حُضُور یِسوعؔ کا دفن کیاجانا
42 چونکہ شام ہو گئی تھی (اَور وہ سَبت سے پہلا یعنی تیّاری کا دِن تھا)۔ 43 ارِمَتِیاؔہ کا شَہری یُوسیفؔ نامی ایک شخص آیا جو عدالتِ عالیہ کا ایک مُعزّز رُکن تھا اَور خُود بھی خُدا کی بادشاہی کا مُنتظر تھا۔ وہ بڑی دِلیری سے پِیلاطُسؔ کے پاس گیا اَور یِسوعؔ کی لاش مانگنے لگا۔ 44 جَب پِیلاطُسؔ کو مَعلُوم ہُوا کہ حُضُور مَر چُکے ہیں تو اُسے تعجُّب ہُوا۔ اَور اُس نے اَپنے فَوجی کپتان کو بُلاکر، پُوچھا کہ یِسوعؔ کو مَرے ہویٔے کتنی دیر ہو چُکی ہے۔ 45 جَب پِیلاطُسؔ کو اَپنے فَوجی کپتان سے حقیقت کا پتا چلا تو اُس نے حُکم دیا کہ حُضُور کی لاش یُوسیفؔ کو دے دی جائے۔ 46 یُوسیفؔ نے ایک مہین سُوتی چادر خریدی، اَور یِسوعؔ کی لاش کو اُتار کر اُس چادر میں کفنایا، اَور لے جا کر ایک قبر میں رکھ دیا جو چٹّان میں، کھودی گئی تھی اَور اُس قبر کے دروازہ پر ایک بڑا سا پتّھر لُڑھکا دیا۔