Natal
O Natal celebra o maior milagre da história: Deus se fez homem. O menino Jesus, nascido em Belém, é Emanuel — Deus conosco — a esperança do mundo inteiro.
O nascimento do Salvador
O anjo anunciou: hoje vos nasceu um Salvador, que é Cristo, o Senhor! A virgem concebeu pelo Espírito Santo e deu à luz o Filho de Deus.
لیکن فرشتے نے اُن سے کہا، "ڈرو مت! دیکھو مَیں تم کو بڑی خوشی کی خبر دیتا ہوں جو تمام لوگوں کے لئے ہو گی۔
آج ہی داؤد کے شہر میں تمہارے لئے نجات دہندہ پیدا ہوا ہے یعنی مسیح خداوند۔
چنانچہ یوسف گلیل کے شہر ناصرت سے روانہ ہو کر یہودیہ کے شہر بیت لحم پہنچا۔ وجہ یہ تھی کہ وہ داؤد بادشاہ کے گھرانے اور نسل سے تھا، اور بیت لحم داؤد کا شہر تھا۔ چنانچہ وہ اپنے نام کو رجسٹر میں درج کروانے کے لئے وہاں گیا۔ اُس کی منگیتر مریم بھی ساتھ تھی۔ اُس وقت وہ اُمید سے تھی۔
جب وہ وہاں ٹھہرے ہوئے تھے تو بچے کو جنم دینے کا وقت آ پہنچا۔ بیٹا پیدا ہوا۔ یہ مریم کا پہلا بچہ تھا۔ اُس نے اُسے کپڑوں میں لپیٹ کر ایک چرنی میں لٹا دیا، کیونکہ اُنہیں سرائے میں رہنے کی جگہ نہیں ملی تھی۔
A profecia cumprida
Isaías profetizou: a virgem conceberá e dará à luz um filho que se chamará Emanuel. Em Jesus, essa promessa se cumpriu perfeitamente.
چلو، پھر رب اپنی ہی طرف سے تمہیں نشان دے گا۔ نشان یہ ہو گا کہ کنواری اُمید سے ہو جائے گی۔ جب بیٹا پیدا ہو گا تو اُس کا نام عمانوایل رکھے گی۔
وہ اِس بات پر ابھی غور و فکر کر ہی رہا تھا کہ رب کا فرشتہ خواب میں اُس پر ظاہر ہوا اور فرمایا، "یوسف بن داؤد، مریم سے شادی کر کے اُسے اپنے گھر لے آنے سے مت ڈر، کیونکہ پیدا ہونے والا بچہ روح القدس سے ہے۔
اُس کے بیٹا ہو گا اور اُس کا نام عیسیٰ رکھنا، کیونکہ وہ اپنی قوم کو اُس کے گناہوں سے رِہائی دے گا۔"
یہ سب کچھ اِس لئے ہوا تاکہ رب کی وہ بات پوری ہو جائے جو اُس نے اپنے نبی کی معرفت فرمائی تھی، "دیکھو ایک کنواری حاملہ ہو گی۔ اُس سے بیٹا پیدا ہو گا اور وہ اُس کا نام عمانوایل رکھیں گے۔" (عمانوایل کا مطلب ’خدا ہمارے ساتھ‘ ہے۔)
Glória a Deus nas alturas
Os pastores glorificaram a Deus e os anjos cantaram: 'Glória a Deus nas alturas e paz na terra entre os homens a quem Ele quer bem!'
"آسمان کی بلندیوں پر اللہ کی عزت و جلال، زمین پر اُن لوگوں کی سلامتی جو اُسے منظور ہیں۔"
پھر چرواہے لوٹ گئے اور چلتے چلتے اُن تمام باتوں کے لئے اللہ کی تعظیم و تعریف کرتے رہے جو اُنہوں نے سنی اور دیکھی تھیں، کیونکہ سب کچھ ویسا ہی پایا تھا جیسا فرشتے نے اُنہیں بتایا تھا۔