2 اِس کی وجہ یہ ہے کہ جو کسی اجنبی زبان میں کلام کرتا ہے وہ اِنسان سے نہیں بَلکہ خُدا سے ہم کلام ہوتاہے کیونکہ اُس کی بات کویٔی نہیں سمجھتا؛ وہ پاک رُوح کی قُدرت سے راز کی باتیں کرتا ہے۔ 4 جو کسی اجنبی زبان میں کلام کرتا ہے وہ اَپنے ہی فائدہ کے لیٔے اَیسا کرتا ہے، مگر جو نبُوّت کرتا ہے وہ جماعت کی بھلائی کے لیٔے اَیسا کرتا ہے۔
14 کیونکہ اگر مَیں کسی اجنبی زبان میں دعا کروں تو میری رُوح تو دعا کرتی ہے مگر میری عقل بیکار رہتی ہے۔ 15 لہٰذا مُجھے کیا کرنا چاہئے؟ میں اَپنی رُوح سے دعا کروں گا، لیکن مَیں اَپنی عقل سے بھی دعا کروں گا، میں اَپنی رُوح سے حَمد کے نغمہ گاؤں گا، لیکن مَیں اَپنی عقل سے بھی گاؤں گا۔