49 وہ یہ کہنے بھی نہ پایٔے تھے کہ یہُودی عبادت گاہ کے رہنما یائیرؔ کے گھر سے کسی نے آکر کہا، "تیری بیٹی مَر چُکی ہے، اَب اُستاد کو مزید تکلیف نہ دیں۔"
50 لیکن یہ سُن کر یِسوعؔ نے یائیرؔ سے کہا، "ڈر مت؛ صِرف ایمان رکھ، وہ بچ جائے گی۔"
51 جَب وہ یائیرؔ کے گھر میں داخل ہویٔے تو یِسوعؔ نے پطرس، یُوحنّا اَور یعقوب اَور لڑکی کے والدین کے سِوا کسی اَور کو اَندر نہ جانے دیا۔ 52 سَب لوگ لڑکی کے لیٔے رو پیٹ رہے تھے۔ لیکن یِسوعؔ نے اُن سے کہا، "رونا پیٹنا بند کرو، لڑکی مَری نہیں بَلکہ سَو رہی ہے۔"
53 اِس پر وہ یِسوعؔ کی ہنسی اُڑانے لگے کیونکہ اُنہیں مَعلُوم تھا کہ لڑکی مَر چُکی ہے۔ 54 لیکن حُضُور نے لڑکی کا ہاتھ پکڑکر کہا، "میری بیٹی اُٹھ!" 55 اُس کی رُوح لَوٹ آئی اَور وہ فوراً اُٹھ بیٹھی اَور اُنہُوں نے حُکم دیا کہ لڑکی کو کُچھ کھانے کو دیا جائے۔ 56 اُس لڑکی کے والدین حیران رہ گیٔے۔ یِسوعؔ نے اُنہیں تاکید کی کہ جو کُچھ ہُواہے اُس کا ذِکر کسی سے نہ کرنا۔