حِزقیاہؔ کی بیماری
1 اُن دِنوں حِزقیاہؔ بیمار ہو گیا یہاں تک کہ مرنے کی نَوبَت آ گئی۔ تَب یَشعیاہ بِن آموصؔ نبی اُن سے مُلاقات کرنے آئے اَور حِزقیاہؔ سے فرمایا، "یَاہوِہ یُوں فرماتے ہیں کہ تُم اَپنے گھرانے کو سیدھا کرو کیونکہ تُم مرنے والے ہو اَور اِس بیماری سے شفایاب ہونا ممکن نہیں ہے۔"
2 تَب یہ سُن کر حِزقیاہؔ نے اَپنا مُنہ دیوار کی طرف کرکے یَاہوِہ سے یہ دعا کی، 3 "اَے یَاہوِہ یاد فرمائیں کہ مَیں آپ کے حُضُور مُکمّل جان نثاری اَور پُوری وفاداری سے چلتا رہا ہُوں اَور مَیں نے وُہی کیا ہے جو آپ کی نظروں میں دُرست ہے۔" اَور تَب حِزقیاہؔ زار زار رونے لگا۔
4 یَشعیاہ کے محل درمیانی صحن سے باہر نکلنے سے پیشتر ہی، یَاہوِہ کا کلام اُن پر نازل ہُوا کہ: 5 "واپس جا کر میری قوم کے رہنما حِزقیاہؔ سے فرما، ’یَاہوِہ تمہارے آباؤاَجداد داویؔد کے خُدا یُوں فرماتے ہیں، مَیں نے تمہاری دعا سُن لی ہے اَور مَیں نے تمہارے آنسُو دیکھے ہیں۔ مَیں تُمہیں شفا بخشوں گا اَور آج سے تین دِن کے بعد تُم یَاہوِہ کے بیت المُقدّس میں جاؤگے۔