یُوسیفؔ کا اَپنے آپ کو ظاہر کرنا
1 تَب یُوسیفؔ اَپنے سارے خدمت گاروں کے سامنے خُود کو ضَبط نہ کر سکے اَور یُوسیفؔ نے چِلّاکر کہا، "سَب کو یہاں سے نکال دو!" تَب یُوسیفؔ نے اَپنے آپ کو اَپنے بھائیوں پر ظاہر کیا اَور اُس وقت اُن کے خدمت گاروں میں سے کویٔی یُوسیفؔ کے پاس نہ تھا۔ 2 اَور وہ اِس قدر زور زور سے روئے کہ مِصریوں نے اُن کے رونے کی آواز سُنی اَور فَرعوہؔ کے گھر والوں کو بھی اِس بات کی خبر ہو گئی۔
3 یُوسیفؔ نے اَپنے بھائیوں سے کہا، "میں یُوسیفؔ ہُوں! کیا میرے باپ اَب تک زندہ ہیں؟" لیکن اُن کے بھائیوں کے مُنہ سے جَواب میں ایک لفظ بھی نہ نِکلا کیونکہ وہ یُوسیفؔ کے سامنے خوفزدہ ہو گئے تھے۔