14 اِس پر وہ پھر رونے لگیں۔ تَب عرفہؔ نے اَپنی ساس کو چُوما اَور اُسے اَلوِداع کہا، لیکن رُوتؔ اُس سے لپٹ گئی۔
15 نعومیؔ نے کہا: "دیکھو تمہاری جٹھانی اَپنے لوگوں اَور اَپنے معبُودوں کے پاس لَوٹ رہی ہے۔ تُم بھی اُس کے ساتھ چلی جاؤ۔"
16 لیکن رُوتؔ نے کہا: "تُم اِصرار نہ کر کہ مَیں تُجھے چھوڑ دُوں یا تُجھ سے بھاگ کر دُور چلی جاؤں۔ جہاں تُم جاؤگی میں بھی وہاں چلُوں گی اَور جہاں تُم رہوگی میں بھی وہیں رہُوں گی۔ تمہارے لوگ میرے لوگ ہوں گے اَور تمہارا خُدا میرا خُدا ہوگا۔ 17 جہاں تُم مَروگی میں بھی وہیں مروں گی، اَور وہیں دفن ہو جاؤں گی۔ اگر موت کے سِوا کویٔی اَور چیز مُجھے تُجھ سے جُدا کرے تو یَاہوِہ مُجھ سے اَیسا ہی بَلکہ اِس سے بھی زِیادہ سختی سے پیش آئے۔"