داویؔد کا گاتؔھ چلے جانا
10 اُسی دِن داویؔد شاؤل کے ڈر سے بھاگ کر گاتؔھ کے بادشاہ اکِیشؔ کے پاس چلا گیا۔ 11 لیکن اکِیشؔ کے خادِموں نے اُس سے کہا، "کیا یہ مُلک کا بادشاہ داویؔد نہیں؟ کیا یہ وُہی نہیں جِس کے متعلّق وہ رقص کرتے ہُوئے گاتے ہیں:
" ’شاؤل نے تو ہزاروں کو مارا ہے
پر داویؔد نے دس ہزار کو مارا ہے‘؟"
12 داویؔد یہ الفاظ سُن کر پریشان ہو گیا اَور اُس کے دِل میں اکِیشؔ شاہِ گاتؔھ کی طرف سے خوف بیٹھ گیا۔ 13 لہٰذا اُس نے اُن کی مَوجُودگی میں پاگل پن کا ڈھونگ رچایا اَور جَب وہ اُن کے ہاتھوں میں تھا تو اُس نے دیوانوں کی سِی حرکتیں شروع کر دیں۔ مثلاً وہ پھاٹک کے کواڑوں کو نوچنے لگا اَور تھُوک سے اَپنی داڑھی کو تر کر لیا۔
14 تَب اکِیشؔ نے اَپنے خادِموں سے کہا، "اِس آدمی کی طرف دیکھو! یہ تو پاگل ہے! اِسے میرے پاس کیوں لایٔے ہو؟ 15 کیا میرے پاس پاگلوں کی کمی ہے جو تُم اِس شخص کو یہاں لے آئے ہو کہ میرے سامنے اَیسی حرکتیں کرے؟ کیا یہ آدمی میرے گھر میں قدم رکھنے کے لائق تھا؟"