شِمشُونؔ کی موت
23 تَب فلسطینیوں کے سردار اَپنے معبُود دگونؔ کو بڑی قُربانی گذراننے اَور جَشن منانے کے لیٔے یہ کہتے ہُوئے اِکٹھّے ہُوئے، "ہمارے معبُود نے ہمارے دُشمن شِمشُونؔ کو ہمارے ہاتھ میں کر دیا ہے۔"
24 جَب لوگ اُسے دیکھتے تَب اَپنے معبُود کی تمجید کرتے ہُوئے کہتے،
"ہمارے معبُود نے ہمارے دُشمن کو
ہمارے ہاتھ میں کر دیا ہے،
جِس نے ہمارے مُلک کو تاراج کیا
اَور ہمارے کیٔی لوگوں کو قتل کر ڈالا۔"
25 جَب اُن کی خُوشی کی اِنتہا نہ رہی تو وہ چِلّا چِلّاکر کہنے لگے، "شِمشُونؔ کو باہر لے آؤ۔" تاکہ وہ تماشا کرے اَور ہمارا دِل بہلائے۔ چنانچہ اُنہُوں نے شِمشُونؔ کو قَیدخانہ سے بُلوایا اَور وہ اُن کے لیٔے کھیل تماشا کرنے لگا۔
اَور جَب اُنہُوں نے اُسے دو سُتونوں کے درمیان کھڑا کیا، 26 تو شِمشُونؔ نے اُس خادِم سے جو اُس کا ہاتھ پکڑے ہُوئے تھا کہا، "مُجھے اُن سُتونوں کے پاس لے چل جِن پر یہ مَندِر قائِم ہے تاکہ میں اُن کا سہارا لے کر کھڑا رہُوں۔" 27 وہ مَندِر مَرد اَور عورتوں کے ہُجوم سے کھچاکھچ بھرا ہُوا تھا اَور فلسطینیوں کے سَب سردار وہاں تھے اَور اُس کی چھت پر تقریباً تین ہزار مَرد اَور عورت تھے جو شِمشُونؔ کا تماشا دیکھ رہے تھے۔