شُونمیت کے بیٹے کو زندہ کرنا
8 اَور ایک روز الِیشعؔ شُونیمؔ کو گیٔے۔ وہاں ایک دولتمند عورت رہتی تھی جِس نے الِیشعؔ کو اَپنے گھر کھانا کھانے کی دعوت دی۔ لہٰذا جَب کبھی وہ اُدھر سے گزرتے تھے تو وہیں رُک کر کھانا کھاتے تھے۔ 9 اُس عورت نے اَپنے خَاوند سے کہا، "مُجھے یہ پُورا یقین ہے کہ یہ شخص جو اکثر اِسی راستہ سے آتے جاتے ہیں وہ ایک مُقدّس مَرد خُدا ہیں۔ 10 کیوں نہ ہم اُن کے لیٔے چھت پر ایک چھوٹا سا کمرہ بنا دیں اَور اُس میں ایک پلنگ، ایک میز، ایک کُرسی اَور ایک چراغ رکھ دیں۔ تَب جَب کبھی وہ ہمارے پاس آئیں تو وہاں ٹھہر سکیں۔"
11 پھر ایک دِن جَب الِیشعؔ وہاں تشریف لایٔے تو اُوپر گیٔے اَور اُس کمرہ میں آرام کیا۔ 12 اَور الِیشعؔ نے اَپنے خادِم گیحازیؔ سے فرمایا، "اُس شُونمیت عورت کو بُلا لاؤ۔" گیحازیؔ نے اُسے بُلایا اَور وہ آکر اُن کے سامنے کھڑی ہوئی۔ 13 الِیشعؔ نے گیحازیؔ سے فرمایا، "تُم اُس سے کہو، ’تُم نے ہمارے لیٔے اِس قدر جو تکلیف اُٹھائی ہے، اِس کے لیٔے ہم شُکرگزار ہیں؛ تو اَب ہم تمہارے لیٔے کیا کر سکتے ہیں، کیا ہم بادشاہ سے یا فَوج کے سپہ سالار سے کسی مسئلہ میں تمہاری سِفارش کریں؟‘ "
اُس عورت نے جَواب دیا، "نہیں، میں تو اَپنے ہی لوگوں کے درمیان رہتی ہُوں۔"
14 تَب الِیشعؔ نے گیحازیؔ سے دریافت کیا، "اِس عورت کے لیٔے کیا کیا جا سکتا ہے،"
گیحازیؔ نے جَواب دیا، "حقیقت تو یہ ہے کہ یہ عورت بے اَولاد ہے اَور اُس کا خَاوند بھی بُوڑھا ہو چُکاہے۔"
15 الِیشعؔ نے کہا، "اُسے یہاں بُلاؤ۔" لہٰذا اُس نے اُسے بُلایا اَور وہ آکر دروازہ پر کھڑی ہو گئی۔ 16 الِیشعؔ نے اُس سے کہا، "اگلے سال اِسی موسم بہار میں اِسی وقت تمہاری گود میں ایک بیٹا ہوگا۔"
عورت بولی، "نہیں، میرے آقا، اَے مَرد خُدا، اَپنی خادِمہ کو جھُوٹی تسلّی نہ دیں۔"
17 مگر وہ عورت حاملہ ہُوئی اَور اگلے سال اُسی موسم بہار میں، عَین وقت پر اُس نے ایک بیٹے کو پیدا کیا، جَیسا الِیشعؔ نے اُس سے فرمایا تھا۔
18 جَب وہ لڑکا بڑا ہُوا تو ایک دِن وہ نِکلا اَور اَپنے باپ کے پاس کھیت کی کٹائی کرنے والوں کے درمیان چلا گیا۔ 19 یَکایک اُس نے اَپنے باپ سے شکایت کی، "ہائے میرا سَر، میرا سَر!"
اُس کے باپ نے اَپنے ایک خادِم سے کہا، "اُسے اُٹھاکر اُس کی ماں کے پاس لے جاؤ۔" 20 اَور جَب خادِم اُسے اُٹھاکر اُس کی ماں کے پاس لے گئے تو دوپہر تک وہ لڑکا اَپنی ماں کی گود میں بیٹھا رہا اَور پھر مَر گیا۔ 21 وہ اُوپر گئی اَور اُسے مَرد خُدا کے پلنگ پر لِٹا دیا اَور خُود دروازہ بند کرکے باہر نکل گئی۔
22 اُس نے اَپنے خَاوند کو بُلایا اَور کہا، "مہربانی سے ایک نوکر اَور ایک گدھا میرے پاس بھیج دو تاکہ میں فوراً مَرد خُدا کے پاس جا سکوں اَور واپس آ سکوں۔"
23 اُس نے دریافت کیا، "تُم آج ہی اُن کے پاس کیوں جانا چاہتی ہو، آج نہ تو نئے چاند کا دِن ہے اَور نہ ہی سَبت۔"
اُس نے جَواب دیا، "سَب کچھ ٹھیک ہے۔"
24 اَور اُس نے گدھے پر زین کس کر اَپنے خادِم کو حُکم دیا، "گدھے کو تیز ہانکو، اَور جَب تک میں نہ کہُوں سواری کی رفتار دھیمی نہ ہونے پایٔے۔" 25 چنانچہ وہ روانہ ہُوئی اَور کوہِ کرمِلؔ پر مَرد خُدا کے نزدیک پہُنچی۔
جَب مَرد خُدا نے اُسے دُور سے اَپنی طرف آتے دیکھا تو، اُنہُوں نے اَپنے خادِم گیحازیؔ سے کہا، "دیکھو، وہ شُونمیت ہے! 26 فوراً اُس سے مُلاقات کرنے کے لیٔے دَوڑو اَور اُس سے دریافت کرو، ’کیا سَب خیریت ہے، کیا تمہارا شوہر خیریت سے ہے، اَور کیا تمہارا بیٹا خیریت سے ہے؟‘ "
اُس عورت نے جَواب دیا، "سَب خیریت ہے۔"
27 تَب جُوں ہی وہ پہاڑ پر مَرد خُدا کے پاس پہُنچی تو اُس نے اُن کے پاؤں پکڑ لیٔے۔ جَب گیحازیؔ اُسے ہٹانے کے لیٔے آگے بڑھا، تَب مَرد خُدا نے اُس سے فرمایا، "اِسے چھوڑ دو! کیونکہ وہ بہت غمگین ہے، مگر یَاہوِہ نے یہ بات مُجھ سے غیب ہی رکھی اَور مُجھ پر ظاہر نہیں کی۔"
28 تَب وہ عورت کہنے لگی، "میرے آقا! کیا مَیں نے آپ سے بیٹے کی مِنّت کی تھی، کیا مَیں نے پہلے آپ سے نہیں کہاتھا، ’میری اُمّید کو نہ بڑھائیں؟‘ "
29 تَب الِیشعؔ نے گیحازیؔ کو حُکم دیا، "اَپنی کمر کس لے اَور میرا عصا ہاتھ میں لے کر دَوڑتے ہویٔے جاؤ۔ اگر کویٔی تُمہیں راستہ میں ملے تو اُس سے حال چال جاننے کے لیٔے جَواب نہ دینا اَور اگر کویٔی تُمہیں سلام کرے تو جَواب نہ دینا۔ تُم فوراً جا کر میرا عصا اُس لڑکے کے چہرے پر رکھ دینا۔"
30 لیکن لڑکے کی ماں نے الِیشعؔ سے کہا، "یَاہوِہ کی حیات کی قَسم اَور آپ کے جان کی قَسم، مَیں آپ کے بغیر گھر واپس نہیں جاؤں گی۔" تَب الِیشعؔ اُٹھ کر اُس عورت کے ساتھ روانہ ہویٔے۔
31 اَور گیحازیؔ نے اُن سے پہلے پہُنچ کر اُس لڑکے کے مُنہ پر عصا کو رکھ دیا، مگر وہاں نہ تو کویٔی آواز سُنایٔی دی اَور نہ ہی لڑکے کے اَندر زندہ ہونے کی کویٔی نِشانی دِکھائی دی۔ لہٰذا گیحازیؔ نے واپس لَوٹ کر الِیشعؔ کو خبر دی، "لڑکا زندہ نہیں ہُوا۔"
32 جَب الِیشعؔ اُس گھر میں داخل ہویٔے تو لڑکا اُس پلنگ پر مُردہ پڑا ہُوا تھا۔ 33 تَب الِیشعؔ دونوں کو باہر چھوڑکر اکیلے اَندر گیٔے اَور دروازہ بند کرکے یَاہوِہ سے دعا کی۔ 34 پھر وہ پلنگ پر چڑھ کر لڑکے پر لیٹ گیٔے اَور اُس کے مُنہ پر اَپنا مُنہ اَور اُس کی آنکھوں پر اَپنی آنکھیں اَور اُس کے ہاتھوں پر اَپنے ہاتھ رکھ دئیے۔ اَور جَب وہ اُس لڑکے کے اُوپر لیٹ گیٔے، تَب لڑکے کا جِسم گرم ہونے لگا۔ 35 پھر الِیشعؔ اُٹھے اَور کمرہ کے اَندر ٹہلنے لگے پھر دوبارہ پلنگ پر چڑھ کر اُس لڑکے کے اُوپر لیٹ گیٔے۔ تَب اُس لڑکے نے سات بار چھینکا اَور اَپنی آنکھیں کھول دیں۔
36 الِیشعؔ نے گیحازیؔ کو بُلاکر حُکم دیا، "اُس شُونمیت عورت کو بُلاؤ۔" تَب گیحازیؔ نے اُسے بُلایا اَور جَب وہ کمرے کے اَندر آئی تو الِیشعؔ نے اُس عورت سے کہا، "اَپنے بیٹے کو اُٹھالو۔" 37 وہ اَندر آئی اَور الِیشعؔ کے قدموں پر گِر کر سَجدہ کیا۔ اَور پھر اَپنے بیٹے کو اُٹھاکر باہر چلی گئی۔