14 "اَچھّا گلّہ بان میں ہُوں؛ میری بھیڑیں مُجھے جانتی ہیں اَور مَیں بھیڑوں کے لیٔے اَپنی جان دیتا ہُوں۔ 15 جَیسے باپ مُجھے جانتا ہے، وَیسے ہی میں باپ کو جانتا ہُوں۔ میں اَپنی بھیڑوں کے لیٔے اَپنی جان نثار کر دیتا ہُوں۔ 16 میری اَور بھیڑیں بھی ہیں جو اِس گلّہ میں شامل نہیں۔ مُجھے لازِم ہے کہ میں اُنہیں بھی لے آؤں۔ وہ میری آواز سُنیں گی اَور پھر ایک ہی گلّہ اَور ایک ہی گلّہ بان ہوگا۔