اِماؤسؔ کی راہ پر
13 پھر اَیسا ہُوا کہ اُن میں سے دو شاگرد اُسی دِن اِماؤسؔ نام کے ایک گاؤں کی طرف جا رہے تھے جو یروشلیمؔ سے گیارہ کِلو مِیٹر کی دُوری پر تھا 14 وہ آپَس میں اُن واقعات کے بارے میں باتیں کرتے جا رہے تھے جو ہویٔیں تھیں۔ 15 جَب وہ باتوں میں مشغُول تھے اَور آپَس میں بحث کر رہے تھے، تو یِسوعؔ خُود ہی نزدیک آکر اُن کے ساتھ ساتھ چلنے لگے؛ 16 لیکن وہ حُضُور کو پہچان نہ پایٔے کیونکہ اُن کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہُوا تھا۔
17 یِسوعؔ نے اُن سے پُوچھا، "تُم لوگ آپَس میں کیا بحث کرتے ہویٔے جا رہے ہو؟"
وہ یہ سُن کر خاموش مایوس سا چہرا لٹکایٔے کھڑے ہو گیٔے۔ 18 تَب اُن میں سے ایک جِس کا نام کِلیُپاسؔ تھا، آپ سے پُوچھا، "کیا یروشلیمؔ میں اکیلا تُو ہی اجنبی ہے جو یہ بھی نہیں جانتا کہ اِن دِنوں شہر میں کیا کیا ہُواہے؟"
19 آپ نے اُن سے پُوچھا، "کیا ہُواہے؟"
اُنہُوں نے جَواب دیا، "یِسوعؔ ناصری کا واقعہ، وہ ایک نبی تھے۔ جنہیں کام اَور کلام کے باعث خُدا کی نظر میں اَور سارے لوگوں کے نزدیک بڑی قُدرت حاصل تھی۔ 20 اَور ہمارے اہم کاہِنوں اَور حاکموں نے حُضُور کو قتل کرنے کا فرمان جاری کرایا، اَور حُضُور کو صلیب پر مصلُوب کر دیا؛ 21 لیکن ہمیں تُو یہ اُمّید تھی کہ یہی وہ شخص ہے جو اِسرائیلؔ کو مخلصی عطا کرنے والا ہے اَور اِس کے علاوہ اِن واقعات کو ہُوئے آج تیسرا دِن ہے۔ 22 اِس کے علاوہ، ہمارے گِروہ کی چند عورتوں نے ہمیں حیرت میں ڈال دیا ہے جو آج صُبح سویرے اُن کی قبر پر گئی تھیں، 23 لیکن اُنہیں یِسوعؔ کی لاش نہ مِلی۔ اُنہُوں نے لَوٹ کر ہمیں بتایا کہ اُنہُوں نے فرشتوں کو دیکھا اَور فرشتوں نے اُنہیں بتایا کہ یِسوعؔ زندہ ہو گئے ہیں۔ 24 تَب ہمارے بعض ساتھی بھی قبر پر گیٔے اَور جَیسا عورتوں نے کہاتھا اُسے وَیسا ہی پایا۔ لیکن اُنہُوں نے بھی یِسوعؔ کو نہیں دیکھا۔"
25 یِسوعؔ نے اُن سے کہا، "تُم کتنے نادان، اَور نبیوں کی بتایٔی ہویٔی باتوں کو یقین کرنے میں کتنے سُست ہو! 26 کیا المسیح کے لیٔے ضروُری نہ تھا کہ وہ اَذیتّوں کو برداشت کرتا اَور پھر اَپنے جلال میں داخل ہوتا؟" 27 اَور آپ نے حضرت مَوشہ سے لے کر سارے نبیوں کی باتیں جو آپ کے بارے میں کِتاب مُقدّس میں درج تھیں، اُنہیں سمجھا دیں۔
28 اِتنے میں وہ اُس گاؤں کے نزدیک پہُنچے جہاں اُنہیں جانا تھا، لیکن یِسوعؔ کے چلنے کے ڈھنگ سے اَیسا مَعلُوم ہُوا گویا وہ اَور آگے جانا چاہتے ہیں۔ 29 لیکن اُنہُوں نے حُضُور کو یہ کہہ کر مجبُور کیا، "کہ ہمارے پاس رُک جایٔیں، کیونکہ دِن تقریباً ڈھل چُکاہے؛ اَور شام ہونے والی ہے؛ پس وہ اُن کے ساتھ ٹھہرنے کے لیٔے اَندر چلے گیٔے۔"
30 جَب وہ اُن کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھے، تو آپ نے روٹی لی، اَور شُکر کرکے توڑا، اَور اُنہیں دینے لگے۔ 31 تَب اُن کی آنکھیں کھُل گئیں اَور اُنہُوں نے حُضُور کو پہچان لیا، اَور یِسوعؔ اُن کی نظروں سے غائب ہو گیٔے۔ 32 اُنہُوں نے آپَس میں کہا، "کیا ہمارے دِل جوش سے نہیں بھر گیٔے تھے جَب وہ راستے میں ہم سے باتیں کر رہے تھے اَور ہمیں کِتاب مُقدّس سے باتیں سمجھا رہے تھے۔"
33 تَب وہ اُسی گھڑی اُٹھے اَور یروشلیمؔ واپس آئے۔ جہاں اُنہُوں نے گیارہ رسولوں اَور اُن کے ساتھیوں کو ایک جگہ اِکٹھّے پایا، 34 وہ کہہ رہے تھے، "خُداوؔند سچ مُچ مُردوں میں سے جی اُٹھے ہیں! اَور شمعُونؔ کو دِکھائی دئیے ہیں۔" 35 تَب اُن دونوں نے راستے کی ساری باتیں بَیان کیں، اَور یہ بھی کہ اُنہُوں نے کس طرح یِسوعؔ کو روٹی توڑتے وقت پہچانا تھا۔