Nascimento de Jesus
O nascimento de Jesus é o evento que divide a história. O Verbo se fez carne e habitou entre nós. Deus enviou seu Filho ao mundo para nos salvar e nos reconciliar consigo.
O Verbo se fez carne
Jesus não nasceu por acaso — sua encarnação foi planejada antes da fundação do mundo. Ele se esvaziou e assumiu a forma humana por amor.
مسیح کی راہِ صلیب
وہی سوچ رکھیں جو مسیح عیسیٰ کی بھی تھی۔
وہ جو اللہ کی صورت پر تھا
نہیں سمجھتا تھا کہ میرا اللہ کے برابر ہونا
کوئی ایسی چیز ہے
جس کے ساتھ زبردستی چمٹے رہنے کی ضرورت ہے۔
نہیں، اُس نے اپنے آپ کو اِس سے محروم کر کے
غلام کی صورت اپنائی
اور انسانوں کی مانند بن گیا۔
شکل و صورت میں وہ انسان پایا گیا۔
اُس نے اپنے آپ کو پست کر دیا
اور موت تک تابع رہا،
بلکہ صلیبی موت تک۔
لیکن جب مقررہ وقت آ گیا تو اللہ نے اپنے فرزند کو بھیج دیا۔ ایک عورت سے پیدا ہو کر وہ شریعت کے تابع ہوا تاکہ فدیہ دے کر ہمیں جو شریعت کے تابع تھے آزاد کر دے۔ یوں ہمیں اللہ کے فرزند ہونے کا مرتبہ ملا ہے۔
اب چونکہ یہ بچے گوشت پوست اور خون کے انسان ہیں اِس لئے عیسیٰ خود اُن کی مانند بن گیا اور اُن کی انسانی فطرت میں شریک ہوا۔ کیونکہ اِس طرح ہی وہ اپنی موت سے موت کے مالک ابلیس کو تباہ کر سکا، اور اِس طرح ہی وہ اُنہیں چھڑا سکا جو موت سے ڈرنے کی وجہ سے زندگی بھر غلامی میں تھے۔
اِس لئے لازم تھا کہ وہ ہر لحاظ سے اپنے بھائیوں کی مانند بن جائے۔ صرف اِس سے اُس کا یہ مقصد پورا ہو سکا کہ وہ اللہ کے حضور ایک رحیم اور وفادار امامِ اعظم بن کر لوگوں کے گناہوں کا کفارہ دے سکے۔
کیونکہ اللہ نے دنیا سے اِتنی محبت رکھی کہ اُس نے اپنے اکلوتے فرزند کو بخش دیا، تاکہ جو بھی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ابدی زندگی پائے۔
O anúncio e o nascimento
O nascimento de Jesus foi anunciado por anjos, precedido por sinais e recebido com adoração pelos pastores e pelos magos do oriente.
عیسیٰ مسیح کی پیدائش
عیسیٰ مسیح کی پیدائش یوں ہوئی: اُس وقت اُس کی ماں مریم کی منگنی یوسف کے ساتھ ہو چکی تھی کہ وہ روح القدس سے حاملہ پائی گئی۔ ابھی اُن کی شادی نہیں ہوئی تھی۔
وہ اِس بات پر ابھی غور و فکر کر ہی رہا تھا کہ رب کا فرشتہ خواب میں اُس پر ظاہر ہوا اور فرمایا، "یوسف بن داؤد، مریم سے شادی کر کے اُسے اپنے گھر لے آنے سے مت ڈر، کیونکہ پیدا ہونے والا بچہ روح القدس سے ہے۔ اُس کے بیٹا ہو گا اور اُس کا نام عیسیٰ رکھنا، کیونکہ وہ اپنی قوم کو اُس کے گناہوں سے رِہائی دے گا۔"
یہ سب کچھ اِس لئے ہوا تاکہ رب کی وہ بات پوری ہو جائے جو اُس نے اپنے نبی کی معرفت فرمائی تھی، "دیکھو ایک کنواری حاملہ ہو گی۔ اُس سے بیٹا پیدا ہو گا اور وہ اُس کا نام عمانوایل رکھیں گے۔" (عمانوایل کا مطلب ’خدا ہمارے ساتھ‘ ہے۔)
جب یوسف جاگ اُٹھا تو اُس نے رب کے فرشتے کے فرمان کے مطابق مریم سے شادی کر لی اور اُسے اپنے گھر لے گیا۔ لیکن جب تک اُس کے بیٹا پیدا نہ ہوا وہ مریم سے ہم بستر نہ ہوا۔ اور یوسف نے بچے کا نام عیسیٰ رکھا۔
لیکن فرشتے نے اپنی بات جاری رکھی اور کہا، "اے مریم، مت ڈر، کیونکہ تجھ پر اللہ کا فضل ہوا ہے۔ تُو اُمید سے ہو کر ایک بیٹے کو جنم دے گی۔ تجھے اُس کا نام عیسیٰ (نجات دینے والا) رکھنا ہے۔ وہ عظیم ہو گا اور اللہ تعالیٰ کا فرزند کہلائے گا۔ رب ہمارا خدا اُسے اُس کے باپ داؤد کے تخت پر بٹھائے گا اور وہ ہمیشہ تک اسرائیل پر حکومت کرے گا۔ اُس کی سلطنت کبھی ختم نہ ہو گی۔"
چنانچہ یوسف گلیل کے شہر ناصرت سے روانہ ہو کر یہودیہ کے شہر بیت لحم پہنچا۔ وجہ یہ تھی کہ وہ داؤد بادشاہ کے گھرانے اور نسل سے تھا، اور بیت لحم داؤد کا شہر تھا۔ چنانچہ وہ اپنے نام کو رجسٹر میں درج کروانے کے لئے وہاں گیا۔ اُس کی منگیتر مریم بھی ساتھ تھی۔ اُس وقت وہ اُمید سے تھی۔ جب وہ وہاں ٹھہرے ہوئے تھے تو بچے کو جنم دینے کا وقت آ پہنچا۔ بیٹا پیدا ہوا۔ یہ مریم کا پہلا بچہ تھا۔ اُس نے اُسے کپڑوں میں لپیٹ کر ایک چرنی میں لٹا دیا، کیونکہ اُنہیں سرائے میں رہنے کی جگہ نہیں ملی تھی۔
لیکن فرشتے نے اُن سے کہا، "ڈرو مت! دیکھو مَیں تم کو بڑی خوشی کی خبر دیتا ہوں جو تمام لوگوں کے لئے ہو گی۔ آج ہی داؤد کے شہر میں تمہارے لئے نجات دہندہ پیدا ہوا ہے یعنی مسیح خداوند۔ اور تم اُسے اِس نشان سے پہچان لو گے، تم ایک شیرخوار بچے کو کپڑوں میں لپٹا ہوا پاؤ گے۔ وہ چرنی میں پڑا ہوا ہو گا۔"
فرشتے اُنہیں چھوڑ کر آسمان پر واپس چلے گئے تو چرواہے آپس میں کہنے لگے، "آؤ، ہم بیت لحم جا کر یہ بات دیکھیں جو ہوئی ہے اور جو رب نے ہم پر ظاہر کی ہے۔"
وہ بھاگ کر بیت لحم پہنچے۔ وہاں اُنہیں مریم اور یوسف ملے اور ساتھ ہی چھوٹا بچہ جو چرنی میں پڑا ہوا تھا۔ یہ دیکھ کر اُنہوں نے سب کچھ بیان کیا جو اُنہیں اِس بچے کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ جس نے بھی اُن کی بات سنی وہ حیرت زدہ ہوا۔
O Rei que veio servir
Jesus nasceu para ser Rei, e todo aquele que é da verdade ouve a sua voz. Os magos o adoraram e ofereceram seus tesouros.
پیلاطس نے کہا، "تو پھر تم واقعی بادشاہ ہو؟"
عیسیٰ نے جواب دیا، "آپ صحیح کہتے ہیں، مَیں بادشاہ ہوں۔ مَیں اِسی مقصد کے لئے پیدا ہو کر دنیا میں آیا کہ سچائی کی گواہی دوں۔ جو بھی سچائی کی طرف سے ہے وہ میری سنتا ہے۔"
بادشاہ کے اِن الفاظ کے بعد وہ چلے گئے۔ اور دیکھو جو ستارہ اُنہوں نے مشرق میں دیکھا تھا وہ اُن کے آگے آگے چلتا گیا اور چلتے چلتے اُس مقام کے اوپر ٹھہر گیا جہاں بچہ تھا۔ ستارے کو دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئے۔ وہ گھر میں داخل ہوئے اور بچے کو ماں کے ساتھ دیکھ کر اُنہوں نے اوندھے منہ گر کر اُسے سجدہ کیا۔ پھر اپنے ڈبے کھول کر اُسے سونے، لُبان اور مُر کے تحفے پیش کئے۔
جب روانگی کا وقت آیا تو وہ یروشلم سے ہو کر نہ گئے بلکہ ایک اَور راستے سے اپنے ملک چلے گئے، کیونکہ اُنہیں خواب میں آگاہ کیا گیا تھا کہ ہیرودیس کے پاس واپس نہ جاؤ۔
Este artigo te tocou? Faça uma oração!
+581 estão orando agora.
Junte-se à corrente de oração.