بےوفائی کے باوجود اللہ کی شفقت
1 رب فرماتا ہے، "اسرائیل ابھی لڑکا تھا جب مَیں نے اُسے پیار کیا، جب مَیں نے اپنے بیٹے کو مصر سے بُلایا۔ 2 لیکن بعد میں جتنا ہی مَیں اُنہیں بُلاتا رہا اُتنا ہی وہ مجھ سے دُور ہوتے گئے۔ وہ بعل دیوتاؤں کے لئے جانور چڑھانے، بُتوں کے لئے بخور جلانے لگے۔ 3 مَیں نے خود اسرائیل کو چلنے کی تربیت دی، بار بار اُنہیں گود میں اُٹھا کر لئے پھرا۔ لیکن وہ نہ سمجھے کہ مَیں ہی اُنہیں شفا دینے والا ہوں۔ 4 مَیں اُنہیں کھینچتا رہا، لیکن ایسے رسّوں سے نہیں جو انسان برداشت نہ کر سکے بلکہ شفقت بھرے رسّوں سے۔ مَیں نے اُن کے گلے پر کا جوا ہلکا کر دیا اور نرمی سے اُنہیں خوراک کھلائی۔
8 اے اسرائیل، مَیں تجھے کس طرح چھوڑ سکتا ہوں؟ مَیں تجھے کس طرح دشمن کے حوالے کر سکتا، کس طرح ادمہ کی طرح دوسروں کے قبضے میں چھوڑ سکتا، کس طرح ضبوئیم کی طرح تباہ کر سکتا ہوں؟ میرا ارادہ سراسر بدل گیا ہے، مَیں تجھ پر شفقت کرنے کے لئے بےچین ہوں۔ 9 نہ مَیں اپنا سخت غضب نازل کروں گا، نہ دوبارہ اسرائیل کو برباد کروں گا۔ کیونکہ مَیں انسان نہیں بلکہ خدا ہوں، وہ قدوس جو تیرے درمیان سکونت کرتا ہے۔ مَیں غضب میں نہیں آؤں گا۔