4 لیکن اُس نے ہماری ہی بیماریاں اُٹھا لیں، ہمارا ہی دُکھ بھگت لیا۔ توبھی ہم سمجھے کہ یہ اُس کی مناسب سزا ہے، کہ اللہ نے خود اُسے مار کر خاک میں ملا دیا ہے۔ 5 لیکن اُسے ہمارے ہی جرائم کے سبب سے چھیدا گیا، ہمارے ہی گناہوں کی خاطر کچلا گیا۔ اُسے سزا ملی تاکہ ہمیں سلامتی حاصل ہو، اور اُسی کے زخموں سے ہمیں شفا ملی۔ 6 ہم سب بھیڑبکریوں کی طرح آوارہ پھر رہے تھے، ہر ایک نے اپنی اپنی راہ اختیار کی۔ لیکن رب نے اُسے ہم سب کے قصور کا نشانہ بنایا۔
11 اِتنی تکلیف برداشت کرنے کے بعد اُسے پھل نظر آئے گا، اور وہ سیر ہو جائے گا۔ اپنے علم سے میرا راست خادم بہتوں کا انصاف قائم کرے گا، کیونکہ وہ اُن کے گناہوں کو اپنے اوپر اُٹھا کر دُور کر دے گا۔
12 اِس لئے مَیں اُسے بڑوں میں حصہ دوں گا، اور وہ زورآوروں کے ساتھ لُوٹ کا مال تقسیم کرے گا۔ کیونکہ اُس نے اپنی جان کو موت کے حوالے کر دیا، اور اُسے مجرموں میں شمار کیا گیا۔ ہاں، اُس نے بہتوں کا گناہ اُٹھا کر دُور کر دیا اور مجرموں کی شفاعت کی۔