31 یِسوعؔ نے خِطاب جاری رکھتے ہُوئے فرمایا، "میں اِس زمانہ کے لوگوں کی کس سے تشبیہ دُوں اَور اُنہیں کس کی مانِند کہُوں؟ 32 وہ اُن لڑکوں کی مانِند ہیں جو بازاروں میں بیٹھے ہُوئے اَپنے ہمجولیوں کو پُکار کر کہتے ہیں:
" ’ہم نے تمہارے لیٔے بانسری بجائی،
اَور تُم نہ ناچے؛
ہم نے مرثیہ پڑھا،
اَور تَب بھی تُم نہ رُوئے۔‘
33 حضرت یُوحنّا پاک غُسل دینے والا نہ تو روٹی کھاتا نہ انگوری شِیرہ پیتا آیا، اَور تُم کہتے ہو، ’اُس میں بدرُوح ہے۔‘ 34 اِبن آدمؔ کھاتے پیتے آیا، اَور تُم کہتے ہو کہ دیکھو، ’یہ کھاؤ اَور شرابی آدمی، محصُول لینے والوں اَور گُنہگاروں کا یار ہے۔‘ 35 مگر حِکمت کو برحق ثابت اُس پر عَمل کرنے والے ہی کرتے ہیں۔"
گُنہگار عورت کا حُضُور یِسوعؔ کا مَسح کرنا
36 کسی فرِیسی نے یِسوعؔ سے مِنّت کی کہ میرے یہاں کھانا کھایٔیں اَور وہ اُس فرِیسی کے گھرجاکر دسترخوان پر بیٹھ گیٔے۔ 37 ایک بدچلن عورت جو اُسی شہر کی تھی، یہ سُن کر کہ یِسوعؔ اُس فرِیسی کے گھر میں کھانا کھانے بیٹھے ہیں، سنگِ مرمر کے عِطردان میں عِطر لائی۔