Sabedoria
A sabedoria é um dos temas mais ricos da Bíblia. O temor do Senhor é seu princípio, e buscá-la vale mais que ouro ou prata. Deus promete dar sabedoria generosamente a quem pedir com fé.
O princípio da sabedoria
O temor do Senhor é o início de toda sabedoria verdadeira. Quem reverencia a Deus aprende a viver com discernimento e prudência.
حکمت اِس سے شروع ہوتی ہے کہ ہم رب کا خوف مانیں۔ صرف احمق حکمت اور تربیت کو حقیر جانتے ہیں۔
رب کا خوف ماننے سے ہی حکمت شروع ہوتی ہے، قدوس خدا کو جاننے سے ہی سمجھ حاصل ہوتی ہے۔
رب کا خوف ہی وہ تربیت ہے جس سے انسان حکمت سیکھتا ہے۔ پہلے فروتنی اپنا لے، کیونکہ یہی عزت پانے کا پہلا قدم ہے۔
حکمت اِس سے شروع ہوتی ہے کہ ہم رب کا خوف مانیں۔ جو بھی اُس کے احکام پر عمل کرے اُسے اچھی سمجھ حاصل ہو گی۔ اُس کی حمد ہمیشہ تک قائم رہے گی۔
لیکن حکمت کہاں پائی جاتی ہے، سمجھ کہاں سے ملتی ہے؟ انسان اُس تک جانے والی راہ نہیں جانتا، کیونکہ اُسے ملکِ حیات میں پایا نہیں جاتا۔ سمندر کہتا ہے، ’حکمت میرے پاس نہیں ہے،‘ اور اُس کی گہرائیاں بیان کرتی ہیں، ’یہاں بھی نہیں ہے۔‘
حکمت کو نہ خالص سونے، نہ چاندی سے خریدا جا سکتا ہے۔ اُسے پانے کے لئے نہ اوفیر کا سونا، نہ بیش قیمت عقیقِ احمر یا سنگِ لاجورد کافی ہیں۔ سونا اور شیشہ اُس کا مقابلہ نہیں کر سکتے، نہ وہ سونے کے زیورات کے عوض مل سکتی ہے۔ اُس کی نسبت مونگا اور بلور کی کیا قدر ہے؟ حکمت سے بھری تھیلی موتیوں سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ ایتھوپیا کا زبرجد اُس کا مقابلہ نہیں کر سکتا، اُسے خالص سونے کے لئے خریدا نہیں جا سکتا۔
حکمت کہاں سے آتی، سمجھ کہاں سے مل سکتی ہے؟ وہ تمام جانداروں سے پوشیدہ رہتی بلکہ پرندوں سے بھی چھپی رہتی ہے۔ پاتال اور موت اُس کے بارے میں کہتے ہیں، ’ہم نے اُس کے بارے میں صرف افواہیں سنی ہیں۔‘
Sabedoria como dom de Deus
A verdadeira sabedoria vem do alto. Deus a concede generosamente a quem pede com fé, sem lançar em rosto a fraqueza humana.
لیکن اگر آپ میں سے کسی میں حکمت کی کمی ہو تو اللہ سے مانگے جو سب کو فیاضی سے اور بغیر جھڑکی دیئے دیتا ہے۔ وہ ضرور آپ کو حکمت دے گا۔
لیکن اگر آپ میں سے کسی میں حکمت کی کمی ہو تو اللہ سے مانگے جو سب کو فیاضی سے اور بغیر جھڑکی دیئے دیتا ہے۔ وہ ضرور آپ کو حکمت دے گا۔
لیکن اگر آپ میں سے کسی میں حکمت کی کمی ہو تو اللہ سے مانگے جو سب کو فیاضی سے اور بغیر جھڑکی دیئے دیتا ہے۔ وہ ضرور آپ کو حکمت دے گا۔
کیونکہ رب ہی حکمت عطا کرتا، اُسی کے منہ سے عرفان اور سمجھ نکلتی ہے۔
کیونکہ رب ہی حکمت عطا کرتا، اُسی کے منہ سے عرفان اور سمجھ نکلتی ہے۔
بصیرت کے لئے آواز دے، چلّا کر سمجھ مانگ۔ اگر تُو ایسا کرے تو تجھے رب کے خوف کی سمجھ آئے گی اور اللہ کا عرفان حاصل ہو گا۔
اے میرے باپ دادا کے خدا، مَیں تیری حمد و ثنا کرتا ہوں! تُو نے مجھے حکمت اور طاقت عطا کی ہے۔ جو بات ہم نے تجھ سے مانگی وہ تُو نے ہم پر ظاہر کی، کیونکہ تُو نے ہم پر بادشاہ کا خواب ظاہر کیا ہے۔"
"اللہ کے نام کی تمجید ازل سے ابد تک ہو۔ وہی حکمت اور قوت کا مالک ہے۔
اللہ نے اِن چار آدمیوں کو ادب اور حکمت کے ہر شعبے میں علم اور سمجھ عطا کی۔ نیز، دانیال ہر قسم کی رویا اور خواب کی تعبیر کر سکتا تھا۔
A sabedoria do alto
A sabedoria que vem de Deus é pura, pacífica, amável, cheia de misericórdia e de bons frutos. Ela se opõe à sabedoria terrena e mundana.
آسمان کی حکمت فرق ہے۔ اوّل تو وہ پاک اور مُقدّس ہے۔ نیز وہ امن پسند، نرم دل، فرماں بردار، رحم اور اچھے پھل سے بھری ہوئی، غیرجانب دار اور خلوص دل ہے۔
آسمان کی حکمت فرق ہے۔ اوّل تو وہ پاک اور مُقدّس ہے۔ نیز وہ امن پسند، نرم دل، فرماں بردار، رحم اور اچھے پھل سے بھری ہوئی، غیرجانب دار اور خلوص دل ہے۔
آسمان کی حکمت فرق ہے۔ اوّل تو وہ پاک اور مُقدّس ہے۔ نیز وہ امن پسند، نرم دل، فرماں بردار، رحم اور اچھے پھل سے بھری ہوئی، غیرجانب دار اور خلوص دل ہے۔
آسمان سے حکمت
کیا آپ میں سے کوئی دانا اور سمجھ دار ہے؟ وہ یہ بات اپنے اچھے چال چلن سے ظاہر کرے، حکمت سے پیدا ہونے والی حلیمی کے نیک کاموں سے۔
غلط اور صحیح دانائی
دانائی کی باتیں ہم اُس وقت کرتے ہیں جب کامل ایمان رکھنے والوں کے درمیان ہوتے ہیں۔ لیکن یہ دانائی موجودہ جہان کی نہیں اور نہ اِس جہان کے حاکموں ہی کی ہے جو مٹنے والے ہیں۔ بلکہ ہم خدا ہی کی دانائی کی باتیں کرتے ہیں جو بھید کی صورت میں چھپی رہی ہے۔ اللہ نے تمام زمانوں سے پیشتر مقرر کیا ہے کہ یہ دانائی ہمارے جلال کا باعث بنے۔
اِس کے مقابلے میں ہم مسیحِ مصلوب کی منادی کرتے ہیں۔ یہودی اِس سے ٹھوکر کھا کر ناراض ہو جاتے ہیں جبکہ غیریہودی اِسے بےوقوفی قرار دیتے ہیں۔ لیکن جو اللہ کے بُلائے ہوئے ہیں، خواہ وہ یہودی ہوں خواہ یونانی، اُن کے لئے مسیح اللہ کی قدرت اور اللہ کی دانائی ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ کی جو بات بےوقوفی لگتی ہے وہ انسان کی دانائی سے زیادہ دانش مند ہے۔ اور اللہ کی جو بات کمزور لگتی ہے وہ انسان کی طاقت سے زیادہ طاقت ور ہے۔
اپنے بارے میں شیخی نہ مارنا
کوئی اپنے آپ کو فریب نہ دے۔ اگر آپ میں سے کوئی سمجھے کہ وہ اِس دنیا کی نظر میں دانش مند ہے تو پھر ضروری ہے کہ وہ بےوقوف بنے تاکہ واقعی دانش مند ہو جائے۔
اپنے بارے میں شیخی نہ مارنا
کوئی اپنے آپ کو فریب نہ دے۔ اگر آپ میں سے کوئی سمجھے کہ وہ اِس دنیا کی نظر میں دانش مند ہے تو پھر ضروری ہے کہ وہ بےوقوف بنے تاکہ واقعی دانش مند ہو جائے۔
میری کوشش یہ ہے کہ اُن کی دلی حوصلہ افزائی کی جائے اور وہ محبت میں ایک ہو جائیں، کہ اُنہیں وہ ٹھوس اعتماد حاصل ہو جائے جو پوری سمجھ سے پیدا ہوتا ہے۔ کیونکہ مَیں چاہتا ہوں کہ وہ اللہ کا راز جان لیں۔ راز کیا ہے؟ مسیح خود۔ اُسی میں حکمت اور علم و عرفان کے تمام خزانے پوشیدہ ہیں۔
Direção e discernimento
Deus guia os humildes na justiça e ensina seu caminho aos mansos. Ele promete dirigir nossos passos quando confiamos nele de todo o coração.
پورے دل سے رب پر بھروسا رکھ، اور اپنی عقل پر تکیہ نہ کر۔ جہاں بھی تُو چلے صرف اُسی کو جان لے، پھر وہ خود تیری راہوں کو ہموار کرے گا۔
اپنے آپ کو دانش مند مت سمجھنا بلکہ رب کا خوف مان کر بُرائی سے دُور رہ۔
"مَیں تجھے تعلیم دوں گا، تجھے وہ راہ دکھاؤں گا جس پر تجھے جانا ہے۔ مَیں تجھے مشورہ دے کر تیری دیکھ بھال کروں گا۔
وہ فروتنوں کی انصاف کی راہ پر راہنمائی کرتا، حلیموں کو اپنی راہ کی تعلیم دیتا ہے۔
اے رب، اپنی راہیں مجھے دکھا، مجھے اپنے راستوں کی تعلیم دے۔
اپنی سچائی کے مطابق میری راہنمائی کر، مجھے تعلیم دے۔ کیونکہ تُو میری نجات کا خدا ہے۔ دن بھر مَیں تیرے انتظار میں رہتا ہوں۔
اگر کسی کے پاؤں جم جائیں تو یہ رب کی طرف سے ہے۔ ایسے شخص کی راہ کو وہ پسند کرتا ہے۔
صبح کے وقت مجھے اپنی شفقت کی خبر سنا، کیونکہ مَیں تجھ پر بھروسا رکھتا ہوں۔ مجھے وہ راہ دکھا جس پر مجھے جانا ہے، کیونکہ مَیں تیرا ہی آرزومند ہوں۔
مجھے اپنی مرضی پوری کرنا سکھا، کیونکہ تُو میرا خدا ہے۔ تیرا نیک روح ہموار زمین پر میری راہنمائی کرے۔
اے رب، اپنے نام کی خاطر میری جان کو تازہ دم کر۔ اپنی راستی سے میری جان کو مصیبت سے بچا۔
اے رب، مجھے اپنی راہ کی تربیت دے، ہموار راستے پر میری راہنمائی کر تاکہ اپنے دشمنوں سے محفوظ رہوں۔
A Palavra como fonte de sabedoria
A Palavra de Deus é lâmpada para os pés e luz para o caminho. Meditar nas Escrituras nos dá entendimento superior ao dos mestres.
14
تیرا کلام میرے پاؤں کے لئے چراغ ہے جو میری راہ کو روشن کرتا ہے۔
14
تیرا کلام میرے پاؤں کے لئے چراغ ہے جو میری راہ کو روشن کرتا ہے۔
میری آنکھوں کو کھول تاکہ تیری شریعت کے عجائب دیکھوں۔
تیرے کلام کا انکشاف روشنی بخشتا اور سادہ لوح کو سمجھ عطا کرتا ہے۔
دو راہیں
مبارک ہے وہ جو نہ بےدینوں کے مشورے پر چلتا، نہ گناہ گاروں کی راہ پر قدم رکھتا، اور نہ طعنہ زنوں کے ساتھ بیٹھتا ہے
بلکہ رب کی شریعت سے لطف اندوز ہوتا اور دن رات اُسی پر غور و خوض کرتا رہتا ہے۔
آپ کی زندگی میں مسیح کے کلام کی پوری دولت گھر کر جائے۔ ایک دوسرے کو ہر طرح کی حکمت سے تعلیم دیتے اور سمجھاتے رہیں۔ ساتھ ساتھ اپنے دلوں میں اللہ کے لئے شکرگزاری کے ساتھ زبور، حمد و ثنا اور روحانی گیت گاتے رہیں۔
چلتے وقت وہ تیری راہنمائی کریں، آرام کرتے وقت تیری پہرا داری کریں، جاگتے وقت تجھ سے ہم کلام ہوں۔
Sabedoria prática para o dia a dia
A sabedoria se aplica em cada decisão: nas finanças, nos relacionamentos, no trabalho e no uso do tempo. Vivamos como sábios, não como insensatos.
چنانچہ بڑی احتیاط سے اِس پر دھیان دیں کہ آپ زندگی کس طرح گزارتے ہیں — بےسمجھ یا سمجھ دار لوگوں کی طرح۔ ہر موقع سے پورا فائدہ اُٹھائیں، کیونکہ دن بُرے ہیں۔
چنانچہ بڑی احتیاط سے اِس پر دھیان دیں کہ آپ زندگی کس طرح گزارتے ہیں — بےسمجھ یا سمجھ دار لوگوں کی طرح۔ ہر موقع سے پورا فائدہ اُٹھائیں، کیونکہ دن بُرے ہیں۔
اچھا مشورہ اپنا اور تربیت قبول کر تاکہ آئندہ دانش مند ہو۔
اچھا مشورہ اپنا اور تربیت قبول کر تاکہ آئندہ دانش مند ہو۔
جو حکمت اپنا لے وہ اپنی جان سے محبت رکھتا ہے، جو سمجھ کی پرورش کرے اُسے کامیابی ہو گی۔
منصوبے صلاح مشورے سے مضبوط ہو جاتے ہیں، اور جنگ کرنے سے پہلے دوسروں کی ہدایات پر دھیان دے۔
کیونکہ جنگ کرنے کے لئے ہدایت اور فتح پانے کے لئے متعدد مشیروں کی ضرورت ہوتی ہے۔
تحمل کرنے والا بڑی سمجھ داری کا مالک ہے، لیکن غصیلا آدمی اپنی حماقت کا اظہار کرتا ہے۔
مغروروں میں ہمیشہ جھگڑا ہوتا ہے جبکہ دانش مند صلاح مشورے کے مطابق ہی چلتے ہیں۔
جو اپنی زبان قابو میں رکھے وہ اپنی زندگی محفوظ رکھتا ہے، جو اپنی زبان کو بےلگام چھوڑ دے وہ تباہ ہو جائے گا۔
احمق کی نظر میں اُس کی اپنی راہ ٹھیک ہے، لیکن دانش مند دوسروں کے مشورے پر دھیان دیتا ہے۔
جہاں تکبر ہے وہاں بدنامی بھی قریب ہی رہتی ہے، لیکن جو حلیم ہے اُس کے دامن میں حکمت رہتی ہے۔
جو دل سے دانش مند ہے وہ احکام قبول کرتا ہے، لیکن بکواسی تباہ ہو جائے گا۔
سمجھ دار کا دل علم اپناتا اور دانش مند کا کان عرفان کا کھوج لگاتا رہتا ہے۔
احمق سمجھ سے لطف اندوز نہیں ہوتا بلکہ صرف اپنے دل کی باتیں دوسروں پر ظاہر کرنے سے۔
اگر احمق خاموش رہے تو وہ بھی دانش مند لگتا ہے۔ جب تک وہ بات نہ کرے لوگ اُسے سمجھ دار قرار دیتے ہیں۔
جو دانا ہے وہ سن کر اپنے علم میں اضافہ کرے، جو سمجھ دار ہے وہ راہنمائی کرنے کا فن سیکھ لے۔
جو اب تک ایمان نہ لائے ہوں اُن کے ساتھ دانش مندانہ سلوک کریں۔ اِس سلسلے میں ہر موقع سے فائدہ اُٹھائیں۔ آپ کی گفتگو ہر وقت مہربان ہو، ایسی کہ مزہ آئے اور آپ ہر ایک کو مناسب جواب دے سکیں۔
جو اب تک ایمان نہ لائے ہوں اُن کے ساتھ دانش مندانہ سلوک کریں۔ اِس سلسلے میں ہر موقع سے فائدہ اُٹھائیں۔ آپ کی گفتگو ہر وقت مہربان ہو، ایسی کہ مزہ آئے اور آپ ہر ایک کو مناسب جواب دے سکیں۔
جو کچھ بھی آپ کرتے ہیں اُسے پوری لگن کے ساتھ کریں، اِس طرح جیسا کہ آپ نہ صرف انسانوں کی بلکہ خداوند کی خدمت کر رہے ہوں۔ آپ تو جانتے ہیں کہ خداوند آپ کو اِس کے معاوضے میں وہ میراث دے گا جس کا وعدہ اُس نے کیا ہے۔ حقیقت میں آپ خداوند مسیح کی ہی خدمت کر رہے ہیں۔
O valor da sabedoria
A sabedoria é mais preciosa que rubis. Quem a encontra, encontra a vida e alcança o favor do Senhor. Nada se compara a ela.
حقیقی دولت
مبارک ہے وہ جو حکمت پاتا ہے، جسے سمجھ حاصل ہوتی ہے۔
کیونکہ جو مجھے پائے وہ زندگی اور رب کی منظوری پاتا ہے۔
حکمت کا حصول سونے سے کہیں بہتر اور سمجھ پانا چاندی سے کہیں بڑھ کر ہے۔
انسان اپنے دل میں منصوبے باندھتا رہتا ہے، لیکن رب ہی مقرر کرتا ہے کہ وہ آخرکار کس راہ پر چل پڑے۔
انسان دل میں منصوبے باندھتا ہے، لیکن زبان کا جواب رب کی طرف سے آتا ہے۔
کیونکہ حکمت پیسوں کی طرح پناہ دیتی ہے، لیکن حکمت کا خاص فائدہ یہ ہے کہ وہ اپنے مالک کی جان بچائے رکھتی ہے۔
یہ نہ پوچھ کہ آج کی نسبت پرانا زمانہ بہتر کیوں تھا، کیونکہ یہ حکمت کی بات نہیں۔
جو انسان اللہ کو منظور ہو اُسے وہ حکمت، علم و عرفان اور خوشی عطا کرتا ہے، لیکن گناہ گار کو وہ جمع کرنے اور ذخیرہ کرنے کی ذمہ داری دیتا ہے تاکہ بعد میں یہ دولت اللہ کو منظور شخص کے حوالے کی جائے۔ یہ بھی باطل اور ہَوا کو پکڑنے کے برابر ہے۔
جس کام کو بھی ہاتھ لگائے اُسے پورے جوش و خروش سے کر، کیونکہ پاتال میں جہاں تُو جا رہا ہے نہ کوئی کام ہے، نہ منصوبہ، نہ علم اور نہ حکمت۔
A sabedoria e a soberania de Deus
Os caminhos de Deus são mais altos que os nossos. Sua sabedoria é insondável, eterna e infinitamente superior ao entendimento humano.
جتنا آسمان زمین سے اونچا ہے اُتنی ہی میری راہیں تمہاری راہوں اور میرے خیالات تمہارے خیالات سے بلند ہیں۔
کیونکہ رب فرماتا ہے، "میرے خیالات اور تمہارے خیالات میں اور میری راہوں اور تمہاری راہوں میں بڑا فرق ہے۔
کیا تجھے معلوم نہیں، کیا تُو نے نہیں سنا کہ رب لازوال خدا اور دنیا کی انتہا تک کا خالق ہے؟ وہ کبھی نہیں تھکتا، کبھی نڈھال نہیں ہوتا۔ کوئی بھی اُس کی سمجھ کی گہرائیوں تک نہیں پہنچ سکتا۔
کیا تجھے معلوم نہیں، کیا تُو نے نہیں سنا کہ رب لازوال خدا اور دنیا کی انتہا تک کا خالق ہے؟ وہ کبھی نہیں تھکتا، کبھی نڈھال نہیں ہوتا۔ کوئی بھی اُس کی سمجھ کی گہرائیوں تک نہیں پہنچ سکتا۔
رب کے پیغمبر کی رُسوائی
رب قادرِ مطلق نے مجھے شاگرد کی سی زبان عطا کی تاکہ مَیں وہ کلام جان لوں جس سے تھکاماندہ تقویت پائے۔ صبح بہ صبح وہ میرے کان کو جگا دیتا ہے تاکہ مَیں شاگرد کی طرح سن سکوں۔
مصر کی مدد بےکار ہے
اُن پر افسوس جو مدد کے لئے مصر جاتے ہیں۔ اُن کی پوری اُمید گھوڑوں سے ہے، اور وہ اپنے متعدد رتھوں اور طاقت ور گھڑسواروں پر اعتماد رکھتے ہیں۔ افسوس، نہ وہ اسرائیل کے قدوس کی طرف نظر اُٹھاتے، نہ رب کی مرضی دریافت کرتے ہیں۔ لیکن اللہ بھی دانا ہے۔ وہ تم پر آفت لائے گا اور اپنا فرمان منسوخ نہیں کرے گا بلکہ شریروں کے گھر اور اُن کے معاونوں کے خلاف اُٹھ کھڑا ہو گا۔
اُسے یہ علم بھی رب الافواج سے ملا ہے جو زبردست مشوروں اور کامل حکمت کا منبع ہے۔
رب کا روح اُس پر ٹھہرے گا یعنی حکمت اور سمجھ کا روح، مشورت اور قوت کا روح، عرفان اور رب کے خوف کا روح۔ رب کا خوف اُسے عزیز ہو گا۔ نہ وہ دکھاوے کی بنا پر فیصلہ کرے گا، نہ سنی سنائی باتوں کی بنا پر فتویٰ دے گا
رب ہمیشہ تیری قیادت کرے گا، وہ جُھلستے ہوئے علاقوں میں بھی تیری جان کی ضروریات پوری کرے گا اور تیرے اعضا کو تقویت دے گا۔ تب تُو سیراب باغ کی مانند ہو گا، اُس چشمے کی مانند جس کا پانی کبھی ختم نہیں ہوتا۔
اللہ کی تمجید
واہ! اللہ کی دولت، حکمت اور علم کیا ہی گہرا ہے۔ کون اُس کے فیصلوں کی تہہ تک پہنچ سکتا ہے! کون اُس کی راہوں کا کھوج لگا سکتا ہے!
اللہ کی تمجید ہو جو واحد دانش مند ہے۔ اُسی کا عیسیٰ مسیح کے وسیلے سے ابد تک جلال ہوتا رہے! آمین۔
اور ہم جانتے ہیں کہ جو اللہ سے محبت رکھتے ہیں اُن کے لئے سب کچھ مل کر بھلائی کا باعث بنتا ہے، اُن کے لئے جو اُس کے ارادے کے مطابق بُلائے گئے ہیں۔
اے رب، تیرے اَن گنت کام کتنے عظیم ہیں! تُو نے ہر ایک کو حکمت سے بنایا، اور زمین تیری مخلوقات سے بھری پڑی ہے۔
ہمارا رب عظیم ہے، اور اُس کی قدرت زبردست ہے۔ اُس کی حکمت کی کوئی انتہا نہیں۔
تُو اپنے مشورے سے میری قیادت کر کے آخر میں عزت کے ساتھ میرا خیرمقدم کرے گا۔
چنانچہ ہمیں ہمارے دنوں کا صحیح حساب کرنا سکھا تاکہ ہمارے دل دانش مند ہو جائیں۔
راست باز کا منہ حکمت بیان کرتا اور اُس کی زبان سے انصاف نکلتا ہے۔
رب سے لطف اندوز ہو تو جو تیرا دل چاہے وہ تجھے دے گا۔
اے رب، اپنی راست راہ پر میری راہنمائی کر تاکہ میرے دشمن مجھ پر غالب نہ آئیں۔ اپنی راہ کو میرے آگے ہموار کر۔
تُو مجھے زندگی کی راہ سے آگاہ کرتا ہے۔ تیرے حضور سے بھرپور خوشیاں، تیرے دہنے ہاتھ سے ابدی مسرتیں حاصل ہوتی ہیں۔
اور جب مَیں اُنہیں واپس لاؤں گا تو وہ روتے ہوئے اور التجائیں کرتے ہوئے میرے پیچھے چلیں گے۔ مَیں اُنہیں ندیوں کے کنارے کنارے اور ایسے ہموار راستوں پر واپس لے چلوں گا، جہاں ٹھوکر کھانے کا خطرہ نہیں ہو گا۔ کیونکہ مَیں اسرائیل کا باپ ہوں، اور افرائیم میرا پہلوٹھا ہے۔
اے رب، مَیں نے جان لیا ہے کہ انسان کی راہ اُس کے اپنے ہاتھ میں نہیں ہوتی۔ اپنی مرضی سے نہ وہ چلتا، نہ قدم اُٹھاتا ہے۔
دیکھو، اللہ ہی نے اپنی قدرت سے زمین کو خلق کیا، اُسی نے اپنی حکمت سے دنیا کی بنیاد رکھی، اور اُسی نے اپنی سمجھ کے مطابق آسمان کو خیمے کی طرح تان لیا۔
اُس پر شیخی نہ مار جو تُو کل کرے گا، تجھے کیا معلوم کہ کل کا دن کیا کچھ فراہم کرے گا؟
شریر انصاف نہیں سمجھتے، لیکن رب کے طالب سب کچھ سمجھتے ہیں۔
اللہ کی تمجید ہو جو اپنی اُس قدرت کے موافق جو ہم میں کام کر رہی ہے ایسا زبردست کام کر سکتا ہے جو ہماری ہر سوچ اور دعا سے کہیں باہر ہے۔ ہاں، مسیح عیسیٰ اور اُس کی جماعت میں اللہ کی تمجید پشت در پشت اور ازل سے ابد تک ہوتی رہے۔ آمین۔
آخری تنبیہ اور سلام
اب مَیں تیسری دفعہ آپ کے پاس آ رہا ہوں۔ کلامِ مُقدّس کے مطابق لازم ہے کہ ہر الزام کی تصدیق دو یا تین گواہوں سے کی جائے۔
کیا آپ کلامِ مُقدّس کی یہ حوصلہ افزا بات بھول گئے ہیں جو آپ کو اللہ کے فرزند ٹھہرا کر بیان کرتی ہے،
"میرے بیٹے، رب کی تربیت کو حقیر مت جان،
جب وہ تجھے ڈانٹے تو نہ بےدل ہو۔
کیونکہ جو رب کو پیارا ہے اُس کی وہ تادیب کرتا ہے،
وہ ہر ایک کو سزا دیتا ہے
جسے اُس نے بیٹے کے طور پر قبول کیا ہے۔"
بھائیو، ایک آخری بات، جو کچھ سچا ہے، جو کچھ شریف ہے، جو کچھ راست ہے، جو کچھ مُقدّس ہے، جو کچھ پسندیدہ ہے، جو کچھ عمدہ ہے، غرض، اگر کوئی اخلاقی یا قابلِ تعریف بات ہو تو اُس کا خیال رکھیں۔
اِس لئے کل کے بارے میں فکر کرتے کرتے پریشان نہ ہو کیونکہ کل کا دن اپنے لئے آپ فکر کر لے گا۔ ہر دن کی اپنی مصیبتیں کافی ہیں۔
اُس دن جنوبی ملک سبا کی ملکہ بھی اِس نسل کے ساتھ کھڑی ہو کر اِسے مجرم قرار دے گی۔ کیونکہ وہ دُوردراز ملک سے سلیمان کی حکمت سننے کے لئے آئی تھی جبکہ یہاں وہ ہے جو سلیمان سے بھی بڑا ہے۔
دو قسم کے مکان
لہٰذا جو بھی میری یہ باتیں سن کر اُن پر عمل کرتا ہے وہ اُس سمجھ دار آدمی کی مانند ہے جس نے اپنے مکان کی بنیاد چٹان پر رکھی۔
کیونکہ مَیں تم کو ایسے الفاظ اور حکمت عطا کروں گا کہ تمہارے تمام مخالف نہ اُس کا مقابلہ اور نہ اُس کی تردید کر سکیں گے۔
ظاہری صورت کی بنا پر فیصلہ نہ کرو بلکہ باطنی حالت پہچان کر منصفانہ فیصلہ کرو۔"
رب نے حکمت کے وسیلے سے ہی زمین کی بنیاد رکھی، سمجھ کے ذریعے ہی آسمان کو مضبوطی سے لگایا۔
اور حکمت اُن میں پائی جاتی ہے جو عمر رسیدہ ہیں، سمجھ متعدد دن گزرنے کے بعد ہی آتی ہے۔
حکمت اور قدرت اللہ کی ہے، وہی مصلحت اور سمجھ کا مالک ہے۔
ایوب کا جواب: ثالث کے بغیر مَیں راست باز نہیں ٹھہر سکتا
ایوب نے جواب دے کر کہا،
"مَیں خوب جانتا ہوں کہ تیری بات درست ہے۔ لیکن اللہ کے حضور انسان کس طرح راست باز ٹھہر سکتا ہے؟ اگر وہ عدالت میں اللہ کے ساتھ لڑنا چاہے تو اُس کے ہزار سوالات پر ایک کا بھی جواب نہیں دے سکے گا۔ اللہ کا دل دانش مند اور اُس کی قدرت عظیم ہے۔ کون کبھی اُس سے بحث مباحثہ کر کے کامیاب رہا ہے؟
اے انسان، اُس نے تجھے صاف بتایا ہے کہ کیا کچھ اچھا ہے۔ رب تجھ سے چاہتا ہے کہ تُو انصاف قائم رکھے، مہربانی کرنے میں لگا رہے اور فروتنی سے اپنے خدا کے حضور چلتا رہے۔
اُنہیں سمجھاتے ہوئے اُس نے کہا، "اپنی روِش پر دھیان دیں! یاد رہے کہ آپ انسان کے جواب دہ نہیں ہیں بلکہ رب کے۔ وہی آپ کے ساتھ ہو گا جب آپ فیصلے کریں گے۔
دیکھیں، آپ یہ بھی نہیں جانتے کہ کل کیا ہو گا۔ آپ کی زندگی چیز ہی کیا ہے! آپ بھاپ ہی ہیں جو تھوڑی دیر کے لئے نظر آتی، پھر غائب ہو جاتی ہے۔