10 حنّہؔ کا دِل دُکھ سے بھرا ہُوا تھا۔ وہ رو رو کر یَاہوِہ سے دعا کرنے لگی 11 اَور اُس نے یہ کہتے ہُوئے مَنّت مانی، "اَے قادرمُطلق یَاہوِہ! اگر آپ اَپنی خادِمہ کی خستہ حالت پر نظر عنایت کریں اَور اُسے فراموش نہ کریں بَلکہ یاد رکھیں اَور اُسے ایک بیٹا بخشیں تو میں اُسے زندگی بھرکے لیٔے یَاہوِہ کی نذر کر دوں گی اَور اُس کے سَر پر کبھی اُسترا نہ پھرے گا۔"
15 حنّہؔ نے جَواب دیا، "اَیسا نہیں ہے میرے آقا، میں تو ایک غمزدہ عورت ہُوں۔ مَیں نے مَے یا کویٔی اَور نشہ آور شَے نہیں پی ہے۔ بَلکہ میں تو یَاہوِہ کے آگے اَپنے دِل کا غم کو بَیان کر رہی تھی۔
17 تَب عیلیؔ نے جَواب دیا، "سلامتی سے رخصت ہو اَور اِسرائیل کا خُدا تمہاری وہ مُراد پُوری کریں جِس کے لیٔے تُم نے اُن سے دعا کی ہے۔"
20 لہٰذا حنّہؔ حاملہ ہُوئی اَور وقت پُورا ہونے پر اُس کے بیٹا پیدا ہُوا۔ اُس نے یہ کہتے ہُوئے، "مَیں نے اُسے یَاہوِہ سے مانگا ہے اُس کا نام شموایلؔ1:20 شموایلؔیعنی خُدا نے سُنا رکھا۔"