3 اُن بیواؤں کی مدد کر کے اُن کی عزت کریں جو واقعی ضرورت مند ہیں۔ 4 اگر کسی بیوہ کے بچے یا پوتے نواسے ہوں تو اُس کی مدد کرنا اُن ہی کا فرض ہے۔ ہاں، وہ سیکھیں کہ خدا ترس ہونے کا پہلا فرض یہ ہے کہ ہم اپنے گھر والوں کی فکر کریں اور یوں اپنے ماں باپ، دادا دادی اور نانا نانی کو وہ کچھ واپس کریں جو ہمیں اُن سے ملا ہے، کیونکہ ایسا عمل اللہ کو پسند ہے۔ 8 کیونکہ اگر کوئی اپنوں اور خاص کر اپنے گھر والوں کی فکر نہ کرے تو اُس نے اپنے ایمان کا انکار کر دیا۔ ایسا شخص غیرایمان داروں سے بدتر ہے۔
16 لیکن جس ایمان دار عورت کے خاندان میں بیوائیں ہیں اُس کا فرض ہے کہ وہ اُن کی مدد کرے تاکہ وہ خدا کی جماعت کے لئے بوجھ نہ بنیں۔ ورنہ جماعت اُن بیواؤں کی صحیح مدد نہیں کر سکے گی جو واقعی ضرورت مند ہیں۔