22 اِس موقع پر ہیرودِیاسؔ کی بیٹی نے محفل میں آکر رقص کیا، اَور ہیرودیسؔ بادشاہ اَور اُس کے مہمانوں کو اِس قدر خُوش کر دیا کہ بادشاہ اُس سے مُخاطِب ہوکر کہنے لگا۔
تو جو چاہے مُجھ سے مانگ لے، "مَیں تُجھے دُوں گا۔" 23 بَلکہ اُس نے قَسم کھا کر کہا، "جو کُچھ تو مُجھ سے مانگے گی، مَیں تُجھے دُوں گا چاہے وہ میری آدھی سلطنت ہی کیوں نہ ہو۔"
24 لڑکی نے باہر جا کر اَپنی ماں، سے پُوچھا، "میں کیا مانگوں؟"
تَب اُس کی ماں نے جَواب دیا، "یُوحنّا پاک غُسل دینے والے کا سَر۔"
25 لڑکی فوراً بادشاہ کے پاس واپس آئی اَور عرض کرنے لگی: "مُجھے ابھی ایک تھال میں یُوحنّا پاک غُسل دینے والے کا سَر چاہیے۔"
26 بادشاہ کو بےحد افسوس ہُوا، لیکن وہ مہمانوں کے سامنے قَسم دے چُکاتھا، اِس لیٔے بادشاہ لڑکی سے اِنکار نہ کر سَکا۔ 27 چنانچہ بادشاہ نے اُسی وقت حِفاظتی دستے کے ایک سپاہی کو حُکم دیا کہ وہ جائے، اَور یُوحنّا کا سَر لے آئے۔ سپاہی نے قَیدخانہ میں جا کر، حضرت یُوحنّا کا سَر تن سے جُدا کیا، 28 اَور اُسے ایک تھال میں رکھ کر لایا اَور لڑکی کے حوالہ کر دیا، اَور لڑکی نے اُسے لے جا کر اَپنی ماں کُودے دیا۔