35 آپ ابھی وعظ دے ہی رہے تھے، یہُودی عبادت گاہ کے رہنما یائیرؔ کے گھر سے کُچھ لوگ آ پہُنچے، رہنما نے خبر دی۔ "آپ کی بیٹی مَر چُکی ہے، اَب اُستاد کو مزید تکلیف نہ دیجئے؟"
36 یِسوعؔ نے یہ سُن کر، یہُودی عبادت گاہ کے رہنما سے کہا، "خوف نہ کرو؛ صِرف ایمان رکھو۔"
37 آپ نے پطرس، یعقوب اَور یعقوب کے بھایٔی یُوحنّا کے علاوہ کسی اَور کو اَپنے ساتھ نہ آنے دیا۔ 38 جِس وقت وہ یہُودی عبادت گاہ کے رہنما کے گھر پہُنچے، تو آپ نے دیکھا، وہاں بڑا کہرام مچا ہُواہے اَور لوگ بہت رو پیٹ رہے ہیں۔ 39 جَب وہ اَندر پہُنچے تو اُن سے کہا، "تُم لوگوں نے کیوں اِس قدر رونا پیٹنا مچا رکھا ہے؟ بچّی مَری نہیں بَلکہ سو رہی ہے۔" 40 اِس پر وہ آپ کی ہنسی اُڑانے لگے۔
لیکن آپ نے اُن سَب کو وہاں سے باہر نکلوادِیا، اَور بچّی کے ماں باپ اَور اَپنے شاگردوں کو لے کر بچّی کے پاس گیٔے۔ 41 وہاں بچّی کا ہاتھ پکڑکر آپ نے اُس سے کہا، "تلِیتا قَومی!" (جِس کے معنی ہیں "اَے بچّی، میں تُم سے کہتا ہُوں، اُٹھو!") 42 بچّی ایک دَم اُٹھی اَور چلنے پھرنے لگی (یہ لڑکی بَارہ بَرس کی تھی)۔ یہ دیکھ کر لوگ حیرت زدہ رہ گیٔے۔ 43 یِسوعؔ نے اُنہیں سخت تاکید کی کہ اِس کی خبر کسی کو نہ ہونے پایٔے، اَور فرمایا کہ لڑکی کو کُچھ کھانے کو دیا جائے۔