7 اَور یہ سلسلہ سال بسال چلتا رہا۔ جَب بھی حنّہؔ یَاہوِہ کے گھر جاتی تو اُس کی سوتن اُس کو چھیڑتی یہاں تک کہ وہ رونے لگتی اَور کھانا نہ کھاتی تھی۔
7 اَور یہ سلسلہ سال بسال چلتا رہا۔ جَب بھی حنّہؔ یَاہوِہ کے گھر جاتی تو اُس کی سوتن اُس کو چھیڑتی یہاں تک کہ وہ رونے لگتی اَور کھانا نہ کھاتی تھی۔