Publicidade

Morte de Jesus

Por Bíblia Online

A morte de Jesus é o sacrifício supremo do amor de Deus. Na cruz, o Cordeiro de Deus carregou os pecados do mundo, satisfez a justiça divina e abriu o caminho da salvação para todos.

O sacrifício na cruz

Jesus disse: 'Está consumado!' Na cruz, Ele cumpriu toda a lei, pagou o preço do pecado e reconciliou a humanidade com Deus.

عیسیٰ کی موت

اِس کے بعد جب عیسیٰ نے جان لیا کہ میرا مشن تکمیل تک پہنچ چکا ہے تو اُس نے کہا، "مجھے پیاس لگی ہے۔" (اِس سے بھی کلامِ مُقدّس کی ایک پیش گوئی پوری ہوئی۔)

قریب مَے کے سرکے سے بھرا برتن پڑا تھا۔ اُنہوں نے ایک اسپنج سرکے میں ڈبو کر اُسے زوفے کی شاخ پر لگا دیا اور اُٹھا کر عیسیٰ کے منہ تک پہنچایا۔ یہ سرکہ پینے کے بعد عیسیٰ بول اُٹھا، "کام مکمل ہو گیا ہے۔" اور سر جھکا کر اُس نے اپنی جان اللہ کے سپرد کر دی۔

عیسیٰ کو صلیب پر چڑھانے کے بعد فوجیوں نے اُس کے کپڑے لے کر چار حصوں میں بانٹ لئے، ہر فوجی کے لئے ایک حصہ۔ لیکن چوغہ بےجوڑ تھا۔ وہ اوپر سے لے کر نیچے تک بُنا ہوا ایک ہی ٹکڑے کا تھا۔ اِس لئے فوجیوں نے کہا، "آؤ، اِسے پھاڑ کر تقسیم نہ کریں بلکہ اِس پر قرعہ ڈالیں۔" یوں کلامِ مُقدّس کی یہ پیش گوئی پوری ہوئی، "اُنہوں نے آپس میں میرے کپڑے بانٹ لئے اور میرے لباس پر قرعہ ڈالا۔" فوجیوں نے یہی کچھ کیا۔

کچھ خواتین بھی عیسیٰ کی صلیب کے قریب کھڑی تھیں: اُس کی ماں، اُس کی خالہ، کلوپاس کی بیوی مریم اور مریم مگدلینی۔ جب عیسیٰ نے اپنی ماں کو اُس شاگرد کے ساتھ کھڑے دیکھا جو اُسے پیارا تھا تو اُس نے کہا، "اے خاتون، دیکھیں آپ کا بیٹا یہ ہے۔"

اور اُس شاگرد سے اُس نے کہا، "دیکھ، تیری ماں یہ ہے۔" اُس وقت سے اُس شاگرد نے عیسیٰ کی ماں کو اپنے گھر رکھا۔

چلتے چلتے وہ اُس جگہ پہنچے جس کا نام کھوپڑی تھا۔ وہاں اُنہوں نے عیسیٰ کو دونوں مجرموں سمیت مصلوب کیا۔ ایک مجرم کو اُس کے دائیں ہاتھ اور دوسرے کو اُس کے بائیں ہاتھ لٹکا دیا گیا۔ عیسیٰ نے کہا، "اے باپ، اِنہیں معاف کر، کیونکہ یہ جانتے نہیں کہ کیا کر رہے ہیں۔"

اُنہوں نے قرعہ ڈال کر اُس کے کپڑے آپس میں بانٹ لئے۔ ہجوم وہاں کھڑا تماشا دیکھتا رہا جبکہ قوم کے سرداروں نے اُس کا مذاق بھی اُڑایا۔ اُنہوں نے کہا، "اُس نے اَوروں کو بچایا ہے۔ اگر یہ اللہ کا چنا ہوا اور مسیح ہے تو اپنے آپ کو بچائے۔"

فوجیوں نے بھی اُسے لعن طعن کی۔ اُس کے پاس آ کر اُنہوں نے اُسے مَے کا سرکہ پیش کیا اور کہا، "اگر تُو یہودیوں کا بادشاہ ہے تو اپنے آپ کو بچا لے۔"

اُس کے سر کے اوپر ایک تختی لگائی گئی تھی جس پر لکھا تھا، "یہ یہودیوں کا بادشاہ ہے۔"

جو مجرم اُس کے ساتھ مصلوب ہوئے تھے اُن میں سے ایک نے کفر بکتے ہوئے کہا، "کیا تُو مسیح نہیں ہے؟ تو پھر اپنے آپ کو اور ہمیں بھی بچا لے۔"

لیکن دوسرے نے یہ سن کر اُسے ڈانٹا، "کیا تُو اللہ سے بھی نہیں ڈرتا؟ جو سزا اُسے دی گئی ہے وہ تجھے بھی ملی ہے۔ ہماری سزا تو واجبی ہے، کیونکہ ہمیں اپنے کاموں کا بدلہ مل رہا ہے، لیکن اِس نے کوئی بُرا کام نہیں کیا۔" پھر اُس نے عیسیٰ سے کہا، "جب آپ اپنی بادشاہی میں آئیں تو مجھے یاد کریں۔"

عیسیٰ نے اُس سے کہا، "مَیں تجھے سچ بتاتا ہوں کہ تُو آج ہی میرے ساتھ فردوس میں ہو گا۔"

عیسیٰ کی موت

دوپہر بارہ بجے پورا ملک اندھیرے میں ڈوب گیا۔ یہ تاریکی تین گھنٹوں تک رہی۔ پھر تین بجے عیسیٰ اونچی آواز سے پکار اُٹھا، "ایلی، ایلی، لما شبقتنی؟" جس کا مطلب ہے، "اے میرے خدا، اے میرے خدا، تُو نے مجھے کیوں ترک کر دیا ہے؟"

اُسی وقت بیت المُقدّس کے مُقدّس ترین کمرے کے سامنے لٹکا ہوا پردہ اوپر سے لے کر نیچے تک دو حصوں میں پھٹ گیا۔ زلزلہ آیا، چٹانیں پھٹ گئیں اور قبریں کھل گئیں۔ کئی مرحوم مُقدّسین کے جسموں کو زندہ کر دیا گیا۔ وہ عیسیٰ کے جی اُٹھنے کے بعد قبروں میں سے نکل کر مُقدّس شہر میں داخل ہوئے اور بہتوں کو نظر آئے۔

جب پاس کھڑے رومی افسر اور عیسیٰ کی پہرا داری کرنے والے فوجیوں نے زلزلہ اور یہ تمام واقعات دیکھے تو وہ نہایت دہشت زدہ ہو گئے۔ اُنہوں نے کہا، "یہ واقعی اللہ کا فرزند تھا۔"

لیکن اُسے ہمارے ہی جرائم کے سبب سے چھیدا گیا، ہمارے ہی گناہوں کی خاطر کچلا گیا۔ اُسے سزا ملی تاکہ ہمیں سلامتی حاصل ہو، اور اُسی کے زخموں سے ہمیں شفا ملی۔ ہم سب بھیڑبکریوں کی طرح آوارہ پھر رہے تھے، ہر ایک نے اپنی اپنی راہ اختیار کی۔ لیکن رب نے اُسے ہم سب کے قصور کا نشانہ بنایا۔

اُس پر ظلم ہوا، لیکن اُس نے سب کچھ برداشت کیا اور اپنا منہ نہ کھولا، اُس بھیڑ کی طرح جسے ذبح کرنے کے لئے لے جاتے ہیں۔ جس طرح لیلا بال کترنے والوں کے سامنے خاموش رہتا ہے اُسی طرح اُس نے اپنا منہ نہ کھولا۔

کُتوں نے مجھے گھیر رکھا، شریروں کے جتھے نے میرا احاطہ کیا ہے۔ اُنہوں نے میرے ہاتھوں اور پاؤں کو چھید ڈالا ہے۔

مَیں اپنی ہڈیوں کو گن سکتا ہوں۔ لوگ گھور گھور کر میری مصیبت سے خوش ہوتے ہیں۔

وہ آپس میں میرے کپڑے بانٹ لیتے اور میرے لباس پر قرعہ ڈالتے ہیں۔

سب مجھے دیکھ کر میرا مذاق اُڑاتے ہیں۔ وہ منہ بنا کر توبہ توبہ کرتے اور کہتے ہیں،

"اُس نے اپنا معاملہ رب کے سپرد کیا ہے۔ اب رب ہی اُسے بچائے۔ وہی اُسے چھٹکارا دے، کیونکہ وہی اُس سے خوش ہے۔"

O amor que se entrega

Ninguém tem maior amor do que aquele que dá a vida pelos amigos. Deus prova seu amor em que Cristo morreu por nós quando ainda éramos pecadores.

اِس سے بڑی محبت ہے نہیں کہ کوئی اپنے دوستوں کے لئے اپنی جان دے دے۔

کیونکہ اللہ نے دنیا سے اِتنی محبت رکھی کہ اُس نے اپنے اکلوتے فرزند کو بخش دیا، تاکہ جو بھی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ابدی زندگی پائے۔

ہم ابھی اللہ کے دشمن ہی تھے جب اُس کے فرزند کی موت کے وسیلے سے ہماری اُس کے ساتھ صلح ہو گئی۔ تو پھر یہ بات کتنی یقینی ہے کہ ہم اُس کی زندگی کے وسیلے سے نجات بھی پائیں گے۔

اِس سے ہی ہم نے محبت کو جانا ہے کہ مسیح نے ہماری خاطر اپنی جان دے دی۔ اور ہمارا بھی فرض یہی ہے کہ اپنے بھائیوں کی خاطر اپنی جان دیں۔

وہی ہمارے گناہوں کا کفارہ دینے والی قربانی ہے، اور نہ صرف ہمارے گناہوں کا بلکہ پوری دنیا کے گناہوں کا بھی۔

اُس نے اپنے آپ کو پست کر دیا

اور موت تک تابع رہا،

بلکہ صلیبی موت تک۔

Morte e ressurreição

Jesus morreu e ressuscitou, e a morte não mais tem domínio sobre Ele. Pelo batismo, participamos de sua morte e ressurreição.

کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ مسیح مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے اور اب کبھی نہیں مرے گا۔ اب موت کا اُس پر کوئی اختیار نہیں۔ مرتے وقت وہ ہمیشہ کے لئے گناہ کی حکومت سے نکل گیا، اور اب جب وہ دوبارہ زندہ ہے تو اُس کی زندگی اللہ کے لئے مخصوص ہے۔

یا کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہم سب جنہیں بپتسمہ دیا گیا ہے اِس سے مسیح عیسیٰ کی موت میں شامل ہو گئے ہیں؟ کیونکہ بپتسمے سے ہمیں دفنایا گیا اور اُس کی موت میں شامل کیا گیا تاکہ ہم مسیح کی طرح نئی زندگی گزاریں، جسے باپ کی جلالی قدرت نے مُردوں میں سے زندہ کیا۔

ایک بار مرنا اور اللہ کی عدالت میں حاضر ہونا ہر انسان کے لئے مقرر ہے۔ اِسی طرح مسیح کو بھی ایک ہی بار بہتوں کے گناہوں کو اُٹھا کر لے جانے کے لئے قربان کیا گیا۔ دوسری بار جب وہ ظاہر ہو گا تو گناہوں کو دُور کرنے کے لئے ظاہر نہیں ہو گا بلکہ اُنہیں نجات دینے کے لئے جو شدت سے اُس کا انتظار کر رہے ہیں۔

اسرائیل کے مردو، میری بات سنیں! اللہ نے آپ کے سامنے ہی عیسیٰ ناصری کی تصدیق کی، کیونکہ اُس نے اُس کے وسیلے سے آپ کے درمیان عجوبے، معجزے اور الٰہی نشان دکھائے۔ آپ خود اِس بات سے واقف ہیں۔ لیکن اللہ کو پہلے ہی علم تھا کہ کیا ہونا ہے، کیونکہ اُس نے خود اپنی مرضی سے مقرر کیا تھا کہ عیسیٰ کو دشمن کے حوالے کر دیا جائے۔ چنانچہ آپ نے بےدین لوگوں کے ذریعے اُسے صلیب پر چڑھوا کر قتل کیا۔ لیکن اللہ نے اُسے موت کی اذیت ناک گرفت سے آزاد کر کے زندہ کر دیا، کیونکہ ممکن ہی نہیں تھا کہ موت اُسے اپنے قبضے میں رکھے۔

اچھا چرواہا مَیں ہوں۔ اچھا چرواہا اپنی بھیڑوں کے لئے اپنی جان دیتا ہے۔

کیونکہ جب بھی آپ یہ روٹی کھاتے اور یہ پیالہ پیتے ہیں تو خداوند کی موت کا اعلان کرتے ہیں، جب تک وہ واپس نہ آئے۔

Seja o primeiro
Bíblia Online Bíblia Online

Bíblia Online • Versão: 2026-07-05_19-25-13-