شادی اَور قیامت
23 اُسی دِن صدُوقی جو قیامت کے مُنکر ہیں، یِسوعؔ کے پاس آئے۔ 24 اَور آپ سے یہ سوال کیا، "اَے اُستاد محترم، حضرت مَوشہ نے فرمایاہے کہ اگر کویٔی آدمی بے اَولاد مَر جائے تو اُس کا بھایٔی اُس کی بِیوہ سے شادی کر لے تاکہ اَپنے بھایٔی کے لیٔے نَسل پیدا کر سکے۔ 25 ہمارے یہاں سات بھایٔی تھے۔ پہلے نے شادی کی اَور بے اَولاد مَر گیا، وہ اَپنی بیوی اَپنے بھایٔی کے لیٔے چھوڑ گیا تاکہ وہ اُس کی بیوی بَن جائے۔ 26 یہی واقعہ اُس کے دُوسرے اَور تیسرے اَور ساتویں بھایٔی تک ہوتا رہا۔ 27 اَور آخِرکار، وہ عورت بھی مَر گئی۔ 28 اَب یہ بتائیں کہ قیامت کے دِن وہ اُن ساتوں میں سے کِس کی بیوی ہوگی کیونکہ اُن سَب نے اُس سے شادی کی تھی؟"
29 یِسوعؔ نے جَواب دیا، "تُم گُمراہ ہو گئے ہو کہ تُم نہ تو کِتاب مُقدّس کو ہی جانتے ہو اَور نہ ہی خُدا کی قُدرت کو۔ 30 کیونکہ جَب قیامت ہوگی تو لوگ شادی نہیں کریں گے اَور نہ ہی نکاح میں دئیے جایٔیں گے؛ لیکن آسمان پر فرشتوں کی مانِند ہوں گے۔ 31 اَور جہاں تک قیامت یعنی مُردوں کے جی اُٹھنے کا سوال ہے، تو کیا تُم نے وہ جو خُدا نے تُم سے فرمایاہے نہیں پڑھا کہ 32 ’میں اَبراہامؔ، اِصحاقؔ اَور یعقوب کا خُدا ہُوں؟‘22:32 خُرو 3:6 یعنی وہ مُردوں کا نہیں لیکن زندوں کا خُدا ہے۔"
33 ہُجوم حُضُور کی یہ تعلیم سُن کر حیران رہ گیٔے۔