Pular para o conteúdo
Publicidade

As 10 parábolas mais importantes de Jesus

Por Bíblia Online  - 

Jesus ensinou lições profundas por meio de parábolas, histórias curtas e simbólicas que comunicam verdades espirituais. Cada parábola tem um significado especial e atemporal, revelando o caráter de Deus e ensinando como viver como cristãos. Aqui estão 10 das parábolas mais marcantes e suas lições:

1. Parábola do Semeador (Mateus 13:3-9)

پھر اُس نے اُنہیں بہت سی باتیں تمثیلوں میں سنائیں۔

"ایک کسان بیج بونے کے لئے نکلا۔ جب بیج اِدھر اُدھر بکھر گیا تو کچھ دانے راستے پر گرے اور پرندوں نے آ کر اُنہیں چگ لیا۔ کچھ پتھریلی زمین پر گرے جہاں مٹی کی کمی تھی۔ وہ جلد اُگ آئے کیونکہ مٹی گہری نہیں تھی۔ لیکن جب سورج نکلا تو پودے جُھلس گئے اور چونکہ وہ جڑ نہ پکڑ سکے اِس لئے سوکھ گئے۔ کچھ خود رَو کانٹےدار پودوں کے درمیان بھی گرے۔ وہاں وہ اُگنے تو لگے، لیکن خود رَو پودوں نے ساتھ ساتھ بڑھ کر اُنہیں پھلنے پھولنے نہ دیا۔ چنانچہ وہ بھی ختم ہو گئے۔ لیکن ایسے دانے بھی تھے جو زرخیز زمین میں گرے اور بڑھتے بڑھتے تیس گُنا، ساٹھ گُنا بلکہ سَو گُنا تک زیادہ پھل لائے۔ جو سن سکتا ہے وہ سن لے!"

A parábola do semeador fala sobre a receptividade das pessoas à Palavra de Deus. Cada tipo de solo representa diferentes maneiras de receber e aplicar o Evangelho em nossas vidas. Somente um coração fértil e comprometido pode dar frutos espirituais abundantes.

2. O Bom Samaritano (Lucas 10:25-37)

نیک سامری کی تمثیل

ایک موقع پر شریعت کا ایک عالِم عیسیٰ کو پھنسانے کی خاطر کھڑا ہوا۔ اُس نے پوچھا، "اُستاد، مَیں کیا کیا کرنے سے میراث میں ابدی زندگی پا سکتا ہوں؟"

عیسیٰ نے اُس سے کہا، "شریعت میں کیا لکھا ہے؟ تُو اُس میں کیا پڑھتا ہے؟"

آدمی نے جواب دیا، "رب اپنے خدا سے اپنے پورے دل، اپنی پوری جان، اپنی پوری طاقت اور اپنے پورے ذہن سے پیار کرنا۔اور اپنے پڑوسی سے ویسی محبت رکھنا جیسی تُو اپنے آپ سے رکھتا ہے۔"

عیسیٰ نے کہا، "تُو نے ٹھیک جواب دیا۔ ایسا ہی کر تو زندہ رہے گا۔"

لیکن عالِم نے اپنے آپ کو درست ثابت کرنے کی غرض سے پوچھا، "تو میرا پڑوسی کون ہے؟"

عیسیٰ نے جواب میں کہا، "ایک آدمی یروشلم سے یریحو کی طرف جا رہا تھا کہ وہ ڈاکوؤں کے ہاتھوں میں پڑ گیا۔ اُنہوں نے اُس کے کپڑے اُتار کر اُسے خوب مارا اور اَدھ مُوا چھوڑ کر چلے گئے۔ اتفاق سے ایک امام بھی اُسی راستے پر یریحو کی طرف چل رہا تھا۔ لیکن جب اُس نے زخمی آدمی کو دیکھا تو راستے کی پرلی طرف ہو کر آگے نکل گیا۔ لاوی قبیلے کا ایک خادم بھی وہاں سے گزرا۔ لیکن وہ بھی راستے کی پرلی طرف سے آگے نکل گیا۔ پھر سامریہ کا ایک مسافر وہاں سے گزرا۔ جب اُس نے زخمی آدمی کو دیکھا تو اُسے اُس پر ترس آیا۔ وہ اُس کے پاس گیا اور اُس کے زخموں پر تیل اور مَے لگا کر اُن پر پٹیاں باندھ دیں۔ پھر اُس کو اپنے گدھے پر بٹھا کر سرائے تک لے گیا۔ وہاں اُس نے اُس کی مزید دیکھ بھال کی۔ اگلے دن اُس نے چاندی کے دو سِکے نکال کر سرائے کے مالک کو دیئے اور کہا، اِس کی دیکھ بھال کرنا۔ اگر خرچہ اِس سے بڑھ کر ہوا تو مَیں واپسی پر ادا کر دوں گا۔"

پھر عیسیٰ نے پوچھا، "اب تیرا کیا خیال ہے، ڈاکوؤں کی زد میں آنے والے آدمی کا پڑوسی کون تھا؟ امام، لاوی یا سامری؟"

عالِم نے جواب دیا، "وہ جس نے اُس پر رحم کیا۔"

عیسیٰ نے کہا، "بالکل ٹھیک۔ اب تُو بھی جا کر ایسا ہی کر۔"

Essa parábola nos ensina sobre o amor ao próximo, independentemente de raça ou religião. O samaritano ajudou um desconhecido, mostrando que a verdadeira fé se revela no amor ao próximo.

3. A Ovelha Perdida (Lucas 15:4-7)

"فرض کرو کہ تم میں سے کسی کی سَو بھیڑیں ہیں۔ لیکن ایک گم ہو جاتی ہے۔ اب مالک کیا کرے گا؟ کیا وہ باقی 99 بھیڑیں کھلے میدان میں چھوڑ کر گم شدہ بھیڑ کو ڈھونڈنے نہیں جائے گا؟ ضرور جائے گا، بلکہ جب تک اُسے وہ بھیڑ مل نہ جائے وہ اُس کی تلاش میں رہے گا۔ پھر وہ خوش ہو کر اُسے اپنے کندھوں پر اُٹھا لے گا۔ یوں چلتے چلتے وہ اپنے گھر پہنچ جائے گا اور وہاں اپنے دوستوں اور ہم سایوں کو بُلا کر اُن سے کہے گا، میرے ساتھ خوشی مناؤ! کیونکہ مجھے اپنی کھوئی ہوئی بھیڑ مل گئی ہے۔مَیں تم کو بتاتا ہوں کہ آسمان پر بالکل اِسی طرح خوشی منائی جائے گی جب ایک ہی گناہ گار توبہ کرے گا۔ اور یہ خوشی اُس خوشی کی نسبت زیادہ ہو گی جو اُن 99 افراد کے باعث منائی جائے گی جنہیں توبہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔

Deus é como o pastor que busca incessantemente uma ovelha perdida. Essa parábola revela o amor incansável de Deus pelos pecadores, celebrando a alegria no céu quando alguém se arrepende.

4. O Filho Pródigo (Lucas 15:11-32)

گم شدہ بیٹا

عیسیٰ نے اپنی بات جاری رکھی۔ "کسی آدمی کے دو بیٹے تھے۔ اِن میں سے چھوٹے نے باپ سے کہا، اے باپ، میراث کا میرا حصہ دے دیں۔اِس پر باپ نے دونوں میں اپنی ملکیت تقسیم کر دی۔ تھوڑے دنوں کے بعد چھوٹا بیٹا اپنا سارا سامان سمیٹ کر اپنے ساتھ کسی دُوردراز ملک میں لے گیا۔ وہاں اُس نے عیاشی میں اپنا پورا مال و متاع اُڑا دیا۔ سب کچھ ضائع ہو گیا تو اُس ملک میں سخت کال پڑا۔ اب وہ ضرورت مند ہونے لگا۔ نتیجے میں وہ اُس ملک کے کسی باشندے کے ہاں جا پڑا جس نے اُسے سؤروں کو چَرانے کے لئے اپنے کھیتوں میں بھیج دیا۔ وہاں وہ اپنا پیٹ اُن پھلیوں سے بھرنے کی شدید خواہش رکھتا تھا جو سؤر کھاتے تھے، لیکن اُسے اِس کی بھی اجازت نہ ملی۔ پھر وہ ہوش میں آیا۔ وہ کہنے لگا، میرے باپ کے کتنے مزدوروں کو کثرت سے کھانا ملتا ہے جبکہ مَیں یہاں بھوکا مر رہا ہوں۔ مَیں اُٹھ کر اپنے باپ کے پاس واپس چلا جاؤں گا اور اُس سے کہوں گا، "اے باپ، مَیں نے آسمان کا اور آپ کا گناہ کیا ہے۔ اب مَیں اِس لائق نہیں رہا کہ آپ کا بیٹا کہلاؤں۔ مہربانی کر کے مجھے اپنے مزدوروں میں رکھ لیں"۔پھر وہ اُٹھ کر اپنے باپ کے پاس واپس چلا گیا۔

لیکن وہ گھر سے ابھی دُور ہی تھا کہ اُس کے باپ نے اُسے دیکھ لیا۔ اُسے ترس آیا اور وہ بھاگ کر بیٹے کے پاس آیا اور گلے لگا کر اُسے بوسہ دیا۔ بیٹے نے کہا، اے باپ، مَیں نے آسمان کا اور آپ کا گناہ کیا ہے۔ اب مَیں اِس لائق نہیں رہا کہ آپ کا بیٹا کہلاؤں۔لیکن باپ نے اپنے نوکروں کو بُلایا اور کہا، جلدی کرو، بہترین سوٹ لا کر اِسے پہناؤ۔ اِس کے ہاتھ میں انگوٹھی اور پاؤں میں جوتے پہنا دو۔ پھر موٹا تازہ بچھڑا لا کر اُسے ذبح کرو تاکہ ہم کھائیں اور خوشی منائیں، کیونکہ یہ میرا بیٹا مُردہ تھا اب زندہ ہو گیا ہے، گم ہو گیا تھا اب مل گیا ہے۔اِس پر وہ خوشی منانے لگے۔

اِس دوران باپ کا بڑا بیٹا کھیت میں تھا۔ اب وہ گھر لوٹا۔ جب وہ گھر کے قریب پہنچا تو اندر سے موسیقی اور ناچنے کی آوازیں سنائی دیں۔ اُس نے کسی نوکر کو بُلا کر پوچھا، یہ کیا ہو رہا ہے؟نوکر نے جواب دیا، آپ کا بھائی آ گیا ہے اور آپ کے باپ نے موٹا تازہ بچھڑا ذبح کروایا ہے، کیونکہ اُسے اپنا بیٹا صحیح سلامت واپس مل گیا ہے۔

یہ سن کر بڑا بیٹا غصے ہوا اور اندر جانے سے انکار کر دیا۔ پھر باپ گھر سے نکل کر اُسے سمجھانے لگا۔ لیکن اُس نے جواب میں اپنے باپ سے کہا، دیکھیں، مَیں نے اِتنے سال آپ کی خدمت میں سخت محنت مشقت کی ہے اور ایک دفعہ بھی آپ کی مرضی کی خلاف ورزی نہیں کی۔ توبھی آپ نے مجھے اِس پورے عرصے میں ایک چھوٹا بکرا بھی نہیں دیا کہ اُسے ذبح کر کے اپنے دوستوں کے ساتھ ضیافت کرتا۔ لیکن جوں ہی آپ کا یہ بیٹا آیا جس نے آپ کی دولت کسبیوں میں اُڑا دی، آپ نے اُس کے لئے موٹا تازہ بچھڑا ذبح کروایا۔باپ نے جواب دیا، بیٹا، آپ تو ہر وقت میرے پاس رہے ہیں، اور جو کچھ میرا ہے وہ آپ ہی کا ہے۔ لیکن اب ضروری تھا کہ ہم جشن منائیں اور خوش ہوں۔ کیونکہ آپ کا یہ بھائی جو مُردہ تھا اب زندہ ہو گیا ہے، جو گم ہو گیا تھا اب مل گیا ہے۔"

A parábola do filho pródigo fala sobre o perdão e o amor incondicional de Deus por Seus filhos, mesmo quando se desviam.

5. A Pérola de Grande Valor (Mateus 13:45-46)

موتی کی تمثیل

نیز، آسمان کی بادشاہی ایسے سوداگر کی مانند ہے جو اچھے موتیوں کی تلاش میں تھا۔ جب اُسے ایک نہایت قیمتی موتی کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ چلا گیا، اپنی تمام ملکیت فروخت کر دی اور اُس موتی کو خرید لیا۔

Jesus ensina que o Reino de Deus é o bem mais precioso e devemos estar dispostos a renunciar tudo para possuí-lo.

6. O Fariseu e o Publicano (Lucas 18:9-14)

فریسی اور ٹیکس لینے والے کی تمثیل

بعض لوگ موجود تھے جو اپنی راست بازی پر بھروسا رکھتے اور دوسروں کو حقیر جانتے تھے۔ اُنہیں عیسیٰ نے یہ تمثیل سنائی، "دو آدمی بیت المُقدّس میں دعا کرنے آئے۔ ایک فریسی تھا اور دوسرا ٹیکس لینے والا۔

فریسی کھڑا ہو کر یہ دعا کرنے لگا، اے خدا، مَیں تیرا شکر کرتا ہوں کہ مَیں باقی لوگوں کی طرح نہیں ہوں۔ نہ مَیں ڈاکو ہوں، نہ بےانصاف، نہ زناکار۔ مَیں اِس ٹیکس لینے والے کی مانند بھی نہیں ہوں۔ مَیں ہفتے میں دو مرتبہ روزہ رکھتا ہوں اور تمام آمدنی کا دسواں حصہ تیرے لئے مخصوص کرتا ہوں۔

لیکن ٹیکس لینے والا دُور ہی کھڑا رہا۔ اُس نے اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اُٹھانے تک کی جرأت نہ کی بلکہ اپنی چھاتی پیٹ پیٹ کر کہنے لگا، اے خدا، مجھ گناہ گار پر رحم کر!مَیں تم کو بتاتا ہوں کہ جب دونوں اپنے اپنے گھر لوٹے تو فریسی نہیں بلکہ یہ آدمی اللہ کے نزدیک راست باز ٹھہرا۔ کیونکہ جو بھی اپنے آپ کو سرفراز کرے اُسے پست کیا جائے گا اور جو اپنے آپ کو پست کرے اُسے سرفراز کیا جائے گا۔"

Essa parábola nos lembra que Deus valoriza um coração humilde e arrependido, em contraste com a arrogância espiritual. O publicano, ao reconhecer seus pecados, foi justificado diante de Deus.

7. Os Talentos (Mateus 25:14-30)

تین نوکروں کی تمثیل

اُس وقت آسمان کی بادشاہی یوں ہو گی: ایک آدمی کو بیرونِ ملک جانا تھا۔ اُس نے اپنے نوکروں کو بُلا کر اپنی ملکیت اُن کے سپرد کر دی۔ پہلے کو اُس نے سونے کے 5,000 سِکے دیئے، دوسرے کو 2,000 اور تیسرے کو 1,000۔ ہر ایک کو اُس نے اُس کی قابلیت کے مطابق پیسے دیئے۔ پھر وہ روانہ ہوا۔ جس نوکر کو 5,000 سِکے ملے تھے اُس نے سیدھا جا کر اُنہیں کسی کاروبار میں لگایا۔ اِس سے اُسے مزید 5,000 سِکے حاصل ہوئے۔ اِسی طرح دوسرے کو بھی جسے 2,000 سِکے ملے تھے مزید 2,000 سِکے حاصل ہوئے۔ لیکن جس آدمی کو 1,000 سِکے ملے تھے وہ چلا گیا اور کہیں زمین میں گڑھا کھود کر اپنے مالک کے پیسے اُس میں چھپا دیئے۔

بڑی دیر کے بعد اُن کا مالک لوٹ آیا۔ جب اُس نے اُن کے ساتھ حساب کتاب کیا تو پہلا نوکر جسے 5,000 سِکے ملے تھے مزید 5,000 سِکے لے کر آیا۔ اُس نے کہا، جناب، آپ نے 5,000 سِکے میرے سپرد کئے تھے۔ یہ دیکھیں، مَیں نے مزید 5,000 سِکے حاصل کئے ہیں۔اُس کے مالک نے جواب دیا، شاباش، میرے اچھے اور وفادار نوکر۔ تم تھوڑے میں وفادار رہے، اِس لئے مَیں تمہیں بہت کچھ پر مقرر کروں گا۔ اندر آؤ اور اپنے مالک کی خوشی میں شریک ہو جاؤ۔

پھر دوسرا نوکر آیا جسے 2,000 سِکے ملے تھے۔ اُس نے کہا، جناب، آپ نے 2,000 سِکے میرے سپرد کئے تھے۔ یہ دیکھیں، مَیں نے مزید 2,000 سِکے حاصل کئے ہیں۔اُس کے مالک نے جواب دیا، شاباش، میرے اچھے اور وفادار نوکر۔ تم تھوڑے میں وفادار رہے، اِس لئے مَیں تمہیں بہت کچھ پر مقرر کروں گا۔ اندر آؤ اور اپنے مالک کی خوشی میں شریک ہو جاؤ۔

پھر تیسرا نوکر آیا جسے 1,000 سِکے ملے تھے۔ اُس نے کہا، جناب، مَیں جانتا تھا کہ آپ سخت آدمی ہیں۔ جو بیج آپ نے نہیں بویا اُس کی فصل آپ کاٹتے ہیں اور جو کچھ آپ نے نہیں لگایا اُس کی پیداوار جمع کرتے ہیں۔ اِس لئے مَیں ڈر گیا اور جا کر آپ کے پیسے زمین میں چھپا دیئے۔ اب آپ اپنے پیسے واپس لے سکتے ہیں۔

اُس کے مالک نے جواب دیا، شریر اور سُست نوکر! کیا تُو جانتا تھا کہ جو بیج مَیں نے نہیں بویا اُس کی فصل کاٹتا ہوں اور جو کچھ مَیں نے نہیں لگایا اُس کی پیداوار جمع کرتا ہوں؟ تو پھر تُو نے میرے پیسے بینک میں کیوں نہ جمع کرا دیئے؟ اگر ایسا کرتا تو واپسی پر مجھے کم از کم وہ پیسے سود سمیت مل جاتے۔یہ کہہ کر مالک دوسروں سے مخاطب ہوا، یہ پیسے اِس سے لے کر اُس نوکر کو دے دو جس کے پاس 10,000 سِکے ہیں۔ کیونکہ جس کے پاس کچھ ہے اُسے اَور دیا جائے گا اور اُس کے پاس کثرت کی چیزیں ہوں گی۔ لیکن جس کے پاس کچھ نہیں ہے اُس سے وہ بھی چھین لیا جائے گا جو اُس کے پاس ہے۔ اب اِس بےکار نوکر کو نکال کر باہر کی تاریکی میں پھینک دو، وہاں جہاں لوگ روتے اور دانت پیستے رہیں گے۔

Nesta história, Jesus ensina sobre a responsabilidade de usar bem os dons e recursos que Deus nos confiou. A fidelidade nas pequenas coisas abre portas para bênçãos maiores.

8. O Rico e Lázaro (Lucas 16:19-31)

امیر آدمی اور لعزر

ایک امیر آدمی کا ذکر ہے جو ارغوانی رنگ کے کپڑے اور نفیس کتان پہنتا اور ہر روز عیش و عشرت میں گزارتا تھا۔ امیر کے گیٹ پر ایک غریب آدمی پڑا تھا جس کے پورے جسم پر ناسور تھے۔ اُس کا نام لعزر تھا اور اُس کی بس ایک ہی خواہش تھی کہ وہ امیر کی میز سے گرے ہوئے ٹکڑے کھا کر سیر ہو جائے۔ کُتے اُس کے پاس آ کر اُس کے ناسور چاٹتے تھے۔

پھر ایسا ہوا کہ غریب آدمی مر گیا۔ فرشتوں نے اُسے اُٹھا کر ابراہیم کی گود میں بٹھا دیا۔ امیر آدمی بھی فوت ہوا اور دفنایا گیا۔ وہ جہنم میں پہنچا۔ عذاب کی حالت میں اُس نے اپنی نظر اُٹھائی تو دُور سے ابراہیم اور اُس کی گود میں لعزر کو دیکھا۔ وہ پکار اُٹھا، اے میرے باپ ابراہیم، مجھ پر رحم کریں۔ مہربانی کر کے لعزر کو میرے پاس بھیج دیں تاکہ وہ اپنی اُنگلی کو پانی میں ڈبو کر میری زبان کو ٹھنڈا کرے، کیونکہ مَیں اِس آگ میں تڑپتا ہوں۔

لیکن ابراہیم نے جواب دیا، بیٹا، یاد رکھ کہ تجھے اپنی زندگی میں بہترین چیزیں مل چکی ہیں جبکہ لعزر کو بدترین چیزیں۔ لیکن اب اُسے آرام اور تسلی مل گئی ہے جبکہ تجھے اذیت۔ نیز، ہمارے اور تمہارے درمیان ایک وسیع خلیج قائم ہے۔ اگر کوئی چاہے بھی تو اُسے پار کر کے یہاں سے تمہارے پاس نہیں جا سکتا، نہ وہاں سے کوئی یہاں آ سکتا ہے۔امیر آدمی نے کہا، میرے باپ، پھر میری ایک اَور گزارش ہے، مہربانی کر کے لعزر کو میرے والد کے گھر بھیج دیں۔ میرے پانچ بھائی ہیں۔ وہ وہاں جا کر اُنہیں آگاہ کرے، ایسا نہ ہو کہ اُن کا انجام بھی یہ اذیت ناک مقام ہو۔

لیکن ابراہیم نے جواب دیا، اُن کے پاس موسیٰ کی توریت اور نبیوں کے صحیفے تو ہیں۔ وہ اُن کی سنیں۔امیر نے عرض کی، نہیں، میرے باپ ابراہیم، اگر کوئی مُردوں میں سے اُن کے پاس جائے تو پھر وہ ضرور توبہ کریں گے۔ابراہیم نے کہا، اگر وہ موسیٰ اور نبیوں کی نہیں سنتے تو وہ اُس وقت بھی قائل نہیں ہوں گے جب کوئی مُردوں میں سے جی اُٹھ کر اُن کے پاس جائے گا۔"

A parábola alerta sobre as consequências de negligenciar os necessitados e viver para si mesmo. Também destaca a realidade do julgamento e da vida após a morte.

9. O Joio e o Trigo (Mateus 13:24-30)

خود رَو پودوں کی تمثیل

عیسیٰ نے اُنہیں ایک اَور تمثیل سنائی۔ "آسمان کی بادشاہی اُس کسان سے مطابقت رکھتی ہے جس نے اپنے کھیت میں اچھا بیج بو دیا۔ لیکن جب لوگ سو رہے تھے تو اُس کے دشمن نے آ کر اناج کے پودوں کے درمیان خود رَو پودوں کا بیج بو دیا۔ پھر وہ چلا گیا۔ جب اناج پھوٹ نکلا اور فصل پکنے لگی تو خود رَو پودے بھی نظر آئے۔ نوکر مالک کے پاس آئے اور کہنے لگے، جناب، کیا آپ نے اپنے کھیت میں اچھا بیج نہیں بویا تھا؟ تو پھر یہ خود رَو پودے کہاں سے آ گئے ہیں؟

اُس نے جواب دیا، کسی دشمن نے یہ کر دیا ہے۔

نوکروں نے پوچھا، کیا ہم جا کر اُنہیں اُکھاڑیں؟

نہیں،اُس نے کہا۔ ایسا نہ ہو کہ خود رَو پودوں کے ساتھ ساتھ تم اناج کے پودے بھی اُکھاڑ ڈالو۔ اُنہیں فصل کی کٹائی تک مل کر بڑھنے دو۔ اُس وقت مَیں فصل کی کٹائی کرنے والوں سے کہوں گا کہ پہلے خود رَو پودوں کو چن لو اور اُنہیں جلانے کے لئے گٹھوں میں باندھ لو۔ پھر ہی اناج کو جمع کر کے گودام میں لاؤ۔"

Essa história simboliza o bem e o mal coexistindo no mundo até o julgamento final, quando Deus fará a separação entre os justos e os ímpios.

10. As Dez Virgens (Mateus 25:1-13)

دس کنواریوں کی تمثیل

اُس وقت آسمان کی بادشاہی دس کنواریوں سے مطابقت رکھے گی جو اپنے چراغ لے کر دُولھے کو ملنے کے لئے نکلیں۔ اُن میں سے پانچ ناسمجھ تھیں اور پانچ سمجھ دار۔ ناسمجھ کنواریوں نے اپنے پاس چراغوں کے لئے فالتو تیل نہ رکھا۔ لیکن سمجھ دار کنواریوں نے کُپّی میں تیل ڈال کر اپنے ساتھ لے لیا۔ دُولھے کو آنے میں بڑی دیر لگی، اِس لئے وہ سب اونگھ اونگھ کر سو گئیں۔

آدھی رات کو شور مچ گیا، دیکھو، دُولھا پہنچ رہا ہے، اُسے ملنے کے لئے نکلو!اِس پر تمام کنواریاں جاگ اُٹھیں اور اپنے چراغوں کو درست کرنے لگیں۔ ناسمجھ کنواریوں نے سمجھ دار کنواریوں سے کہا، اپنے تیل میں سے ہمیں بھی کچھ دے دو۔ ہمارے چراغ بجھنے والے ہیں۔دوسری کنواریوں نے جواب دیا، نہیں، ایسا نہ ہو کہ نہ صرف تمہارے لئے بلکہ ہمارے لئے بھی تیل کافی نہ ہو۔ دکان پر جا کر اپنے لئے خرید لو۔چنانچہ ناسمجھ کنواریاں چلی گئیں۔ لیکن اِس دوران دُولھا پہنچ گیا۔ جو کنواریاں تیار تھیں وہ اُس کے ساتھ شادی ہال میں داخل ہوئیں۔ پھر دروازے کو بند کر دیا گیا۔

کچھ دیر کے بعد باقی کنواریاں آئیں اور چلّانے لگیں، جناب! ہمارے لئے دروازہ کھول دیں۔لیکن اُس نے جواب دیا، یقین جانو، مَیں تم کو نہیں جانتا۔

اِس لئے چوکس رہو، کیونکہ تم ابنِ آدم کے آنے کا دن یا وقت نہیں جانتے۔

Jesus enfatiza a necessidade de estarmos sempre preparados espiritualmente para Sua segunda vinda, pois ninguém sabe o momento exato.

As parábolas de Jesus continuam sendo fontes ricas de sabedoria e direção para a vida cristã. Ao aplicarmos esses ensinamentos, nos aproximamos mais de Deus e de Sua vontade.

Se este artigo te ajudou, faça sua parte e compartilhe a Palavra de Deus com aqueles que você ama.

Seja o primeiro