17 ہُجوم میں سے ایک نے جَواب دیا، "اَے اُستاد محترم، میں اَپنے بیٹے کو آپ کے پاس لایاتھا، کیونکہ اُس میں بدرُوح ہے جِس نے اُسے گُونگا بنا دیا ہے۔ 18 جَب بھی بدرُوح اُسے پکڑتی ہے، زمین پر پٹک دیتی ہے۔ لڑکے کے مُنہ سے جھاگ نکلنے لگتا ہے، وہ دانت پیستا ہے۔ اَور اُس کا جِسم اکڑ جاتا ہے۔ مَیں نے آپ کے شاگردوں سے کہاتھا کہ وہ بدرُوح کو نکال دیں، لیکن وہ نکال نہ سکے۔"
19 یِسوعؔ نے فرمایا، "اَے بےاِعتقاد پُشت، میں کب تک تمہارے ساتھ تمہاری برداشت کرتا رہُوں گا؟ مَیں تمہارے ساتھ کب تک چلُوں گا؟ لڑکے کو میرے پاس لاؤ۔"
20 چنانچہ وہ اُسے یِسوعؔ کے پاس لایٔے۔ جُوں ہی بدرُوح نے یِسوعؔ کو دیکھا، اُس نے لڑکے کو مروڑا۔ اَور وہ زمین پر گِر پڑا اَور لَوٹنے لگا، اَور اُس کے مُنہ سے جھاگ نکلنے لگے۔
21 یِسوعؔ نے لڑکے باپ سے پُوچھا، "یہ تکلیف اِسے کب سے ہے؟"
اُس نے جَواب دیا، "بچپن سے ہے۔" 22 "بدرُوح کیٔی دفعہ اِسے آگ اَور پانی میں گرا کر مار ڈالنے کی کوشش کر چُکی ہے۔ اگر آپ سے کُچھ ہو سکے، ہم پر ترس کھائیے اَور ہماری مدد کیجئے۔"
23 " ’اگر ہو سکے تو‘؟" یِسوعؔ نے کہا۔ "جو شخص ایمان رکھتا ہے اُس کے لیٔے سَب کُچھ ممکن ہو سَکتا ہے۔"
24 فوراً ہی لڑکے کے باپ نے چیخ کر کہا، "میں ایمان لاتا ہُوں؛ آپ میری بےاِعتقادی پر قابُو پانے میں میری مدد کیجئے!"
25 جَب یِسوعؔ نے دیکھا کہ لوگ دَوڑے چلے آ رہے ہیں اَور بھیڑ بڑھتی جاتی ہے، آپ نے بدرُوح کو جِھڑکا۔ اَور ڈانٹ کر کہا، "اَے گُونگی اَور بہری رُوح،" مَیں تُجھے حُکم دیتا ہُوں، "اِس لڑکے میں سے نکل جا اَور اِس میں پھر کبھی داخل نہ ہونا۔"
26 بدرُوح نے چیخ ماری، اَور لڑکے کو بُری طرح مروڑ کر اُس میں سے باہر نکل گئی۔ لڑکا مُردہ سا ہوکر زمین پر گِر پڑا یہاں تک کہ لوگ کہنے لگے، "وہ مَر چُکاہے۔" 27 لیکن یِسوعؔ نے لڑکے کا ہاتھ پکڑکر اُسے اُٹھایا، اَور وہ اُٹھ کھڑا ہُوا۔