بَارہ سال کی عمر میں حُضُور یِسوعؔ بیت المُقدّس میں
41 اُس کے والدین ہر سال عیدِفسح2:41 عیدِفسح یعنی یہُودیوں کی سَب سے بڑی عید، اِس دِن برّہ ذبح کیا جاتا تھا۔ کے لیٔے یروشلیمؔ جایا کرتے تھے۔ 42 جَب وہ بَارہ بَرس کا ہو گیا تو وہ عید کے دستور کے مُطابق یروشلیمؔ گیٔے۔ 43 جَب عید کے دِن گزر گئے تو اُس کے والدین واپس آئے لیکن لڑکا یِسوعؔ یروشلیمؔ میں ہی ٹھہرگیا لیکن اُس کے والدین کو اِس بات کی خبر نہ تھی۔ 44 اُن کا خیال تھا کہ وہ قافلہ کے ساتھ ہے۔ لہٰذا وہ ایک مَنزل آگے نکل گیٔے اَور اُسے اَپنے رشتہ داروں اَور دوستوں میں ڈھونڈنے لگے۔ 45 جَب وہ اُنہیں نہیں مِلا تو اُس کی جُستُجو میں یروشلیمؔ واپس آئے۔ 46 تین دِن کے بعد اُنہُوں نے اُسے بیت المُقدّس کے اَندر اُستادوں کے درمیان بیٹھے ہُوئے اُن کی سُنتے اَور اُن سے سوال کرتے پایا۔ 47 اَورجو لوگ اُن کی باتیں سُن رہے تھے وہ اُن کی ذہانت اَور اُس کے جَوابوں پر حیرت زدہ تھے۔ 48 جَب اُن کے والدین نے اُنہیں دیکھا تو اُنہیں حیرت ہویٔی۔ اُن کی ماں نے اُن سے پُوچھا، "بیٹا، تُونے ہم سے اَیسا سلُوک کیوں کیا؟ تیرے اَبّا اَور مَیں تُجھے ڈھونڈتے ہویٔے پریشان ہو گئے تھے۔"
49 یِسوعؔ نے پُوچھا، "آپ لوگ مُجھے کیوں ڈھونڈتے پھرتے تھے؟ کیا آپ لوگوں کو مَعلُوم نہ تھا کہ مُجھے اَپنے باپ کے گھر میں ہونا ضروُری ہے؟" 50 لیکن وہ سمجھ نہ پایٔے کہ وہ اُن سے کیا کہہ رہاہے۔
51 تَب وہ اُن کے ساتھ روانہ ہوکر ناصرتؔ میں آیا اَور اُن کے تابع رہا اَور اُس کی ماں نے یہ ساری باتیں اَپنے دِل میں رکھیں۔ 52 اَور یِسوعؔ حِکمت اَور قد وقامت میں بڑھتے اَور خُدا اَور اِنسان کی نظر میں مقبُول ہوتے چلے گیٔے۔