21 کیونکہ جِس طرح باپ مُردوں کو زندہ کرتا ہے اَور زندگی بخشتا ہے اُسی طرح بیٹا بھی جسے چاہتاہے اُسے زندگی بخشتا ہے۔ 22 باپ کسی کی عدالت نہیں کرتا بَلکہ اُس نے عدالت کا سارا اِختیار بیٹے کو سونپ دیا ہے، 23 تاکہ سَب لوگ بیٹے کو بھی وُہی عزّت دیں جو وہ باپ کو دیتے ہیں۔ جو بیٹے کی عزّت نہیں کرتا وہ باپ کی بھی جِس نے بیٹے کو بھیجا ہے، عزّت نہیں کرتا۔
24 "میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں کہ جو کویٔی میرا کلام سُن کر میرے بھیجنے والے پر ایمان لاتا ہے، اَبدی زندگی اُسی کی ہے اَور اُس پر سزا کا حُکم نہیں ہوتا بَلکہ وہ موت سے بچ کر زندگی میں داخل ہو گیا۔" 25 میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ وہ وقت آ رہاہے بَلکہ آ چُکاہے جَب مُردے خُدا کے بیٹے کی آواز سُنیں گے اَور اُسے سُن کر زندگی حاصل کریں گے۔ 26 کیونکہ جَیسے باپ اَپنے آپ میں زندگی رکھتا ہے وَیسے ہی باپ نے بیٹے کو بھی اَپنے میں زندگی رکھنے کا شرف بخشا ہے۔ 27 بَلکہ باپ نے عدالت کرنے کا اِختیار بیٹے کو بخش دیا ہے کیونکہ وہ اِبن آدمؔ ہیں۔
28 "اِن باتوں پر تعجُّب نہ کرو، کیونکہ وہ وقت آ رہاہے جَب سارے مُردے اُس کی آواز سُنیں گے اَور قبروں سے باہر نکل آئیں گے 29 جنہوں نے نیکی کی ہے وہ زندگی کی قیامت5:29 قیامت یعنی جَب لوگ مُردوں میں سے جی اُٹھیں گے اَور خُدا اُن کا اِنصاف کرےگا۔ کے لیٔے جایٔیں گے اَور جنہوں نے بدی کی ہے وہ قیامت کی سزا پائیں گے۔ 30 میں اَپنے آپ کُچھ نہیں کر سَکتا۔ جَیسا سُنتا ہُوں فیصلہ دیتا ہُوں اَور میرا فیصلہ برحق ہوتاہے کیونکہ مَیں اَپنی مرضی کا نہیں بَلکہ اَپنے بھیجنے والے کی مرضی کا طالب ہُوں۔
31 "اگر مَیں اَپنی گواہی خُود ہی دُوں تو میری گواہی برحق نہیں۔