11 تَب ناتنؔ نے شُلومونؔ کی ماں بتشیبؔا سے دریافت کیا، "کیا تُم نے نہیں سُنا کہ حگِیّت کا بیٹا ادُونیّاہؔ بادشاہ بَن بیٹھا ہے، اَور ہمارے آقا داویؔد کو یہ مَعلُوم نہیں ہے؟ 12 اِس لیٔے اَب تُم میری صلاح سُنو کہ تُم اَپنی اَور اَپنے بیٹے شُلومونؔ کی جان کس طرح بچا سکتی ہو۔ 13 تُم داویؔد بادشاہ کے پاس جا کر اُن سے کہو، ’اَے میرے آقا بادشاہ! کیا آپ نے اَپنی لونڈی سے قَسم کھا کر نہیں فرمایا تھا: "یقیناً تمہارا بیٹا شُلومونؔ ہی میرے بعد بادشاہ ہوگا اَور وُہی میرے تخت پر بیٹھے گا"؟ پھر ادُونیّاہؔ کیوں بادشاہ بَن گیا؟‘