8 نعومیؔ نے اَپنی بہوؤں سے کہا: "تُم دونوں اَپنے اَپنے میکے لَوٹ جاؤ۔ جَیسے تُم اَپنے مرحُوم شوہروں اَور مُجھ سے مہربانی سے پیش آئیں وَیسے ہی یَاہوِہ تُم پر بھی مہربان ہو۔ 9 یَاہوِہ کرے کہ تُم پھر سے بیاہ کر لو اَور اَپنے اَپنے خَاوند کے گھر میں راحت پاؤ۔"
تَب اُس نے اُنہیں چُوما اَور وہ زار زار رونے لگیں۔ 10 اَور اُس سے کہا، "ہم تو تمہارے ساتھ لَوٹ کر تمہارے ہی لوگوں میں جایٔیں گی۔"
11 لیکن نعومیؔ نے کہا: "میری بیٹیو! تُم اَپنے اَپنے گھر لَوٹ جاؤ۔ تُم میرے ساتھ کیوں آئیں گے؟ کیا میرے اَور بیٹے ہونے والے ہیں جو تمہارے خَاوند بَن سکیں؟ 12 جاؤ، گھر لَوٹ جاؤ اَے میری بیٹیو! اَب مَیں اُتنی بُوڑھی ہو چُکی ہُوں کہ دُوسرا خَاوند نہیں کر سکتی۔ اگر مَیں یہ سوچنے لگوں کہ میرے لیٔے اَب بھی اُمّید باقی ہے اَور اگر آج میرا خَاوند ہوتا اَور مَیں بھی بیٹے جنتی۔ 13 تو کیا تُم اُن کے جَوان ہونے تک اِنتظار کرتیں؟ کیا تُم اُن کی خاطِر غَیر شادی شُدہ رہتیں؟ نہیں میری بیٹیو! اَیسا سوچنا میرے لیٔے بہ نِسبت تمہارے زِیادہ تلخ ہے کیونکہ یَاہوِہ کا ہاتھ میرے خِلاف اُٹھ چُکاہے!"
14 اِس پر وہ پھر رونے لگیں۔ تَب عرفہؔ نے اَپنی ساس کو چُوما اَور اُسے اَلوِداع کہا، لیکن رُوتؔ اُس سے لپٹ گئی۔