30 فِلِپُّسؔ دَوڑکر رتھ کے نزدیک پہُنچے اَور رتھ سوار کو یَشعیاہ نبی کا صحیفہ پڑھتے ہویٔے سُنا۔ فِلِپُّسؔ نے اُس سے پُوچھا، "کیا جو کچھ تو پڑھ رہاہے اُسے سمجھتا بھی ہے؟"
31 اُس نے مِنّت کرکے کہا، "میں کیسے سمجھ سَکتا ہوں، جَب تک کہ کویٔی مُجھ سے اِس کی وضاحت نہ کرے؟" تَب اُس نے فِلِپُّسؔ کو مدعو کیا کہ اُس کے ساتھ رتھ میں آبیٹھیں۔
32 کِتاب مُقدّس میں سے جو خوجہ پڑھ رہاتھا یہ تھا:
"لوگ اُنہیں بھیڑ کی طرح ذبح کرنے کے لیٔے لے گیٔے،
اَور جِس طرح برّہ اَپنے بال کترنے والوں کے سامنے بے زبان ہوتاہے،
اُسی طرح اُنہُوں نے بھی اَپنا مُنہ نہیں کھولا۔