2 مُوآبی رُوتؔ نے نعومیؔ سے کہا: "مُجھے اِجازت دے کہ میں کھیتوں میں جاؤں اَور جِس کسی کی بھی مُجھ پر نظرِ عنایت ہو اُس کے پیچھے پیچھے گری ہوئی بالیں چُننے لگوں۔"
نعومیؔ نے اُس سے کہا: "جا میری بیٹی۔"
11 بُوعزؔ نے کہا: "تُم نے اَپنے خَاوند کی موت کے بعد اَپنی ساس کے ساتھ جو سلُوک کیا وہ مُجھے اَچھّی طرح مَعلُوم ہے اَور مَیں یہ بھی جانتا ہُوں کہ تُم کس طرح اَپنے ماں باپ اَور اَپنے وطن کو چھوڑکر اُن لوگوں کے درمیان رہنے کو آئی جنہیں تُم پہلے جانتی بھی نہ تھی۔ 12 یَاہوِہ تُجھے تیرے نیک اعمال کا صِلہ دے اَور اِسرائیل کا خُدا جِس کے سایہ میں تُم پناہ لینے آئی ہے تُجھے اَپنی بخششوں سے مالا مال کر دے۔"