5 لیکن حنّہؔ کو وہ دُگنا حِصّہ دیتا تھا کیونکہ وہ اُس سے مَحَبّت کرتا تھا، لیکن یَاہوِہ نے اُس کا رحم بند رکھا تھا۔ 8 اُس کا خَاوند اِلقانہؔ اُسے کہتا، "حنّہؔ تُم کیوں رو رہی ہے؟ تُم کھانا کیوں نہیں کھاتی؟ تُم غمگین کیوں ہو؟ کیا مَیں تمہارے لیٔے دس بیٹوں سے بڑھ کر نہیں ہُوں؟"
11 اَور اُس نے یہ کہتے ہُوئے مَنّت مانی، "اَے قادرمُطلق یَاہوِہ! اگر آپ اَپنی خادِمہ کی خستہ حالت پر نظر عنایت کریں اَور اُسے فراموش نہ کریں بَلکہ یاد رکھیں اَور اُسے ایک بیٹا بخشیں تو میں اُسے زندگی بھرکے لیٔے یَاہوِہ کی نذر کر دوں گی اَور اُس کے سَر پر کبھی اُسترا نہ پھرے گا۔"
23 اَور اُس کے خَاوند اِلقانہؔ نے اُس سے کہا، "تُجھے جو اَچھّا لگے وُہی کرنا۔ اُس بچّہ کا دُودھ چھُڑانے تک گھر ہی میں رہ۔ فقط اِتنا ہو کہ یَاہوِہ اَپنے قول کو برقرار رکھیں۔" لہٰذا وہ عورت گھر میں ہی رہی۔ اَور جَب تک بیٹے نے دُودھ پینا نہیں چھوڑا وہ اُسے پلاتی رہی۔
27 مَیں نے اِس بچّہ کے لیٔے دعا کی اَور یَاہوِہ نے میری مُراد جو مَیں نے اُس سے مانگی تھی پُوری کر دی۔ 28 لہٰذا اَب مَیں اُسے یَاہوِہ کو نذر کرتی ہُوں، یعنی اُسے زندگی بھرکے لیٔے یَاہوِہ کو دے دیا جائے گا۔" اَور وہاں اُن سبھی نے یَاہوِہ کو سَجدہ کیا۔