20 تَب اُس نے پُکارا، "اَے شِمشُونؔ فلسطینی تُجھ پر چڑھ آئے ہیں!"
وہ اَپنی نیند سے جاگ اُٹھا اَور سوچا، "میں باہر جا کر ایک ہی جھٹکے سے پہلے کی طرح چُست ہو جاؤں گا۔" لیکن اُسے مَعلُوم نہ تھا کہ یَاہوِہ نے اُسے جُدا ہو چُکاہے۔
22 لیکن اُس کے سَر کے بال مونڈے جانے کے بعد پھر سے بڑھنے لگے۔
28 تَب شِمشُونؔ نے خُداوؔند سے دعا کی، "اَے یَاہوِہ قادر مُجھے یاد فرما۔ اَے خُدا! صِرف ایک بار مُجھے طاقت بخش تاکہ میں ایک ہی کوشش میں فلسطینیوں سے اَپنی دونوں آنکھوں کا بدلہ لے سکوں۔"