Preservação das escrituras
A Palavra de Deus permanece para sempre. As Escrituras foram preservadas por Deus ao longo dos milênios para instrução, consolação e guia de todas as gerações.
A Palavra eterna
Céus e terra passarão, mas as palavras de Deus jamais passarão. Sua Palavra é eterna, infalível e imutável — a verdade que sustenta tudo.
آسمان و زمین تو جاتے رہیں گے، لیکن میری باتیں ہمیشہ تک قائم رہیں گی۔
مَیں تم کو سچ بتاتا ہوں، جب تک آسمان و زمین قائم رہیں گے تب تک شریعت بھی قائم رہے گی — نہ اُس کا کوئی حرف، نہ اُس کا کوئی زیر یا زبر منسوخ ہو گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہو جائے۔
گھاس تو مُرجھا جاتی اور پھول گر جاتا ہے، لیکن ہمارے خدا کا کلام ابد تک قائم رہتا ہے۔"
یوں کلامِ مُقدّس فرماتا ہے،
"تمام انسان گھاس ہی ہیں،
اُن کی تمام شان و شوکت جنگلی پھول کی مانند ہے۔
گھاس تو مُرجھا جاتی اور پھول گر جاتا ہے،
لیکن رب کا کلام ابد تک قائم رہتا ہے۔"
مذکورہ کلام اللہ کی خوش خبری ہے جو آپ کو سنائی گئی ہے۔
کیونکہ آپ کی نئے سرے سے پیدائش ہوئی ہے۔ اور یہ کسی فانی بیج کا پھل نہیں ہے بلکہ اللہ کے لافانی، زندہ اور قائم رہنے والے کلام کا پھل ہے۔ یوں کلامِ مُقدّس فرماتا ہے،
"تمام انسان گھاس ہی ہیں،
اُن کی تمام شان و شوکت جنگلی پھول کی مانند ہے۔
گھاس تو مُرجھا جاتی اور پھول گر جاتا ہے،
لیکن رب کا کلام ابد تک قائم رہتا ہے۔"
مذکورہ کلام اللہ کی خوش خبری ہے جو آپ کو سنائی گئی ہے۔
A inspiração divina
Toda Escritura é inspirada por Deus. Homens santos falaram da parte do Senhor, e a Palavra escrita é a expressão fiel da vontade divina.
سب سے بڑھ کر آپ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کلامِ مُقدّس کی کوئی بھی پیش گوئی نبی کی اپنی ہی تفسیر سے پیدا نہیں ہوتی۔ کیونکہ کوئی بھی پیش گوئی کبھی بھی انسان کی تحریک سے وجود میں نہیں آئی بلکہ پیش گوئی کرتے وقت انسانوں نے روح القدس سے تحریک پا کر اللہ کی طرف سے بات کی۔
اللہ کا اپنے فرزند کے ذریعے کلام
ماضی میں اللہ مختلف موقعوں پر اور کئی طریقوں سے ہمارے باپ دادا سے ہم کلام ہوا۔ اُس وقت اُس نے یہ نبیوں کے وسیلے سے کیا لیکن اِن آخری دنوں میں وہ اپنے فرزند کے وسیلے سے ہم سے ہم کلام ہوا، اُسی کے وسیلے سے جسے اُس نے سب چیزوں کا وارث بنا دیا اور جس کے وسیلے سے اُس نے کائنات کو بھی خلق کیا۔ فرزند اللہ کا شاندار جلال منعکس کرتا اور اُس کی ذات کی عین شبیہ ہے۔ وہ اپنے قوی کلام سے سب کچھ سنبھالے رکھتا ہے۔ جب وہ دنیا میں تھا تو اُس نے ہمارے لئے گناہوں سے پاک صاف ہو جانے کا انتظام قائم کیا۔ اِس کے بعد وہ آسمان پر قادرِ مطلق کے دہنے ہاتھ جا بیٹھا۔
کلام انسان بن کر ہمارے درمیان رہائش پذیر ہوا اور ہم نے اُس کے جلال کا مشاہدہ کیا۔ وہ فضل اور سچائی سے معمور تھا اور اُس کا جلال باپ کے اکلوتے فرزند کا سا تھا۔
مجھے سمجھ آئی کہ جو کچھ اللہ کرے وہ ابد تک قائم رہے گا۔ اُس میں نہ اضافہ ہو سکتا ہے نہ کمی۔ اللہ یہ سب کچھ اِس لئے کرتا ہے کہ انسان اُس کا خوف مانے۔
A Palavra como guia e tesouro
A Palavra de Deus é lâmpada para os pés, espada do Espírito e tesouro para o coração. Guardá-la e meditá-la nos protege do pecado.
مَیں نے تیرا کلام اپنے دل میں محفوظ رکھا ہے تاکہ تیرا گناہ نہ کروں۔
مخلوقات میں اللہ کا جلال
داؤد کا زبور۔ موسیقی کے راہنما کے لئے۔
آسمان اللہ کے جلال کا اعلان کرتے ہیں، آسمانی گنبد اُس کے ہاتھوں کا کام بیان کرتا ہے۔
ایک دن دوسرے کو اطلاع دیتا، ایک رات دوسری کو خبر پہنچاتی ہے،
لیکن زبان سے نہیں۔ گو اُن کی آواز سنائی نہیں دیتی،
توبھی اُن کی آواز نکل کر پوری دنیا میں سنائی دیتی، اُن کے الفاظ دنیا کی انتہا تک پہنچ جاتے ہیں۔ وہاں اللہ نے آفتاب کے لئے خیمہ لگایا ہے۔
جس طرح دُولھا اپنی خواب گاہ سے نکلتا ہے اُسی طرح سورج نکل کر پہلوان کی طرح اپنی دوڑ دوڑنے پر خوشی مناتا ہے۔
آسمان کے ایک سرے سے چڑھ کر اُس کا چکر دوسرے سرے تک لگتا ہے۔ اُس کی تپتی گرمی سے کوئی بھی چیز پوشیدہ نہیں رہتی۔
رب کی شریعت کامل ہے، اُس سے جان میں جان آ جاتی ہے۔ رب کے احکام قابلِ اعتماد ہیں، اُن سے سادہ لوح دانش مند ہو جاتا ہے۔
رب کی ہدایات باانصاف ہیں، اُن سے دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ رب کے احکام پاک ہیں، اُن سے آنکھیں چمک اُٹھتی ہیں۔
رب کے فرمان پاک ہیں، وہ بھٹی میں سات بار صاف کی گئی چاندی کی مانند خالص ہیں۔
اے رب، تُو ہی اُنہیں محفوظ رکھے گا، تُو ہی اُنہیں ابد تک اِس نسل سے بچائے رکھے گا،
تو پھر کیا کرنا چاہئے؟ ایمان کی راست بازی فرماتی ہے، "یہ کلام تیرے قریب بلکہ تیرے منہ اور دل میں موجود ہے۔" کلام سے مراد ایمان کا وہ پیغام ہے جو ہم سناتے ہیں۔
غرض، ایمان پیغام سننے سے پیدا ہوتا ہے، یعنی مسیح کا کلام سننے سے۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیلیوں نے یہ پیغام نہیں سنا؟ اُنہوں نے اِسے ضرور سنا۔ کلامِ مُقدّس میں لکھا ہے،
"اُن کی آواز نکل کر پوری دنیا میں سنائی دی،
اُن کے الفاظ دنیا کی انتہا تک پہنچ گئے۔"
یہ سب کچھ ہمیں ہماری نصیحت کے لئے لکھا گیا تاکہ ہم ثابت قدمی اور کلامِ مُقدّس کی حوصلہ افزا باتوں سے اُمید پائیں۔
جو احکام مَیں تجھے آج بتا رہا ہوں اُنہیں اپنے دل پر نقش کر۔ اُنہیں اپنے بچوں کے ذہن نشین کرا۔ یہی باتیں ہر وقت اور ہر جگہ تیرے لبوں پر ہوں خواہ تُو گھر میں بیٹھا یا راستے پر چلتا ہو، لیٹا ہو یا کھڑا ہو۔ اُنہیں نشان کے طور پر اور یاددہانی کے لئے اپنے بازوؤں اور ماتھے پر لگا۔ اُنہیں اپنے گھروں کی چوکھٹوں اور اپنے شہروں کے دروازوں پر لکھ۔
خدا کرے کہ آپ مسیح کی یہ محبت جان لیں جو ہر علم سے کہیں افضل ہے اور یوں اللہ کی پوری معموری سے بھر جائیں۔
یہ اچھا اور ہمارے نجات دہندہ اللہ کو پسندیدہ ہے۔ ہاں، وہ چاہتا ہے کہ تمام انسان نجات پا کر سچائی کو جان لیں۔