوں۔ کوئی میرے وسیلے کے بغیر باپ کے پاس نہیں آ سکتا۔
عیسیٰ نے جواب دیا، "فلپّس، مَیں اِتنی دیر سے تمہارے ساتھ ہوں، کیا اِس کے باوجود تُو مجھے نہیں جانتا؟ جس نے مجھے دیکھا اُس نے باپ کو دیکھا ہے۔ تو پھر تُو کیونکر کہتا ہے، ’باپ کو ہمیں دکھائیں‘؟ کیا تُو ایمان نہیں رکھتا کہ مَیں باپ میں ہوں اور باپ مجھ میں ہے؟ جو باتیں مَیں تم کو بتاتا ہوں وہ میری نہیں بلکہ مجھ میں رہنے والے باپ کی طرف سے ہیں۔ وہی اپنا کام کر رہا ہے۔
عیسیٰ نے اُسے بتایا، "قیامت اور زندگی تو مَیں ہوں۔ جو مجھ پر ایمان رکھے وہ زندہ رہے گا، چاہے وہ مر بھی جائے۔
عیسیٰ نے اُس سے کہا، "کیا مَیں نے تجھے نہیں بتایا کہ اگر تُو ایمان رکھے تو اللہ کا جلال دیکھے گی؟"
کسی دوسرے کے وسیلے سے نجات حاصل نہیں ہوتی، کیونکہ آسمان کے تلے ہم انسانوں کو کوئی اَور نام نہیں بخشا گیا جس کے وسیلے سے ہم نجات پا سکیں۔"
سڑک پر سفر کرتے کرتے وہ ایک جگہ سے گزرے جہاں پانی تھا۔ خواجہ سرا نے کہا، "دیکھیں، یہاں پانی ہے۔ اب مجھے بپتسمہ لینے سے کون سی چیز روک سکتی ہے؟" [فلپّس نے کہا، "اگر آپ پورے دل سے ایمان لائیں تو لے سکتے ہیں۔" اُس نے جواب دیا، "مَیں ایمان رکھتا ہوں کہ عیسیٰ مسیح اللہ کا فرزند ہے۔"]
اُس نے رتھ کو روکنے کا حکم دیا۔ دونوں پانی میں اُتر گئے اور فلپّس نے اُسے بپتسمہ دیا۔
A supremacia de Cristo
Ele é o resplendor da glória de Deus e a expressão exata do seu ser. Toda a plenitude habita nele e por Ele tudo subsiste.
فرزند اللہ کا شاندار جلال منعکس کرتا اور اُس کی ذات کی عین شبیہ ہے۔ وہ اپنے قوی کلام سے سب کچھ سنبھالے رکھتا ہے۔ جب وہ دنیا میں تھا تو اُس نے ہمارے لئے گناہوں سے پاک صاف ہو جانے کا انتظام قائم کیا۔ اِس کے بعد وہ آسمان پر قادرِ مطلق کے دہنے ہاتھ جا بیٹھا۔
فرزند فرشتوں سے کہیں عظیم ہے، اِتنا جتنا اُس کا میراث میں پایا ہوا نام اُن کے ناموں سے عظیم ہے۔
غرض آئیں، ہم اُس ایمان سے لپٹے رہیں جس کا اقرار ہم کرتے ہیں۔ کیونکہ ہمارا ایسا عظیم امامِ اعظم ہے جو آسمانوں میں سے گزر گیا یعنی عیسیٰ اللہ کا فرزند۔ اور وہ ایسا امامِ اعظم نہیں ہے جو ہماری کمزوریوں کو دیکھ کر ہم دردی نہ دکھائے بلکہ اگرچہ وہ بےگناہ رہا توبھی ہماری طرح اُسے ہر قسم کی آزمائش کا سامنا کرنا پڑا۔
اور دوڑتے ہوئے ہم عیسیٰ کو تکتے رہیں، اُسے جو ایمان کا بانی بھی ہے اور اُسے تکمیل تک پہنچانے والا بھی۔ یاد رہے کہ گو وہ خوشی حاصل کر سکتا تھا توبھی اُس نے صلیبی موت کی شرم ناک بےعزتی کی پروا نہ کی بلکہ اِسے برداشت کیا۔ اور اب وہ اللہ کے تخت کے دہنے ہاتھ جا بیٹھا ہے!
اِس لئے لازم تھا کہ وہ ہر لحاظ سے اپنے بھائیوں کی مانند بن جائے۔ صرف اِس سے اُس کا یہ مقصد پورا ہو سکا کہ وہ اللہ کے حضور ایک رحیم اور وفادار امامِ اعظم بن کر لوگوں کے گناہوں کا کفارہ دے سکے۔
لیکن اُس نے ہماری ہی بیماریاں اُٹھا لیں، ہمارا ہی دُکھ بھگت لیا۔ توبھی ہم سمجھے کہ یہ اُس کی مناسب سزا ہے، کہ اللہ نے خود اُسے مار کر خاک میں ملا دیا ہے۔
لیکن اُسے ہمارے ہی جرائم کے سبب سے چھیدا گیا، ہمارے ہی گناہوں کی خاطر کچلا گیا۔ اُسے سزا ملی تاکہ ہمیں سلامتی حاصل ہو، اور اُسی کے زخموں سے ہمیں شفا ملی۔
کیونکہ ہمارے ہاں بچہ پیدا ہوا، ہمیں بیٹا بخشا گیا ہے۔ اُس کے کندھوں پر حکومت کا اختیار ٹھہرا رہے گا۔ وہ انوکھا مشیر، قوی خدا، ابدی باپ اور صلح سلامتی کا شہزادہ کہلائے گا۔
Confessar a Cristo
Todo aquele que confessa que Jesus é o Filho de Deus, Deus permanece nele e ele em Deus. A fé em Cristo é a vitória.
اگر کوئی اقرار کرے کہ عیسیٰ اللہ کا فرزند ہے تو اللہ اُس میں رہتا ہے اور وہ اللہ میں۔
اگر کوئی اقرار کرے کہ عیسیٰ اللہ کا فرزند ہے تو اللہ اُس میں رہتا ہے اور وہ اللہ میں۔
اِس میں اللہ کی محبت ہمارے درمیان ظاہر ہوئی کہ اُس نے اپنے اکلوتے فرزند کو دنیا میں بھیج دیا تاکہ ہم اُس کے ذریعے جئیں۔ یہی محبت ہے، یہ نہیں کہ ہم نے اللہ سے محبت کی بلکہ یہ کہ اُس نے ہم سے محبت کر کے اپنے فرزند کو بھیج دیا تاکہ وہ ہمارے گناہوں کو مٹانے کے لئے کفارہ دے۔
اِس میں اللہ کی محبت ہمارے درمیان ظاہر ہوئی کہ اُس نے اپنے اکلوتے فرزند کو دنیا میں بھیج دیا تاکہ ہم اُس کے ذریعے جئیں۔
جو گناہ کرتا ہے وہ ابلیس سے ہے، کیونکہ ابلیس شروع ہی سے گناہ کرتا آیا ہے۔ اللہ کا فرزند اِسی لئے ظاہر ہوا کہ ابلیس کا کام تباہ کرے۔
کون دنیا پر غالب آ سکتا ہے؟ صرف وہ جو ایمان رکھتا ہے کہ عیسیٰ اللہ کا فرزند ہے۔
اور گواہی یہ ہے، اللہ نے ہمیں ابدی زندگی عطا کی ہے، اور یہ زندگی اُس کے فرزند میں ہے۔ جس کے پاس فرزند ہے اُس کے پاس زندگی ہے، اور جس کے پاس اللہ کا فرزند نہیں ہے اُس کے پاس زندگی بھی نہیں ہے۔
یعنی یہ کہ اگر تُو اپنے منہ سے اقرار کرے کہ عیسیٰ خداوند ہے اور دل سے ایمان لائے کہ اللہ نے اُسے مُردوں میں سے زندہ کر دیا تو تجھے نجات ملے گی۔
Viver em Cristo
Já não sou eu quem vive, mas Cristo vive em mim. Ele supre toda necessidade, dá paz e reina como Senhor.
اور یوں مَیں خود زندہ نہ رہا بلکہ مسیح مجھ میں زندہ ہے۔ اب جو زندگی مَیں اِس جسم میں گزارتا ہوں وہ اللہ کے فرزند پر ایمان لانے سے گزارتا ہوں۔ اُسی نے مجھ سے محبت رکھ کر میرے لئے اپنی جان دی۔
جواب میں میرا خدا اپنی اُس جلالی دولت کے موافق جو مسیح عیسیٰ میں ہے آپ کی تمام ضروریات پوری کرے۔
مسیح کی سلامتی آپ کے دلوں میں حکومت کرے۔ کیونکہ اللہ نے آپ کو اِسی سلامتی کی زندگی گزارنے کے لئے بُلا کر ایک بدن میں شامل کر دیا ہے۔ شکرگزار بھی رہیں۔
ہاں، ہم اُسی کی مخلوق ہیں جنہیں اُس نے مسیح میں نیک کام کرنے کے لئے خلق کیا ہے۔ اور یہ کام اُس نے پہلے سے ہمارے لئے تیار کر رکھے ہیں، کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ ہم اُنہیں سرانجام دیتے ہوئے زندگی گزاریں۔
محبت کی روح میں زندگی یوں گزاریں جیسے مسیح نے گزاری۔ کیونکہ اُس نے ہم سے محبت رکھ کر اپنے آپ کو ہمارے لئے اللہ کے حضور قربان کر دیا اور یوں ایسی قربانی بن گیا جس کی خوشبو اللہ کو پسند آئی۔
ہمارے ایک ہی جسم میں بہت سے اعضا ہیں، اور ہر ایک عضو کا فرق فرق کام ہوتا ہے۔ اِسی طرح گو ہم بہت ہیں، لیکن مسیح میں ایک ہی بدن ہیں، جس میں ہر عضو دوسروں کے ساتھ جُڑا ہوا ہے۔
لیکن خدا کا شکر ہے جو ہمیں ہمارے خداوند عیسیٰ مسیح کے وسیلے سے فتح بخشتا ہے۔
بلکہ اپنے دلوں میں خداوند مسیح کو مخصوص و مُقدّس جانیں۔ اور جو بھی آپ سے آپ کی مسیح پر اُمید کے بارے میں پوچھے ہر وقت اُسے جواب دینے کے لئے تیار رہیں۔ لیکن نرم دلی سے اور خدا کے خوف کے ساتھ جواب دیں۔
کیونکہ ایک ہی خدا ہے اور اللہ اور انسان کے بیچ میں ایک ہی درمیانی ہے یعنی مسیح عیسیٰ، وہ انسان
O Rei eterno
O Rei dos reis voltará em glória e majestade. Todo joelho se dobrará e toda língua confessará que Jesus Cristo é o Senhor.
پھر مَیں نے آسمان کو کھلا دیکھا۔ ایک سفید گھوڑا نظر آیا جس کے سوار کا نام "وفادار اور سچا" ہے، کیونکہ وہ انصاف سے عدالت اور جنگ کرتا ہے۔ اُس کی آنکھیں بھڑکتے شعلے کی مانند ہیں اور اُس کے سر پر بہت سے تاج ہیں۔ اُس پر ایک نام لکھا ہے جسے صرف وہی جانتا ہے، کوئی اَور اُسے نہیں جانتا۔ وہ ایک لباس سے ملبّس تھا جسے خون میں ڈبویا گیا تھا۔ اُس کا نام "اللہ کا کلام" ہے۔ آسمان کی فوجیں اُس کے پیچھے پیچھے چل رہی تھیں۔ سب سفید گھوڑوں پر سوار تھے اور باریک کتان کے چمکتے اور پاک صاف کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ اُس کے منہ سے ایک تیز تلوار نکلتی ہے جس سے وہ قوموں کو مار دے گا۔ وہ لوہے کے شاہی عصا سے اُن پر حکومت کرے گا۔ ہاں، وہ انگور کا رس نکالنے کے حوض میں اُنہیں کچل ڈالے گا۔ یہ حوض کیا ہے؟ اللہ قادرِ مطلق کا سخت غضب۔ اُس کے لباس اور ران پر یہ نام لکھا ہے، "بادشاہوں کا بادشاہ اور ربوں کا رب۔"
خداوند عیسیٰ کا فضل سب کے ساتھ رہے۔
پھر وہ توما سے مخاطب ہوا، "اپنی اُنگلی کو میرے ہاتھوں اور اپنے ہاتھ کو میرے پہلو کے زخم میں ڈال اور بےاعتقاد نہ ہو بلکہ ایمان رکھ۔"
توما نے جواب میں اُس سے کہا، "اے میرے خداوند! اے میرے خدا!"
عیسیٰ نے اپنے شاگردوں کی موجودگی میں مزید بہت سے ایسے الٰہی نشان دکھائے جو اِس کتاب میں درج نہیں ہیں۔ لیکن جتنے درج ہیں اُن کا مقصد یہ ہے کہ آپ ایمان لائیں کہ عیسیٰ ہی مسیح یعنی اللہ کا فرزند ہے اور آپ کو اِس ایمان کے وسیلے سے اُس کے نام سے زندگی حاصل ہو۔
میرا حکم یہ ہے کہ ایک دوسرے کو ویسے پیار کرو جیسے مَیں نے تم کو پیار کیا ہے۔
مَیں تم کو سچ بتاتا ہوں کہ جو شخص اُسے قبول کرتا ہے جسے مَیں نے بھیجا ہے وہ مجھے قبول کرتا ہے۔ اور جو مجھے قبول کرتا ہے وہ اُسے قبول کرتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔"
مَیں اُنہیں ابدی زندگی دیتا ہوں، اِس لئے وہ کبھی ہلاک نہیں ہوں گی۔ کوئی اُنہیں میرے ہاتھ سے چھین نہ لے گا، کیونکہ میرے باپ نے اُنہیں میرے سپرد کیا ہے اور وہی سب سے بڑا ہے۔ کوئی اُنہیں باپ کے ہاتھ سے چھین نہیں سکتا۔ مَیں اور باپ ایک ہیں۔"
کیونکہ اللہ نے دنیا سے اِتنی محبت رکھی کہ اُس نے اپنے اکلوتے فرزند کو بخش دیا، تاکہ جو بھی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ابدی زندگی پائے۔ کیونکہ اللہ نے اپنے فرزند کو اِس لئے دنیا میں نہیں بھیجا کہ وہ دنیا کو مجرم ٹھہرائے بلکہ اِس لئے کہ وہ اُسے نجات دے۔
جو بھی اُس پر ایمان لایا ہے اُسے مجرم نہیں قرار دیا جائے گا، لیکن جو ایمان نہیں رکھتا اُسے مجرم ٹھہرایا جا چکا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ وہ اللہ کے اکلوتے فرزند کے نام پر ایمان نہیں لایا۔
جو اپنی صلیب اُٹھا کر میرے پیچھے نہ ہو لے وہ میرے لائق نہیں۔
کیونکہ جہاں بھی دو یا تین افراد میرے نام میں جمع ہو جائیں وہاں مَیں اُن کے درمیان ہوں گا۔"
عیسیٰ نے غور سے اُن کی طرف دیکھ کر جواب دیا، "یہ انسان کے لئے تو ناممکن ہے، لیکن اللہ کے لئے نہیں۔ اُس کے لئے سب کچھ ممکن ہے۔"
عیسیٰ نے جواب دیا، "جو انسان کے لئے ناممکن ہے وہ اللہ کے لئے ممکن ہے۔"
خداوند عیسیٰ کا فضل آپ سب کے ساتھ ہوتا رہے۔