شموایلؔ کا داویؔد کو مَسح کرنا
1 یَاہوِہ نے شموایلؔ سے کہا، "چونکہ مَیں نے شاؤل کو بطور اِسرائیل کے بادشاہ کے ردّ کر دیا ہے، تُو کب تک اُس کے لیٔے افسوس کرتا رہے گا؟ تُو اَپنے سینگ میں تیل بھر اَور اَپنی راہ لے۔ مَیں تُجھے بیت لحمؔ کے یِشائی کے پاس بھیج رہا ہُوں کیونکہ مَیں نے اُس کے بیٹوں میں سے ایک کو بادشاہ ہونے کے لیٔے چُن لیا ہے۔"
11 پھر اُس نے یِشائی سے پُوچھا، "تیرے سَب بیٹے یہی ہیں؟"
"سَب سے چھوٹا ایک اَور بھی ہے لیکن وہ بھیڑوں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔" یِشائی نے جَواب دیا۔
شموایلؔ نے کہا، "اُسے بُلوا اَور جَب تک وہ نہ آ جائے ہم نہیں بیٹھیں گے۔"
12 سو وہ اُسے بُلوا کر اَندر لایا۔ وہ سُرخ رو، خُوبصورت اَور حسین تھا۔
تَب یَاہوِہ نے فرمایا، "اُٹھ اَور اُسے مَسح کر کیونکہ وہ یہی ہے۔"
13 پس شموایلؔ نے تیل کا سینگ لیا اَور اُسے اُس کے بھائیوں کی مَوجُودگی میں مَسح کیا۔ اَور اُس دِن سے یَاہوِہ کا رُوح داویؔد پر شِدّت سے نازل ہونے لگا۔ پھر شموایلؔ رامہؔ کو چلےگئے۔