Salvador
Jesus é o Salvador do mundo. Desde a manjedoura até a cruz e a ressurreição, toda a Escritura aponta para Aquele que veio buscar e salvar o que se havia perdido.
O Salvador nasceu
Na plenitude dos tempos, Deus enviou seu Filho ao mundo. O anjo declarou: 'Hoje vos nasceu um Salvador, que é Cristo, o Senhor.'
آج ہی داؤد کے شہر میں تمہارے لئے نجات دہندہ پیدا ہوا ہے یعنی مسیح خداوند۔
وہ جو اللہ کی صورت پر تھا
نہیں سمجھتا تھا کہ میرا اللہ کے برابر ہونا
کوئی ایسی چیز ہے
جس کے ساتھ زبردستی چمٹے رہنے کی ضرورت ہے۔
نہیں، اُس نے اپنے آپ کو اِس سے محروم کر کے
غلام کی صورت اپنائی
اور انسانوں کی مانند بن گیا۔
شکل و صورت میں وہ انسان پایا گیا۔
اُس نے اپنے آپ کو پست کر دیا
اور موت تک تابع رہا،
بلکہ صلیبی موت تک۔
"لیکن مَیں، رب تجھے مصر سے نکالتے وقت سے لے کر آج تک تیرا خدا ہوں۔ تجھے میرے سوا کسی اَور کو خدا نہیں جاننا ہے۔ میرے سوا اَور کوئی نجات دہندہ نہیں ہے۔
O sacrifício redentor
Jesus deu a própria vida por nós. Ele é a propiciação pelos nossos pecados e o autor da salvação eterna para todos os que lhe obedecem.
وہی ہمارے گناہوں کا کفارہ دینے والی قربانی ہے، اور نہ صرف ہمارے گناہوں کا بلکہ پوری دنیا کے گناہوں کا بھی۔
یہی محبت ہے، یہ نہیں کہ ہم نے اللہ سے محبت کی بلکہ یہ کہ اُس نے ہم سے محبت کر کے اپنے فرزند کو بھیج دیا تاکہ وہ ہمارے گناہوں کو مٹانے کے لئے کفارہ دے۔
ہم ابھی اللہ کے دشمن ہی تھے جب اُس کے فرزند کی موت کے وسیلے سے ہماری اُس کے ساتھ صلح ہو گئی۔ تو پھر یہ بات کتنی یقینی ہے کہ ہم اُس کی زندگی کے وسیلے سے نجات بھی پائیں گے۔
کیونکہ آپ خود جانتے ہیں کہ آپ کو باپ دادا کی بےمعنی زندگی سے چھڑانے کے لئے کیا فدیہ دیا گیا۔ یہ سونے یا چاندی جیسی فانی چیز نہیں تھی بلکہ مسیح کا قیمتی خون تھا۔ اُسی کو بےنقص اور بےداغ لیلے کی حیثیت سے ہمارے لئے قربان کیا گیا۔
کیونکہ اُس نے مسیح کے خون سے ہمارا فدیہ دے کر ہمیں آزاد اور ہمارے گناہوں کو معاف کر دیا ہے۔ اللہ کا یہ فضل کتنا وسیع ہے
اور یوں مَیں خود زندہ نہ رہا بلکہ مسیح مجھ میں زندہ ہے۔ اب جو زندگی مَیں اِس جسم میں گزارتا ہوں وہ اللہ کے فرزند پر ایمان لانے سے گزارتا ہوں۔ اُسی نے مجھ سے محبت رکھ کر میرے لئے اپنی جان دی۔
O caminho da salvação
Jesus é o mediador da nova aliança. Ele vive para interceder por nós e pode salvar perfeitamente todos os que se achegam a Deus por meio dele.
جب وہ کاملیت تک پہنچ گیا تو وہ اُن سب کی ابدی نجات کا سرچشمہ بن گیا جو اُس کی سنتے ہیں۔
یوں وہ اُنہیں ابدی نجات دے سکتا ہے جو اُس کے وسیلے سے اللہ کے پاس آتے ہیں، کیونکہ وہ ابد تک زندہ ہے اور اُن کی شفاعت کرتا رہتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مسیح ایک نئے عہد کا درمیانی ہے۔ مقصد یہ تھا کہ جتنے لوگوں کو اللہ نے بُلایا ہے اُنہیں اللہ کی موعودہ اور ابدی میراث ملے۔ اور یہ صرف اِس لئے ممکن ہوا ہے کہ مسیح نے مر کر فدیہ دیا تاکہ لوگ اُن گناہوں سے چھٹکارا پائیں جو اُن سے اُس وقت سرزد ہوئے جب وہ پہلے عہد کے تحت تھے۔
اور دوڑتے ہوئے ہم عیسیٰ کو تکتے رہیں، اُسے جو ایمان کا بانی بھی ہے اور اُسے تکمیل تک پہنچانے والا بھی۔ یاد رہے کہ گو وہ خوشی حاصل کر سکتا تھا توبھی اُس نے صلیبی موت کی شرم ناک بےعزتی کی پروا نہ کی بلکہ اِسے برداشت کیا۔ اور اب وہ اللہ کے تخت کے دہنے ہاتھ جا بیٹھا ہے!
سب نے گناہ کیا، سب اللہ کے اُس جلال سے محروم ہیں جس کا وہ تقاضا کرتا ہے، اور سب مفت میں اللہ کے فضل ہی سے راست باز ٹھہرائے جاتے ہیں، اُس فدئیے کے وسیلے سے جو مسیح عیسیٰ نے دیا۔
لیکن اللہ نے آج تک میری مدد کی ہے، اِس لئے مَیں یہاں کھڑا ہو کر چھوٹوں اور بڑوں کو اپنی گواہی دے سکتا ہوں۔ جو کچھ مَیں سناتا ہوں وہ وہی کچھ ہے جو موسیٰ اور نبیوں نے کہا ہے، کہ مسیح دُکھ اُٹھا کر پہلا شخص ہو گا جو مُردوں میں سے جی اُٹھے گا اور کہ وہ یوں اپنی قوم اور غیریہودیوں کے سامنے اللہ کے نور کا پرچار کرے گا۔"
فرشتے نے خواتین سے کہا، "مت ڈرو۔ مجھے معلوم ہے کہ تم عیسیٰ کو ڈھونڈ رہی ہو جو مصلوب ہوا تھا۔ وہ یہاں نہیں ہے۔ وہ جی اُٹھا ہے، جس طرح اُس نے فرمایا تھا۔ آؤ، اُس جگہ کو خود دیکھ لو جہاں وہ پڑا تھا۔
لیکن مَیں جانتا ہوں کہ میرا چھڑانے والا زندہ ہے اور آخرکار میرے حق میں زمین پر کھڑا ہو جائے گا،