23 پھر اُس نے قریب آ کر اُس سے بات کی، "کیا تُو راست بازوں کو بھی شریروں کے ساتھ تباہ کر دے گا؟ 24 ہو سکتا ہے کہ شہر میں 50 راست باز ہوں۔ کیا تُو پھر بھی شہر کو برباد کر دے گا اور اُسے اُن 50 کے سبب سے معاف نہیں کرے گا؟ 25 یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تُو بےقصوروں کو شریروں کے ساتھ ہلاک کر دے؟ یہ تو ناممکن ہے کہ تُو نیک اور شریر لوگوں سے ایک جیسا سلوک کرے۔ کیا لازم نہیں کہ پوری دنیا کا منصف انصاف کرے؟"
26 رب نے جواب دیا، "اگر مجھے شہر میں 50 راست باز مل جائیں تو اُن کے سبب سے تمام کو معاف کر دوں گا۔"
32 ابراہیم نے ایک آخری دفعہ بات کی، "رب غصہ نہ کرے اگر مَیں ایک اَور بار بات کروں۔ شاید اُس میں صرف 10 پائے جائیں۔" رب نے کہا، "مَیں اُسے اُن 10 لوگوں کے سبب سے بھی برباد نہیں کروں گا۔"
33 اِن باتوں کے بعد رب چلا گیا اور ابراہیم اپنے گھر کو لوٹ آیا۔