3 کیونکہ زانیہ کے لبوں سے شہد ٹپکتا ہے،
اَور اُس کی باتیں تیل سے بھی زِیادہ چکنی ہوتی ہیں؛
4 لیکن آخِر میں اُن کا مزا پِت کی مانند کڑوا ثابت ہوتاہے،
اَور دو دھاری تلوار کی مانند تیز۔
5 اُس کے پاؤں موت کی طرف بڑھتے ہیں؛
اَور اُس کے قدم پاتال تک لے جاتے ہیں۔
6 وہ راہِ زندگی کا کویٔی خیال نہیں کرتی؛
اُسے خبر تک نہیں کہ اُس کے راستے ٹیڑھے ہیں۔
7 اِس لیٔے اَے میرے بیٹو! میری سُنو؛
اَور مَیں جو کہُوں اُس سے برگشتہ نہ ہو۔
8 اَیسی راہ پر چلو جو اَیسی عورت سے دُورہو،
اَور اُس کے گھر کے دروازہ کے پاس بھی نہ جانا،
9 کہیں اَیسا نہ ہو کہ تُم اَپنی عزّت دُوسروں کے حوالہ کر دو
اَور اَپنے سال کسی ظالِم کو دے دو،