عیلیؔ کے بدکار بیٹے
12 عیلیؔ کے بیٹے بڑے بدکار تھے۔ نہ ہی اُن کے لیٔے یَاہوِہ کے اِختیار کی کوئی اہمیّت تھی۔
22 اَور عیلیؔ نے جو بہت عمر رسیدہ تھا اُن تمام باتوں کو سُنا جو اُس کے بیٹے سارے اِسرائیل کے ساتھ کیا کرتے تھے اَور کیسے وہ اُن عورتوں کے ساتھ جو خیمہ اِجتماع کے دروازے پر خدمت کرتی تھیں بدکاری کیا کرتے تھے۔ 23 لہٰذا اُس نے اُنہیں کہا، "تُم اَیسے کام کیوں کرتے ہو؟ مَیں تمہارے اِن بُرے کاموں کے متعلّق سارے لوگوں سے سُنتا ہُوں۔ 24 نہیں، بیٹو! یہ اَچھّی بات نہیں جسے مَیں یَاہوِہ کے لوگوں کے درمیان پھیلتے سُن رہا ہُوں 25 اگر کویٔی آدمی کسی دُوسرے آدمی کا گُناہ کرے تو خُدا اُن میں ثالثی کر سَکتا ہے لیکن اگر کویٔی شخص یَاہوِہ کا گُناہ کرے تو اُس کی شفاعت کون کرےگا؟" لیکن اُس کے بیٹوں نے اَپنے باپ کی ڈانٹ ڈپٹ کی پروا نہ کی کیونکہ یَاہوِہ کی یہی مرضی تھی کہ وہ مار ڈالے جایٔیں۔
29 پس تُم میری اُن قُربانیوں اَور نذروں کی جو مَیں نے اَپنے قِیام کے لیٔے مُقرّر کی ہیں تحقیر کیوں کرتے ہو؟ تیرے بیٹے میری قوم اِسرائیل کے ہر ہدیہ کے عُمدہ سے عُمدہ حِصّوں کو کھا کر اَپنے آپ کو موٹا کرتے ہیں۔ تُم اَپنے بیٹوں کو مُجھ سے زِیادہ عزّت کیوں دیتاہے؟‘