حُضُور یِسوعؔ کی یروشلیمؔ میں آمد
28 یہ باتیں کہہ کر یِسوعؔ یروشلیمؔ پہُنچنے کے لیٔے آگے بڑھنے لگے۔ 29 جَب وہ بیت فگے اَور بیت عنیّاہ کے پاس پہُنچے جو کوہِ زَیتُون پر آباد ہَیں، تو یِسوعؔ نے اَپنے دو شاگردوں کو یہ کہہ کر آگے بھیجا، 30 "سامنے والے گاؤں میں جاؤ، وہاں داخل ہوتے ہی تُم ایک گدھی کا جَوان بچّہ بندھا ہُوا پاؤگے، جِس پر اَب تک کسی نے سواری نہیں کی ہے۔ اُسے کھول کر یہاں لے آؤ۔ 31 اَور اگر کویٔی تُم سے پُوچھے، ’اِسے کیوں کھول رہے ہو تو کہنا کہ خُداوؔند کو اِس کی ضروُرت ہے۔‘ "
32 آگے بھیجے جانے والوں نے جا کر جَیسا یِسوعؔ نے اُن سے کہاتھا وَیسا ہی پایا۔ 33 جَب وہ گدھی کے بچّے کو کھول رہے تھے، تو اُس کے مالکوں نے اُن سے پُوچھا، "اِس بچّے کو کیوں کھول رہے ہو؟"
34 اُنہُوں نے جَواب دیا، "خُداوؔند کو اِس کی ضروُرت ہے۔"
35 پس وہ اُسے یِسوعؔ کے پاس لایٔے اَور اُس گدھے کے بچّے پر اَپنے کپڑے ڈال کر یِسوعؔ کو اُس پر سوار کر دیا۔ 36 جَب یِسوعؔ جا رہے تھے تو لوگوں نے راستے میں اَپنے کپڑے بچھا دئیے۔
37 جَب وہ اُس مقام کے نزدیک پہُنچے جہاں سڑک کوہِ زَیتُون سے نیچے کی طرف جاتی ہے، تو شاگردوں کی ساری جماعت اُن سارے معجزوں کی وجہ سے جو اُنہُوں نے دیکھے تھے، خُوش ہوکر اُونچی آواز سے خُدا کی تمجید یہ کہکر کرنے لگی:
38 "مُبارک ہے وہ بادشاہ جو خُداوؔند کے نام سے آتا ہے!"19:38 زبُور 118:26
"آسمان پر صُلح اَور عالمِ بالا پر جلال!"
39 ہُجوم میں بعض فرِیسی بھی تھے، وہ یِسوعؔ سے کہنے لگے، "اَے اُستاد، اَپنے شاگردوں کو ڈانٹئے کہ وہ چُپ رہیں!"
40 یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، "میں تُم سے کہتا ہُوں کہ اگر یہ خاموش ہو جایٔیں گے تو پتّھر چِلّانے لگیں گے۔"