4 اُن کے بیٹے اَپنے دستور کے مُطابق اَپنی باری باری سے اَپنے اَپنے گھروں میں ضیافت کیا کرتے تھے اَور اَپنی تینوں بہنوں کو بھی دعوت دیتے تھے تاکہ وہ بھی اُن کے ساتھ دسترخوان پر شریک ہُوں۔ 5 جَب ضیافت کا دَور پُورا ہو جاتا تھا تو ایُّوب اُنہیں بُلاتے اَور اُن کی طہارت کے بعد صُبح کو سویرے اُٹھ کر ہی اُن سَب کے لیٔے سوختنی نذر پیش کرتے تھے کیونکہ وہ سوچتے تھے، "شاید میرے بچّوں سے کویٔی خطا ہویٔی ہو، اَور اُنہُوں نے اَپنے دِل میں خُدا کی تکفیر کی ہو۔" اَیسا کرنا ایُّوب کا دستور بَن گیا تھا۔
18 وہ ابھی یہ کہہ ہی رہاتھا کہ ایک اَور قاصِد آیا اَور کہنے لگا، "آپ کے بیٹے اَور بیٹیاں اَپنے بڑے بھایٔی کے گھر میں ضیافت کر رہے تھے اَور انگوری شِیرہ نوشی میں مصروف تھے، 19 کہ اَچانک بیابان کی جانِب سے ایک زوردار آندھی آئی اَور مکان کے چاروں کونوں سے یُوں ٹکرائی کہ وہ اُن جَوانوں پر گِر پڑا اَور سَب مَر گیٔے۔ صِرف میں ہی اکیلا بچ نِکلا تاکہ آپ کو خبر دُوں۔"